وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو کہا ہے کہ وفاقی حکومت ملک کے تمام صوبوں کی یکساں ترقی کے لیے پُرعزم ہے اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے اضافی مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بھی بلوچستان کی ترقیاتی ضروریات کو تسلیم کیا گیا تھا، جس میں تمام صوبوں، خصوصاً پنجاب، نے اپنا کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اب تک اس مقصد کے لیے 150 ارب روپے کا حصہ ڈال چکا ہے اور وفاقی حکومت آئندہ بھی صوبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان میں 27 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ جاری ہے، جس کی مجموعی لاگت 75 ارب روپے ہے، جبکہ وفاقی حکومت اس میں 50 ارب روپے فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی۔چمن ایکسپریس وے تقریباً 300 ارب روپے کی لاگت سے آئندہ ڈیڑھ سے دو برس میں مکمل کر لیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ ان کے مطابق صوبے میں نو دانش سکول بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں آبی ذخائر کے منصوبوں کے لیے 368 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کچھی کینال منصوبے پر کام تیز کیا جائے گا اور تجویز دی کہ اس کا نام تبدیل کر کے پاکستان کینال رکھا جائے۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان عبوری حکومت پر بھی زور دیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو پاکستان میں کارروائیاں کرنے سے روکے، تاہم ان کے بقول افغان حکام اب تک اس سلسلے میں مؤثر اقدامات نہیں کر سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار اور گزشتہ سال مئی میں انڈیا کے خلاف حاصل ہونے والی فیصلہ کن کامیابی کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کا وقار نمایاں طور پر بڑھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔
