بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں میں حالیہ اضافے کے جواب میں، پاکستان فوج، فرنٹئیر کور اور بلوچستان پولیس نے ایک نئے مشترکہ ’آپریشن شعبان‘ کا آغاز کیا ہے۔ اس میں بلوچستان کے ناہموار پہاڑی علاقوں میں زمینی افواج اور فضائی حملے شامل ہیں۔
آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک بلوچستان بھر میں حکام کے مطابق مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کی شدت کو کم کرنے کے لیے عسکری آپریشنز ناگزیر ہیں، لیکن اس بدامنی کے شکار صوبے میں جدید ہتھیاروں سے لیس اور باوسائل غیر ریاستی گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے طرزِ حکومت میں بہتری وفاق اور صوبے کے تعلقات اور سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
بلوچستان کے بلوچ اور پشتون دونوں علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں میں حالیہ اضافہ تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال بالخصوص ایران اور افغانستان کے پس منظر میں ہوا ہے۔ افغان حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے دہشت گرد گروپوں کو دی جانے والی کھلی چھوٹ، انہیں بطور پراکسی استعمال کرنے اور ایران کے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام نے دہشت گرد گروپوں کے لیے بلوچستان میں اپنے قدم جمانے اور دہشت گردانہ مہم کو تیز کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔
بظاہر، بلوچستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی توجہ اور صلاحیتوں کو منتشر کرنے کے لیے ایک سوچی سمجھی مہم چلائی جا رہی ہے۔
اس تمام خلفشار کے پیچھے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کا گٹھ جوڑ سب کے سامنے عیاں ہے۔ اگرچہ یہ دونوں گروپ نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن وہ اپنے مشترکہ حریف اور روایتی طور پر برتر پاکستانی فوج کے خلاف سٹریٹجک اور لاجسٹک (امدادی) سطح پر تعاون کر رہے ہیں۔ یہ تعاون 2015 سے 2020 کے عرصے کے دوران افغانستان کے تربیتی کیمپوں میں ان کے ایک ساتھ رہنے کے وقت سے قائم ہے۔ اسی دور میں ٹی ٹی پی نے کے تربیت دینے والوں سے بی ایل اے نے خودکش بمباری کا طریقہ سیکھا تھا۔
یہ اشتراکِ عمل ایک ایسے عملی اور مفاداتی نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے جہاں بلوچ علیحدگی پسند گروپوں نے اپنے ہی علاقے میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وگرنہ، عام طور پر غیر ریاستی عسکریت پسند گروپ اپنے علاقوں کو لے کر بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور وہ اپنی نام نہاد آپریشنل حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی کسی بھی دوسری قوت کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
حافظ گل بہادر گروپ اور لشکرِ اسلام کے ساتھ ٹی ٹی پی کے قبائلی اور لسانی اختلافات، جن کے نتیجے میں بالاآخر اتحاد المجاہدین پاکستان کا قیام عمل میں آیا، اس کی واضح مثال ہیں۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ ممکنہ انضمام کے حوالے سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ان دونوں گروپوں نے حرکت انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر اتحاد تشکیل دیا تھا۔
بی ایل اے اورٹی ٹی پی کا یہ تعاون طویل عرصے سے جاری اس تنازع کے اہم کرداروں کے طور پر ان کی پختگی کی نشان دہی کرتا ہے، جنہوں نے یہ جان لیا ہے کہ میدان میں جمے رہنے اور طویل عمری کے لیے بین الجماعی اتحاد کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی گروپ جتنا زیادہ اتحادیوں کا حامل ہوتا ہے، وہ اتنی ہی طویل عمر پاتا ہے اور اتنا ہی زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹی ٹی پی نے بڑے حملے کیے بغیر بلوچستان کے پشتون علاقوں میں خاموشی سے اپنا اثر ورسوخ بڑھایا ہے۔ بلوچستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں کی حالیہ لہر کی جڑیں دو عوامل میں پیوست ہیں۔
پہلا افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے جواب میں کیے جانے والے پاکستانی فضائی حملوں کا ردِعمل ہے۔ اگرچہ ابتدا میں طالبان نے سرحدی جھڑپوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا، لیکن اب یہ مذہبی حکومت ٹی ٹی پی کو بطور پراکسی استعمال کر کے بھی بدلہ لے رہی ہے۔ یہ پورا طریقہ کار پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت دیتا ہے کہ ٹی ٹی پی طالبان کی ہی ایک پراکسی ہے اور طالبان حکومت کے تحت افغانستان ایک بار پھر علاقائی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا گڑھ بن رہا ہے۔
دوسرا منسلک لیکن الگ عامل، بلوچستان کے پشتون علاقوں میں سابق افغان نیشنل آرمی (افغان فوج) کے کارندوں کی موجودگی ہے۔ اپنے سابق حریفوں کی جانب سے طالبان مخالف مہم کے خوف سے، طالبان نے ٹی ٹی پی کو مسلح کیا ہے، فنڈز فراہم کیے ہیں، اور لاجسٹک مدد دی ہے تاکہ وہ ان ہی علاقوں میں اپنا دائرہ کار بڑھا سکے۔ حال ہی میں ہونے والی مسلح جھڑپیں — جن کی زد میں مقامی پشتون آبادی بھی آئی —دراصل سابق افغان نیشنل آرمی کے کارندوں اور ٹی ٹی پی کے درمیان تھیں۔
دوسری جانب، بی ایل اے اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند گروپ وسائل پر مبنی قوم پرستی کے تحفظات کی بنیاد پر پاکستانی ریاست کے خلاف معاشی جنگ میں مصروف ہیں۔ ان گروپوں نے خاص طور پر ضلع چاغی میں اپنی پروپیگنڈا جنگ اور دہشت گردانہ حملوں کو تیز کر دیا ہے، جہاں سیندک اور ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر واقع ہیں۔
اگرچہ چین گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے سیندک مائن چلا رہا ہے، لیکن ریکوڈک مائن نے — جس کے جلد فعال ہونے کا امکان ہے — امریکی سرمایہ کاروں کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔ ریکوڈک مائن کو کینیڈین کنسورشیم بیرک گولڈ چلا رہا ہے۔
بی ایل اے اور بلوچ لبریشن فرنٹ دونوں نے نہ صرف ان علاقوں میں کام کرنے والی مائننگ فرمز کو انتباہ جاری کیا ہے بلکہ ان کی سرگرمیوں کو مفلوج کرنے کے لیے ان پر حملے بھی کیے ہیں۔ گذشتہ دو سالوں میں، لاجسٹک سپلائی چین کو کمزور کرنے اور سیندک میں کان کنی کے آپریشنز کو درہم برہم کرنے کے لیے شاہراہوں اور ٹرانسپورٹ و تعمیراتی عملے پر حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
ایران میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال بھی بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا ایک سبب ہے۔ پاک – ایران سرحدی علاقہ دہشت گرد گروپوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ایک زرخیز زمین بن چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش، جمود کا شکار معیشتوں، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سرحد پار تجارت میں رکاوٹ کے باعث، بے روزگار بلوچ نوجوان ان گروپوں کے لیے آسان ہدف بن چکے ہیں۔ یہ گروپ سماجی و اقتصادی تحفظات اور سیاسی محرومیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں — جو علاقائی سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے مزید سنگین ہو چکی ہیں — اور ان غصے سے بھرے نوجوانوں کو اپنی دہشت گردانہ مہم میں کٹھ پتلیوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی بانی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا بھی بلوچستان میں علیحدگی پسندانہ تشدد میں حالیہ اضافے کے پیچھے ایک عنصر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ علیحدگی پسند گروپوں نے ان کی عمر قید کا بدلہ لینے کے لیے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن حالیہ برسوں میں گوادر اور اسلام آباد میں بی یو سی کی ریلیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سخت سلوک نے علیحدگی پسندوں کے انتقامی حملوں کو ہوا دی ہے۔
بظاہر، بلوچ علیحدگی پسند گروپوں نے کوئی بھی بیان جاری کرنے سے گریز کیا تاکہ پاکستانی ریاست کو ان (ماہ رنگ) کی سرگرمیوں کو اپنی مہم سے جوڑنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ ماضی میں ماہ رنگ کو بی ایل اے کا سیاسی چہرہ ہونے اور ان کے حملوں، خاص طور پر بلوچستان میں آباد نسلی پنجابیوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت نہ کرنے کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔
بلوچستان میں سکیورٹی کی صورت حال تیزی سے ابتر ہوتی جا رہی ہے اور پاکستان کو صوبے میں جدید ہتھیاروں سے لیس اور باوسائل دہشت گرد نیٹ ورکس کا مقابلہ کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو بہتر تربیت دینے اور مطلوبہ وسائل فراہم کر کے آپریشنل تیاریوں پر گہری توجہ دینی ہوگی۔ سٹریٹجک محاذ پر، پاکستان کو بہت احتیاط سے چلنا ہوگا اور ایک باریک توازن برقرار رکھنا ہوگا کیونکہ امریکہ – ایران جنگ نے ایک منفی رخ اختیار کر لیا ہے۔
سیاسی محاذ پر، ریاست کو وفاق نواز بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ دوبارہ رابطے استوار کرنے کی ضرورت ہے جن کی جڑیں عوام میں موجود ہیں، اور انہیں مرکزی دھارے کے میڈیا اور پارلیمنٹ دونوں میں مناسب جگہ فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ حقیقی تحفظات پر بات کر سکیں، اور ان کے ازالے کے لیے اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔
بلوچستان کے تنازع کی مکمل سنسرشپ اور وفاق نواز بلوچ قوم پرستوں کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے عسکریت پسند گروپوں کو سیاسی جگہ پر قبضہ کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔
مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

