دنیا کے سب سے بڑے ہیرے کہاں سے آئے؟

اب تک ملنے والے چند سب سے غیرمعمولی جواہرات، ہیروں کی ایک نایاب قسم سے تعلق رکھتے ہیں جسے کلپرز کہا جاتا ہے۔ کلپرز سے مراد (خام ہیرے جیسے، بڑے، اندرونی مادوں سے تقریباً پاک، خالص، بے قاعدہ شکل والے اور جزوی طور پر کٹے پھٹے ہیرے ہیں)

یہ زمین پر موجود تمام ہیروں کا ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ ان میں اب تک ملنے والے تین سب سے بڑے ہیرے بھی شامل ہیں۔ ان میں 3106 قیراط کا خام ہیرا ہیرا شامل ہے، جو جنوبی افریقہ کی پریمیئر کان سے ملا تھا۔ 1111 قیراط کا لیسیڈی لا رونا، جو 2015 میں بوتسوانا کی کارووے کان سے دریافت ہوا اور 2017 میں 5 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت ہوا۔ 2492 قیراط کا موتسویدی، جو 2024 میں کارووے کان سے ملا۔

کلپرز عام ہیرے نہیں ہوتے۔ یہ ہیروں کے اس گروہ کا حصہ ہیں جسے ’انتہائی گہرائی میں بننے والے‘ ہیرے کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے قدموں کے نیچے 400 کلومیٹر سے زیادہ گہرائی میں، زمین کے اندرونی حصے کے ایک خطے میں بنتے ہیں جسے درمیانی تہہ کا عبوری حصہ کہا جاتا ہے۔

یہ گہرائی جواہراتی معیار کے عام ہیروں کے بننے کی جگہ سے کہیں زیادہ ہے۔ عام جواہراتی ہیرے عموما پرانے براعظموں کے نیچے مینٹل کی موٹی اور سخت جڑوں میں، تقریبا 200 کلومیٹر تک کی گہرائی میں بنتے ہیں۔ زمین کی درمیانی تہہ گرم چٹانوں کی وہ موٹی تہہ ہے جو زمین کے مرکز اور اس کے بیرونی ’خول‘ کے درمیان واقع ہے۔ اس بیرونی خول کو زمینی پرت کہا جاتا ہے۔

اگرچہ ان ہیروں کی جسامت اور قیمت لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتی ہے، لیکن کلپر ہیروں میں ہماری اصل دلچسپی اس سفر کی وجہ سے ہے جس کا ریکارڈ یہ اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ہیرے اتنی زیادہ گہرائی میں بنتے ہیں جہاں ہماری رسائی ممکن نہیں، اس لیے یہ زمین کے ان اندرونی حصوں کو سمجھنے میں بہت اہم ہیں جن کا ہم براہ راست مشاہدہ نہیں کر سکتے۔ 

کلپر ہیرے زمین کی گہرانی سے معلومات لانے والے انتہائی نایاب پیغام رساں ہیں۔ ان کا مطالعہ ان چند طریقوں میں سے ایک ہے جن سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ زمین کے گہرے اندرونی حصے میں چٹانیں اور کاربن دوبارہ کیسے گردش کرتے ہیں اور ہمارا سیارہ کئی کروڑ سال کے دوران اپنی ساخت کس طرح بدلتا رہتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن میں ماہر ارضیات کی حیثیت سے میری خاص مہارت ان میگما کا مطالعہ ہے جو ہیروں کو زمین کی سطح تک پہنچاتے ہیں اور کمبرلائٹ کہلاتے ہیں۔ میرے ساتھیوں اور میں نے یہ جاننے کے لیے تحقیق شروع کی کہ دنیا کے سب سے بڑے ہیرے زمین کے اندر مادوں کی دوبارہ گردش کے پوشیدہ نظام کے بارے میں ہمیں کیا بتا سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہم یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ یہ نایاب ہیرے کن چٹانوں میں موجود تھے اور آخرکار انہیں زمین کی سطح تک کیسے پہنچایا گیا؟

ہم نے ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے اولیوین پر توجہ دی، جو کمبرلائٹ چٹانوں میں پایا جانے والا ایک معدنی مادہ ہے۔ کمبرلائٹ ایسی نایاب آتشیں چٹانیں ہیں جو زمین کی گہرائی سے تیزی سے اوپر آتی ہیں۔ یہ قدرتی لفٹوں کی طرح کام کرتے ہوئے ہیروں اور دوسرے معدنی مادوں کو زمین کی درمیانی تہہ سے سطح تک پہنچاتی ہیں۔

