علاقائی صورت حال، دوطرفہ تجارت پر بات چیت کے لیے ایرانی وزیر داخلہ کا دورہ پاکستان

پاکستان کے دورے پر موجود ایرانی وزیر داخلہ  اسکندر مومنی نے پیر کو کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورت حال اور دوطرفہ تجارت کے فروغ پر اس دورے کے دوران بات چیت کی جائے گی۔

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی سے  پیر کو علاقائی صورت حال پر مذاکرات کے بعد ایران اور پاکستان نے اپنے دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اسکندر مومنی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ 10 سے جاری کشیدگی نے پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کی کوششوں کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اس صورت حال سے یہ اندیشہ بھی بڑھ گیا ہے کہ تنازع خطے کے دیگر علاقائی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔

دونوں ممالک حالیہ مہینوں میں تجارت بڑھانے کے لیے کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 3 ارب ڈالر ہے، جسے بڑھا کر 10 ارب ڈالر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔

اسکندر مومنی نے کہا کہ ’10 ارب ڈالر کی تجارت کے ہدف کے حصول کے لیے روزانہ اوسطاً تقریباً 2,000 ٹرک یا کنٹینرز دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کریں۔ فی الحال اس ہدف کا صرف 20 فیصد حاصل ہو رہا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے دونوں جانب سرحدی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ضروری ہے اور یہی معاملات مذاکرات کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق علاقائی پیش رفت بھی دورے کے دوران زیرِ بحث آئے گی۔

ایرانی وزیر داخلہ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آیا ہے، جس میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر، نائب وزیرِ داخلہ، نائب وزیر ٹرانسپورٹ و شہری ترقی اور نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزارت تیل، وزارت زراعت اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں تا کہ دونوں ممالک کے درمیان ان شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

اس دورے کے دوران اسکندر مومنی وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔

پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ جون میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر تنازعات پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوئے جہاں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور تنازعات کے حل کے طریقۂ کار پر 60 روزہ روڈ میپ منظور کیا گیا۔

تاہم حالیہ لڑائی اور ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد یہ سفارتی عمل دباؤ کا شکار ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور اسلام آباد بات چیت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اسلام آباد میں ایرانی وزیرِ داخلہ کے استقبال کے موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ ’امید ہے کہ اسکندر مومنی اپنے ساتھ اچھی خبریں لائے ہیں، اور میں علاقائی صورتحال میں بہتری کی بھی امید رکھتا ہوں۔‘

پاکستان مسلسل تمام فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دے رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وسیع تر علاقائی تصادم سے بچنے کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *