پاکستان کی وکلا ایکشن کمیٹی نے ہفتے کو وکلا تحریک چلانے کی قرارداد منظور کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عدالتی تعطیلات کے بعد ملک گیر وکلا تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور اس تحریک کی قیادت سینیئر وکیل علی احمد کرد کریں گے۔
اس موقعے پر علی احمد کرد نے کہا کہ انہوں نے ساتھی وکلا کے بار بار اصرار پر ’بادل نخواستہُ اس تحریک کی قیادت قبول کی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یہ جدوجہد صرف وکلا برادری تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس میں عام عوام کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وکلا کی نیشنل ایکشن کمیٹی کا آج ہونے والے اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت میں واقع سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے احاطے میں منعقد ہوا۔
اس اجلاس کی صدارت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد نے کی۔
اجلاس میں علی احمد کرد نے کہا کہ ’معاملہ اب صرف 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم تک محدود نہیں رہا بلکہ لوگوں کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔
’اب عوام کی نظریں پاکستان کے وکلا پر ہیں اور وکلا اس تحریک میں عوام کو بھی شریک کریں گے۔‘
آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار، صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورت حال، سیاسی قیدیوں، بار انتخابات اور سندھ میں جاری ببرلو دھرنے سے متعلق چھ نکاتی قرارداد منظور کی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کمیٹی کی جانب سے ہفتے کو منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’ججز کی نامزدگی اہلیت کے بجائے سیاسی وفاداری یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کا موجودہ طریقہ کار ’خوفناک حد تک تباہ کن‘ ہے اور ججز کے انٹرویوز کا عمل ’مذاق‘ بن چکا ہے۔
سینیئر وکیل حامد خان نے اس قرارداد کا متن پڑھ کر سنایا۔
قرارداد میں صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صرف میڈیا کوریج محدود کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کا عمل حقیقی منتخب قیادت کے سپرد کیا جائے۔ ’ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے کشمیر میں بھی وہی غلطیاں دہرائی جا رہی ہیں۔‘
وکلا ایکشن کمیٹی نے بلوچستان، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مسائل اور شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن قائم کرنے اور عوامی مکالمہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وکلا ایکشن کمیٹی نے ایمان مزاری، ہادی چٹھہ، عمران خان، ڈاکٹر یاسمین راشد، ماہ رنگ بلوچ اور علی وزیر سمیت دیگر افراد کی مسلسل قید پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کی یہ پالیسی ملک کو ’ناقابل واپسی تباہی‘ کی طرف لے جا رہی ہے۔
قرارداد میں بار کونسلز کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد میں پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلوں پر بعض بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات میں مبینہ مداخلت اور دھاندلی کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام انتخابات قانون کے مطابق بروقت اور نادرا کی تصدیق کے ساتھ کرائے جائیں، جبکہ جعلی ڈگری رکھنے والے یا دیگر ملازمتیں کرنے والے وکلا کو رول سے خارج کیا جائے۔
اس ضمن میں تحریک کا پہلا عوامی جلسہ خیبر پختونخوا میں منعقد کیا جائے گا، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی دعوت پر لندن میں بھی ایک پروگرام کیا جائے گا۔
دوسری جانب کمیٹی نے سندھ کے علاقے ببرلو میں پریا کماری اور دیگر افراد کی گمشدگی کے خلاف جاری دھرنے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق اور ان کے جائز مطالبات کا احترام کرے۔