اولیوین مینٹل میں سب سے وافر مقدار میں پائی جانے والی معدن ہے۔ کمبرلائٹ میگما اوپر اٹھتے ہوئے ان مینٹل چٹانوں سے اولیوین حاصل کر لیتا ہے جن سے وہ گزرتا ہے۔ اس اولیوین کی کیمیاوی ساخت ہمیں ان گہری چٹانوں کی شناخت فراہم کرتی ہے، جس میں ان کے اندر موجود لوہے کی مقدار اور آکسیجن آئسوٹوپ کی علامات کے بارے میں سراغ شامل ہیں۔ اس سے ہمیں مینٹل کے ان حصوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جہاں سے کمبرلائٹ گزر کر آئے ہیں، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں ہیرے سطح پر آنے سے پہلے موجود رہے ہوں گے۔

لیکن کلپر ہیرے دنیا بھر میں بہت کم کمبرلائٹ چٹانوں میں پائے گئے ہیں، اور ہم اب بھی پوری طرح نہیں سمجھ پائے کہ کچھ کمبرلائٹس میں یہ غیر معمولی ہیرے کیوں پائے جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر میں ایسا نہیں ہوتا۔

ہماری یہ دریافت اس معمے میں نئی کڑیاں جوڑتی ہے۔ ہم نے کلپر ہیرے رکھنے والے کمبرلائٹس سے جڑے مینٹل کے اندر لوہے سے بھرپور غیر معمولی حصوں کی نشاندہی کی ہے۔ 

اس سے ہمیں ان چٹانوں کے بارے میں نئے سراغ ملتے ہیں جن میں یہ ہیرے سطح پر لائے جانے سے قبل موجود تھے۔ ہماری یہ دریافت ہیروں کی تلاش کے لیے ایک عملی طریقہ بھی فراہم کرتی ہے کیوں کہ لوہے سے بھرپور اولیوین اور متعلقہ معدنیات رکھنے والے کمبرلائٹس میں کلپر ہیروں کی موجودگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

زمین کی گہرائی میں سفر

گذشتہ تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ کلپر ہیرے عام ہیروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرائی میں بنتے ہیں۔ ان کی کیمیائی ساخت سے یہ بھی اشارہ ملا کہ ان کا تعلق سمندر کی تہہ میں موجود قدیم چٹانوں، یعنی سمندری پرت، سے ہے۔ ارضی تختیوں کی حرکت کے باعث یہ پرت زمین کی گہرائی میں کھنچ گئی تھی۔ زمین کی پلیٹوں کی حرکت سے مراد زمین کے بیرونی سخت خول کے حصوں کی آہستہ آہستہ حرکت اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کا باہمی عمل ہے۔

جب دو ارضی تختیاں آپس میں ملتی ہیں تو ان میں سے ایک دوسری کے نیچے جا سکتی ہے۔ اس عمل کو نیچے دھنس جانا کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سمندری پرت زمین کی درمیانی تہہ میں بہت گہرائی تک پہنچ جاتی ہے، جہاں گرمی، دباؤ اور اردگرد کی چٹانوں کے ساتھ باہمی عمل سے اس میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان انتہائی سخت حالات میں اس مادے میں موجود کاربن ہیرے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اولیوین کی کیمیائی ساخت کے ہمارے تجزیے سے ملنے والے نئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کلپر ہیرے رکھنے والی کمبرلائٹ چٹانوں کا تعلق دوبارہ گردش میں آنے والے ایک خاص قسم کے مادے سے ہے۔ 

یہ سمندر کی تہہ میں بسالٹ کی پرت تھی، جس میں زمین کی گہرائی میں کھنچے جانے سے پہلے سمندری فرش میں گردش کرنے والے گرم سیالوں نے تبدیلیاں پیدا کر دی تھیں۔ گرم سیالوں کے عمل سے تبدیل ہونے والی اس سمندری پرت نے بظاہر زمین کی گہری درمیانی تہہ میں بھاری اور لوہے سے بھرپور چٹانیں بنائی تھیں۔

یہ دریافت کلپر ہیروں کے بارے میں ایک غیر حل شدہ سوال کا جواب دیتی ہے: کمبرلائٹ میگما کے سطح پر لانے سے پہلے یہ ہیرے کس قسم کی چٹانوں میں موجود تھے؟

لیکن ہماری دریافتیں ایک اور سوال بھی اٹھاتی ہیں۔ لوہے سے بھرپور یہ چٹانیں اتنی کثیف ہیں کہ یہ خود بخود زمین کی سطح کی طرف واپس نہیں اٹھ سکتی ہیں۔ پہلے کے نظریات یہ بتاتے تھے کہ ان ہیروں کو رکھنے والی چٹانیں مینٹل کے ذریعے غیر فعال طور پر اوپر تیر سکتی ہیں۔ ہمارے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ سفر غالباً زیادہ پیچیدہ تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غیر فعال طور پر اوپر اٹھنے کے بجائے، اس کثیف، لوہے سے بھرپور مواد کو ایک طاقتور دھارے کی ضرورت ہوگی۔ ایک ممکنہ طریقہ مینٹل پلمز ہے یعنی زمین کی گہرائی سے اٹھنے والی انتہائی گرم چٹانوں کے ستون جو کثیف مواد کو اپنی گرفت میں لے کر اسے اوپر کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ 

