انڈیا: کشمیر کے بعد دہلی میں بھی مبینہ پیلٹ گنز کے استعمال نے نئے سوال اٹھا دیے

یہ سب چند ہی سیکنڈ میں ہو گیا۔ سینکڑوں پیلٹس نے شیخ ارشاد منصوری کے چہرے، گردن اور کندھے کو چھلنی کر دیا۔ 

جب جین زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان مظاہرین انڈیا کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی سڑکوں پر نکلے، مگر انہیں پولیس کی لاٹھی چارج، آنسو گیس اور بعض مقامات پر پیلٹ گنوں کا سامنا کرنا پڑا۔

منصوری کے جسم میں آج بھی ایک پیلٹ موجود ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ ان کی گردن کے قریب ایک اہم خون کی شریان کے انتہائی نزدیک پھنسا ہوا ہے، جسے محفوظ طریقے سے نکالنا ممکن نہیں، اور ممکن ہے کہ انہیں پوری زندگی اسی کے ساتھ گزارنی پڑے۔

25 سالہ منصوری کا کہنا ہے کہ وہ 20 جولائی کو ہزاروں مظاہرین کے ہمراہ انڈیا کی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے، جب ان پر مبینہ طور پر قریب سے پیلٹ گن سے فائر کیا گیا۔ یہ ایک متنازع ہتھیار ہے، جو ایک ہی فائر میں سیسے کی سینکڑوں چھوٹی گولیاں خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

منصوری ان چار افراد میں شامل ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پولیس کی سخت کارروائی کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہوئے۔ اس کریک ڈاؤن پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جا رہی ہے، کو روکنے میں یہ کارروائی ناکام رہی ہے۔

دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران پیلٹ گن استعمال کرنے کی تردید کرتے ہوئے اس دعوے کو ’جعلی خبر‘ قرار دیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز کے ایک دوسرے ادارے نے کہا ہے کہ ان اطلاعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

منصوری، جو دہلی کے قریب گروگرام میں ایک کثیر القومی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، نے بتایا کہ وہ اس روز ویزے سے متعلق ایک کام کے سلسلے میں تقریباً 45 کلومیٹر کا سفر طے کر کے قومی دارالحکومت آئے تھے اور راستے میں مختصر وقت کے لیے احتجاجی مارچ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

یہ مارچ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے بلایا گیا تھا، جو نوجوانوں کی قیادت میں قائم ایک تحریک ہے۔ یہ تحریک ایک ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج کر رہی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ دو ملین سے زیادہ طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچے کے مبینہ لیک کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔ رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد کم از کم 21 طلبہ نے خودکشی بھی کی۔

جب مظاہرین پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس اور نیم فوجی دستوں نے آنسو گیس کے شیل برسائے اور لاٹھی چارج کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق جھڑپوں میں 60 سے زائد مظاہرین اور 118 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

منصوری کے ایک دوست، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ سرجری کے بعد منصوری طویل گفتگو کرنے کی حالت میں نہیں تھے، اس لیے انہوں نے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔

دوست نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ منصوری جنتر منتر، جو احتجاج کا مرکزی مقام تھا، کے قریب مظاہرین کے ایک گروپ کے ساتھ موجود تھے، جب پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا، ’سب لوگ پُرامن انداز میں مارچ کر رہے تھے کہ اچانک پولیس نے آنسو گیس چلانا شروع کر دی۔ دھواں لوگوں کی آنکھوں اور گلے میں بھرنے لگا۔‘

ان کے مطابق، ’ارشاد آگے بڑھے اور سکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ وہ حملہ نہ کریں کیونکہ ہم صرف طلبہ ہیں، لیکن اسی دوران نیلی وردی میں ملبوس ایک اہلکار نے ان پر بندوق تان لی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے ایک اہلکار نے چند ہی لمحوں بعد منصوری پر فائر کر دیا۔

منصوری نے بتایا،’میرے جسم پر متعدد پیلٹس لگے اور آنکھوں کے قریب شدید جلن محسوس ہوئی۔ پیلٹس میری دائیں آنکھ کو چیرتے ہوئے گال اور ناک تک جا پہنچے۔ میرے منہ میں خون کا ذائقہ آنے لگا اور میرے جسم سے ہر طرف خون بہنے لگا۔‘

مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے منصوری، جو گروگرام میں اکیلے رہتے ہیں، کو دیگر مظاہرین ہسپتال لے گئے۔

انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سے کہا کہ وہ دہلی نہ آئیں کیونکہ دوست ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

ان کے دوست نے بتایا، ’ان کے جسم میں تین یا چار پیلٹس گہرائی تک پیوست ہو گئے تھے۔ ایک آنکھ کے قریب، دوسرا گردن میں، ایک ناک کے پاس جبکہ ایک سر پر لگا، تاہم سر والا زیادہ نقصان دہ ثابت نہیں ہوا۔‘

انہوں نے کہا، ’ابتدا میں ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ انہیں تین یا چار الگ الگ آپریشن کرنے پڑیں گے، لیکن مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں نے مشترکہ طور پر ایک ہی آپریشن میں تقریباً تمام پیلٹس نکال دیے۔ صرف ایک پیلٹ گردن میں رہ گیا کیونکہ وہ ایک انتہائی اہم خون کی شریان کے ساتھ موجود ہے، اس لیے ڈاکٹروں نے کہا کہ اسے چھیڑا نہیں جا سکتا۔‘

منصوری کو خدشہ ہے کہ انہیں یہ پیلٹ پوری زندگی اپنے جسم میں لیے پھرنا پڑے گا۔

ان کے دوست کے مطابق، ’ہم نے ڈاکٹروں سے پوچھا کہ اس پیلٹ کا کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ یہ ساری زندگی جسم میں ہی رہے گا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا وہ اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ اس سے مستقبل میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، مگر ان کا جواب تھا کہ وہ ایسی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے، صرف اتنا کہ پیلٹ مستقل طور پر وہیں رہے گا۔‘

پیلٹ گنوں کا استعمال پہلی مرتبہ 2010 میں متنازع ہمالیائی خطے کشمیر میں انڈیا مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے کیا گیا تھا۔ حکام نے اسے اس وقت’غیر مہلک ہجوم کنٹرول ہتھیار‘ قرار دیا تھا۔

2018 میں انڈین حکومت نے پارلیمنٹ میں تسلیم کیا تھا کہ اس سے قبل دو برسوں کے دوران کشمیر میں پیلٹ گنوں سے 17 افراد جان سے گئے تھے۔

حالیہ برسوں میں بھی 2024 کے کسان احتجاج کے دوران انڈین سکیورٹی فورسز پر پیلٹ گن استعمال کرنے کے الزامات لگے تھے، تاہم پولیس نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

جہاں منصوری زخمی ہوئے، اس سے کچھ ہی فاصلے پر ساحل لوچھب بھی ہاتھ میں انڈین پرچم اٹھائے مظاہرین کے ایک گروپ کی قیادت کر رہے تھے، جب وہ بھی اسی نوعیت کی فائرنگ میں زخمی ہوئے۔

20 سالہ دہلی یونیورسٹی کے طالب علم کے دوست شیوم ریڈی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ پیلٹ لگنے کے باعث لوچھب کی دائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

لوچھب خود پولیس میں شمولیت کے خواہش مند تھے اور رواں برس داخلہ امتحان بھی دے چکے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے لیے یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے کیونکہ مستقل بصری یا سماعتی معذوری کسی بھی شخص کو پولیس میں ملازمت کے لیے نااہل بنا سکتی ہے۔

ریڈی نے بتایا کہ لوچھب تقریباً 500 مظاہرین کے ایک گروپ کی قیادت کر رہے تھے جب سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے وہ زخمی ہوئے۔

ان کے بقول، ’وہ پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی طرف دوڑے تاکہ انہیں بتا سکیں کہ مظاہرین پُرامن ہیں اور ان پر حملہ نہ کیا جائے، لیکن غالباً پولیس نے انہیں خطرہ سمجھا اور براہِ راست نشانہ بنایا۔‘

انہوں نے کہا، ’ان پر پیلٹ گن سے فائر کیا گیا۔ پیلٹس بکھر گئے اور ان کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر لگے۔‘

ریڈی کے مطابق،’ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا ہے کہ ان کی آنکھ بچنے کا صرف ایک فیصد امکان ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ڈاکٹر نے بھی تصدیق کی ہے کہ لوچھب کی چوٹیں پیلٹ گن سے لگنے والی ہیں۔

لوچھب کو پہلے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا، پھر صفدر جنگ ہسپتال اور اس کے بعد ایک نجی ہسپتال لے جایا گیا، تاہم ان کی تشویش ناک حالت کے باعث کہیں بھی علاج ممکن نہ ہو سکا۔ ان کے دوست شیوم ریڈی نے بتایا، ’بعد ازاں ہم انہیں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) لے گئے، جہاں انہیں داخل کیا گیا اور ان کے جسم، حتیٰ کہ آنکھ سے بھی پیلٹس نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔‘

لوچھب کے دوستوں نے احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو تنظیم نے ان کی کوئی مدد کی اور نہ ہی ان کی خیریت دریافت کرنے کی زحمت کی۔

ریڈی نے کہا، ’ہم اپنے ملک کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے، لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کو کم از کم ساحل کی خیریت تو پوچھنی چاہیے تھی، جو شدید تکلیف میں ہے اور ممکن ہے کہ زندگی بھر کی معذوری کا سامنا کرے۔‘

انہوں نے لوچھب کے علاج اور بحالی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چندہ مہم بھی شروع کر دی ہے۔

ریڈی نے کہا، ’ہم عوام، حکومت اور سماجی کارکنوں سے ساحل کی مدد کی اپیل کرتے ہیں۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس کو ای میل کے ذریعے سوالات بھیجے، تاہم اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ فون پر رابطے کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔

ریپڈ ایکشن فورس، سنٹرل ریزرو پولیس فورس کا ہنگامہ آرائی پر قابو پانے والا خصوصی ونگ ہے، جو انڈیا کی سب سے بڑی نیم فوجی فورس سمجھی جاتی ہے۔

سنٹرل ریزرو پولیس فورس نے کہا ہے کہ طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

فورس کے ایک ترجمان نے جمعے کو انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں کہا، ’ہم پورے واقعے کے تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس مرحلے پر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔‘

دوسری جانب دہلی پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ان دعوؤں کو ’مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن‘ قرار دیا۔

پولیس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’دہلی پولیس کے پاس نہ پیلٹ گنیں موجود ہیں اور نہ ہی جاری احتجاج میں ان کا استعمال کیا گیا ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات شیئر یا پھیلانے سے گریز کریں۔‘

مارچ کے دوران پیلٹ لگنے والے دیگر دو افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان میں سے ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ آؤٹ لک میگزین کا رپورٹر ہے، جس کی کمر اور بازو پر پیلٹس لگے۔

انہوں نے اپنی میگزین کو بتایا، ’میں نے دیکھا کہ ایک سکیورٹی اہلکار نے ہجوم کی طرف بندوق اٹھائی، تو میں فوراً پیٹھ موڑ کر بھاگنے لگا۔ میں نے بندوق اپنی طرف تنی ہوئی دیکھی۔ اسی دوران میرے بیگ اور بازو پر کچھ آ کر لگا۔ اگر میں نہ مڑتا تو شاید یہ گولیاں میرے سینے یا چہرے پر لگتیں۔‘

بعد ازاں انہوں نے سکرول کو بتایا، ’لوگ پتھراؤ کر رہے تھے اور پولیس آنسو گیس کے شیل پھینک رہی تھی۔ پھر میں نے دیکھا کہ پیلٹ گنیں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔ ایک اہلکار نے مجھ پر پیلٹ گن تانی، میں فوراً مڑا اور دوڑ لگا دی، لیکن اس دوران میری کمر اور ہاتھ پر پیلٹس لگ گئے۔‘

سکرول کے مطابق سرکاری ہسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ان کے طبی نسخے میں درج ہے کہ ان کے جسم کے دائیں حصے پر 26 چھوٹے گول زخم موجود تھے، جو ’پیلٹس لگنے سے مطابقت رکھتے ہیں‘ اور ترچھے زاویے سے لگنے والے حملے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طبی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’زخم تقریباً 32 سینٹی میٹر × 12 سینٹی میٹر کے حصے پر پھیلے ہوئے ہیں، جن کے کنارے اندر کی جانب مڑے ہوئے ہیں، ہر سوراخ کے گرد خراش کے نشانات اور نیل موجود ہیں، جو پیلٹس کے جسم میں داخل ہونے سے مطابقت رکھتے ہیں۔‘

چوتھے زخمی شخص، جس کی چوٹوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔ آلٹ نیوز اور دی وائر کے مطابق انہیں معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔

طلبہ مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر پیلٹ گنوں کے استعمال پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

معروف ادیب امیتاو گھوش نے کہا، ’مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال پہلے کشمیر میں شروع ہوا تھا، اور اب یہی ہتھیار ملک کے دارالحکومت میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’امریکہ اور انڈیا کی حالیہ تاریخ کا ایک واضح سبق یہ ہے کہ جو حربے ابتدا میں سرحدی یا حاشیے کے علاقوں میں آزمائے جاتے ہیں، وہ بالآخر ملک کے مرکز میں بھی استعمال ہونے لگتے ہیں۔‘

مصنف اور انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے سوال اٹھایا، ’آخر ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں میں پیلٹ گنیں کس نے دیں؟ کیا سکیورٹی اداروں میں کسی کے ضمیر نے یہ سوال نہیں اٹھایا؟‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *