یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی افواج نے جمعے کو مغربی بندرگاہی شہر حدیدہ میں حوثیوں کے فوجی مقامات پر فضائی حملے کیے۔
اتحاد کے مطابق یہ کارروائی بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر کہا: ’ہم نے حدیدہ گورنری میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کے جائز فوجی اہداف کے خلاف مناسب پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی کی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت کیے گئے جب حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ ان سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے جو ان کی سمندری ناکہ بندی کی پابندی نہیں کریں گے۔ حوثیوں نے اس ہفتے سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملوں کا دعویI بھی کیا تھا۔ سعودی عرب نے ان میں سے ایک حملے کی تصدیق کی۔
یمن کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ حدیدہ میں ایک بحری اڈہ اور جزیرہ کمران میں ایک فوجی کیمپ بھی نشانہ بنائے گئے۔
حوثیوں کے زیر انتظام یمنی وزارت خارجہ نے جمعے کہا کہ یہ حملے ’کشیدگی‘ کے ایک مرحلے کا آغاز ہیں۔
حدیدہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے دھماکوں کی آوازیں سنیں، جن میں بندرگاہ کے قریب ہونے والے دھماکے بھی شامل تھے۔
حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹیلی وژن نے بتایا کہ دو افراد زخمی ہوئے، جن میں حدیدہ شہر کا ایک کارکن اور جزیرہ کمران کی ایک خاتون شامل ہیں۔
ترکی المالکی نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ حدیدہ کی بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور حدیدہ، راس عیسیٰ اور سلیف سمیت یمن کی تمام بندرگاہیں بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں اور تجارتی جہاز وہاں آ رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی ہوائی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا تاکہ فضائی آمدورفت جاری رکھی جا سکے، تاہم انہوں نے حوثیوں پر الزام لگایا کہ وہ صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پروازوں کی اجازت نہیں دے رہے۔
سعودی اتحاد نے کہا کہ وہ اپنے بحری جہازوں اور سعودی عرب کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ اتحاد نے یہ بھی کہا کہ اگر حوثیوں نے ایسی کارروائیاں جاری رکھیں جنہیں اتحاد نے دشمنانہ قرار دیا ہے تو ان کا ’بلا رعایت‘ جواب دیا جائے گا۔
کشیدگی میں یہ اضافہ کئی برسوں میں اتحاد کی افواج اور حوثیوں کے درمیان فائرنگ کا پہلا رپورٹ ہونے والا تبادلہ تھا۔ اس سے اس نازک جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جو باقاعدہ مدت ختم ہونے کے باوجود 2022 سے بڑی حد تک برقرار ہے۔
جمعے کو سعودی سرکاری میڈیا نے ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی ملکیت والے بحری جہاز این سی سی ماسا کو بحیرہ احمر میں سفر کے دوران نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے بیرونی ڈھانچے کو معمولی نقصان پہنچا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جہاز نے اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔
کشیدگی میں تازہ اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث دنیا میں تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر کے راستے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل اور مئی میں سعودی عرب کا تمام خام تیل سمندری راستے سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے برآمد کیا گیا۔ جون میں سمندری راستے سے خام تیل کی 92 فیصد برآمدات اور جولائی میں اب تک 78 فیصد برآمدات اسی بندرگاہ سے کی گئیں۔
حوثی 2014 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس تنازعے میں لاکھوں افراد مارے جا چکے ہیں۔
یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے کہا کہ مملکت کشیدگی کم کرنے اور ’ایک جامع سیاسی حل کے ذریعے یمنی عوام کی مشکلات ختم کرنے‘ کی تمام کوششوں کی حمایت اور ان کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بظاہر ایران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا ’غیر ملکی مقاصد‘ کی خاطر کشیدگی اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر قائم ہے۔
محمد آل جابر نے ایکس پر کئی پوسٹس میں کہا: ’اس ملیشیا نے یمن کو بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں سودے بازی کا ذریعہ بنا دیا ہے، جسے وہ یمن کی سکیورٹی اور استحکام کی قیمت پر اپنے مفادات کے لیے جب چاہیں استعمال کرتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب یمنی عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جہازوں کو حدیدہ کی بندرگاہوں میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی حمایت کرتا ہے، لیکن ’حوثی ملیشیا بحیرہ احمر میں عام تجارتی جہازوں پر بزدلانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور خطے کی سکیورٹی خطرے میں پڑ رہی ہے۔‘
یمنی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے ہفتے کو کہا کہ حوثی یمنی عوام کے مفادات داؤ پر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی مسلسل بڑھانا ’وقت کا ضیاع‘ اور ملک کے وسائل کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا: ’دہشت گرد حوثی ملیشیا ایران کے مقاصد پورے کرنے کے لیے یمنی عوام کے مفادات داؤ پر لگا رہی ہے۔‘