یہ اوپر اٹھتے ہوئے مادے ہیرے والے مواد کو اوپر لے گئے ہوں گے جہاں تک کہ یہ لیتھوسفیئر کی بنیاد پر ذخیرہ ہو گیا، جو پرانے براعظموں کے نیچے موٹی اور سخت جڑ ہوتی ہے، جہاں یہ غالباً کروڑوں سال تک موجود رہا۔

کافی عرصے بعد، زمین کی گہرائی میں بننے والے نایاب میگما ان ہیرے والے خطوں سے گزرے۔ یہ میگما تیزی سے سطح پر آئے اور کمبرلائٹ چٹانوں کی شکل میں جم گئے، اور اپنے ساتھ ہیرے اور متعلقہ معدنیات کو لے آئے۔

دوسرے لفظوں میں، کلپر ہیرے صرف نایاب اور قیمتی جواہرات ہی نہیں ہیں۔ یہ ایک طویل ارضیاتی سفر کا ریکارڈ بھی اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ 

یہ سفر قدیم سمندری فرش سے شروع ہو کر زمین کی گہری درمیانی تہہ، پھر براعظموں کی جڑوں تک پہنچتا ہے اور آخرکار کم یاب آتش فشانی دھماکوں کے ذریعے زمین کی سطح پر ختم ہوتا ہے۔

مزید کلپر ہیروں کی تلاش

ہماری تحقیق کے نتائج ہیروں کی تلاش میں رہنمائی بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

افریقہ کے بعض حصوں، جن میں سیرا لیون اور انگولا شامل ہیں، میں دریاؤں کی بجری سے بہت بڑے کلپر ہیرے ملے ہیں۔ یہ ہیرے لازما کمبرلائٹ جیسی بنیادی چٹانوں سے نکلے ہوں گے، لیکن بہت سے معاملات میں ان چٹانوں کا اب تک پتہ نہیں چل سکا۔ دریا ہیروں کو اس جگہ سے بہت دور لے جا سکتے ہیں جہاں وہ اصل میں آتش فشانی دھماکوں کے ذریعے زمین سے باہر نکلے تھے۔ اس لیے ان ہیروں کو ان چٹانوں تک واپس پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے جو انہیں زمین کی سطح پر لائی تھیں۔

مثال کے طور پر مشہور ’سٹار آف سیرا لیون‘ 969 قیراط کا ہیرا تھا، جو 1972 میں کونو کے علاقے میں دریائی ذخائر سے ملا تھا۔ تاہم اس علاقے میں کئی دہائیوں تک کان کنی کے باوجود اس قسم کے ہیروں کے کمبرلائٹ ماخذ کی واضح نشاندہی نہیں ہو سکی۔ 

حالیہ عرصے میں اسی ضلع کی میا کمبرلائٹ سے کلپر ہیرے ملے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں ان غیرمعمولی ہیروں کی بنیادی ماخذ چٹانیں موجود ہیں۔

ہمارا طریقہ ہیروں کی تلاش کرنے والی ٹیموں کو ایک نیا سراغ فراہم کرتا ہے۔ جن کمبرلائٹ چٹانوں میں لوہے سے بھرپور اولیوین اور اس سے متعلق دوسرے معدنی مادے زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، ان میں کلپر ہیرے موجود ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

اس سے یہ ضمانت نہیں ملتی کہ وہاں بہت بڑے ہیرے ضرور ملیں گے، لیکن اس سے ماہرین ارضیات کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کن کمبرلائٹ چٹانوں کا زیادہ تفصیل سے جائزہ لینا چاہیے۔

ہماری تحقیق کے مطابق سیرا لیون اور انگولا جیسے علاقوں میں وہ کمبرلائٹ چٹانیں سب سے زیادہ امید افزا ہو سکتی ہیں جن میں لوہے سے بھرپور ہونے کی یہ کیمیائی علامت پائی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں اب بھی بہت سی کمبرلائٹ چٹانوں کا مناسب مطالعہ نہیں کیا گیا اور ان میں سے بعض میں دنیا کے مزید نایاب ترین ہیرے چھپے ہو سکتے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے ہیروں نے زمین کے اندر کئی کروڑ سال تک سفر کیا ہے۔ انہیں سطح تک پہنچانے والی چٹانوں میں محفوظ کیمیائی نشانیوں کو سمجھ کر اب ہمیں نہ صرف یہ معلوم ہونے لگا ہے کہ یہ ہیرے کہاں مل سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ زمین کی گہرائی میں جاری ان عملوں کے بارے میں کیا بتاتے ہیں جو ہمارے سیارے کی ساخت بدلتے رہتے ہیں۔

اس سے قبل یہ تحریر دا کنورسیشن میں شائع ہو چکی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *