پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 45 جنرل نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں۔
یہ الیکشن اس سے قبل 27 جولائی کو ہونے تھے تاہم سکیورٹی صورت حال کے باعث اب انہیں مرحلہ وار کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترمیم شدہ شیڈول کے مطابق میرپور ڈویژن میں پولنگ پہلے سے مقررہ تاریخ 27 جولائی کو ہوگی جبکہ مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر ووٹنگ 2 اگست کو کروائی جائے گی۔ اسی طرح پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہوگی۔
کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر مطالبات میں پاکستان میں پناہ گزینوں کی 12 نشستیں ختم کرنے کا بڑا اور متنازع مطالبہ بھی شامل ہے۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ان نشستوں کا خاتمہ کشمیری ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کر دے گا۔
ویسے تو ہر بار انتخابات میں پناہ گزینوں کی ان نشستوں پر کشمیری پناہ گزین امیدوار ہی منتخب ہوتے ہیں، لیکن اس بار عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مطالبے پر انتخابات کے دوران امیدواروں اور ووٹرز کے درمیان یہ معاملہ بھی زیر بحث آ رہا ہے کہ پناہ گزینوں کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ درست ہے یا نہیں۔
ان مختص نشستوں کی جڑیں 1960 سے کشمیر میں نافذ انتخابی اصلاحات میں ہیں۔ ان انتظامات کو بعد ازاں 1964 اور 1970 میں مزید مضبوط بنایا گیا جبکہ 1974 کے عبوری کشمیری آئین میں انہیں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ ملک بھر میں پناہ گزین ووٹرز پر مشتمل یہ حلقے دور دراز شہروں پر مشتمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حلقوں کے امیدواروں کی انتخابی مہم بھی روایتی گہما گہمی سے بھرپور نہیں بلکہ افراد یا خاندانوں سے رابطوں پر ہی منحصر ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی مختص نشستوں پر کل ایک سو 26 امیدوار میدان میں مدمقابل ہیں۔
کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 12 نشتیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہیں۔ لاہور کی دو نشستوں سمیت آٹھ نشستیں پنجاب میں ہیں۔ اسی طرح سندھ میں دو جبکہ خیبر پختونخوا اور راولپنڈی میں ایک ایک نشست ہے۔
پناہ گزینوں کے یہ انتخابی حلقے شہروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جیسے لاہور کا حلقہ ایل اے 34 لاہور، قصور، ناروال اور ننکانہ صاحب میں مقیم کشمیری ووٹرز پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں کل رجسٹرد ووٹرز کی تعداد صرف چھ ہزار سات سو ہے۔
ان میں سے بھی ہر بار ووٹ ڈالنے کی شرح 40 فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔ اسی طرح کشمیری پناہ گزینوں کا حلقہ ایل اے 41 بھی لاہور، جھنگ اور بلوچستان میں مقیم ووٹرز پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں امیدوار زیادہ مہم جلسے جلوسوں کی بجائے ٹیلی فونک رابطوں یا گھر گھر جا کر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
لاہور میں مقیم کشمیری دیوان خاندان ایل اے 34 کی نشست پر پچھلے 30 سال سے جیت رہا ہے۔ اس بار صبا دیوان محی الدین بطور امیدوار حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پناہ گزین مختلف شہروں میں آباد ہوتے ہیں، جیسے لاہور میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ یہاں کبھی ووٹ ختم کروانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ ان لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش اور ان کی داد رسی کی جاتی ہے۔ دیوان صاحب کامیاب ہوئے تو انہوں نے فنڈز سے کالونی خریدی اور یہاں کے کشمیریوں کو تین ساڑھے تین سو مکان دیے۔ یہاں سے جیت کر ان لوگوں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘
صبا دیوان کے بقول: ’ہم چونکہ کشمیری ہیں، ہمیں کشمیریوں کے خون پر یہ نشستیں نہیں چاہییں۔ ایکشن کمیٹی کا سیٹیں ختم کرنے کا یہ ایک مطالبہ ہے جبکہ ان کے اور مطالبات بھی ہیں، لہذا ان سے بات کر کے ان کے جائز مطالبات تسلیم ہونے چاہییں۔ وہاں مسائل کا حل ضروری ہے، وہاں ہسپتالوں میں جدید مشینری نہ ہونے پر لوگوں کو در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ علاج کے لیے اسلام آباد یا دوسرے شہروں میں جانا پڑتا ہے۔ مظفر آباد میں وہ سہولتیں نہیں، تعلیم یافتہ لوگ ہونے کے باوجود پسماندہ علاقہ ہے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو نے اندرون لاہور کے کشمیری گیٹ جاکر وہاں کشمیریوں سے پناہ گزینوں کی نشستوں اور ان کے مسائل پر بات کی۔ یہاں قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں کشمیر سے آکر آباد ہونے والے کچھ خاندان موجود ہیں اور ان میں سے زیادہ تر محنت مشقت کرکے روزی کماتے ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے پناہ گزینوں کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کی کئی کشمیری پناہ گزینوں نے حمایت کی اور کئی اس کے خلاف ہیں۔
ایک کشمیری محمد اقبال نے کہا: ’ہر بار الیکشن آتے ہیں لیکن ہمارے مسائل کوئی حل نہیں کرتا۔ میری تعلیم میٹرک تک ہے لیکن میں کپڑے کی دکان پر پلے داری کرتا ہوں۔ میری بہنیں بھی پڑھی لکھی ہیں، کوئی روزگار نہیں۔‘
ایک اور کشمیری پناہ گزین اظہر رسول نے کہا کہ ’مہاجرین کی یہاں سے نشستیں ختم کر دیں لیکن کشمیر میں جو حکومت بنتی ہے وہ تو وہاں کے لوگوں کے مسائل حل کرے۔ وہاں مسائل بہت ہیں، روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ہم یہیں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہاں کے امیدواروں کو ووٹ تو دیتے ہیں لیکن وہ بھی ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔‘
کشمیری پناہ گزین طیب غنی کہتے ہیں کہ ’میں اور میری فیملی چھ سال پہلے لاہور منتقل ہوئے ہیں۔ پناہ گزینوں کی نشستیں ہونی چاہییں کیونکہ یہاں رہنے والے کشمیریوں کے مسائل تو یہیں کے نمائندے حل کر سکتے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے دیگر مطالبات پر غور ہونا چاہیے لیکن انہیں پناہ گزینوں کی 12 نشستیں ختم کروانے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔‘
کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر پاکستان بھر میں مجموعی طور پر چار لاکھ 38 ہزار سے زائد پناہ گزین کشمیری ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔
کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی جنرل نشستیں 33 کشمیر میں اور باقی 12 پاکستان کے دیگر حصوں میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان نشستوں کا کشمیر میں حکومت سازی اور قانون سازی میں فیصلہ کن کردار ہوتا ہے۔
