پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ہفتے کو بتایا ہے کہ پاکستان نے انڈین رجسٹریشن والے طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود پر عائد پابندی 23 اگست تک بڑھا دی ہے۔
پاکستان نے پہلی بار 23 اپریل 2025 کو انڈین طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھی، جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
دونوں ممالک گذشتہ سال مئی میں کئی روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ملوث رہے، جس کے بعد سے پاکستان اپنی فضائی حدود پر عائد پابندی میں توسیع کرتا آ رہا ہے۔
اس پابندی کے باعث انڈین فضائی کمپنیوں کو اپنی بین الاقوامی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑے ہیں اور انہیں زیادہ ایندھن اور آپریشنل اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
سول ایوی ایشن کی ویب سائٹ پر17 جولائی کو شائع ہونے والے نوٹم میں اس پابندی کا دورانیہ 23 اگست 2026 تک بتایا گیا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کہا کہ ’پاکستان نے انڈین رجسٹریشن والے طیاروں، اور انڈین ایئر لائنز یا آپریٹرز کے زیرِ انتظام، ملکیت یا لیز پر لیے گئے طیاروں، بشمول فوجی پروازوں، کے لیے اپنی فضائی حدود پر عائد پابندی میں توسیع کر دی ہے۔ یہ پابندی اب 23 اگست تک نافذ العمل رہے گی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نئی دہلی نے پہلگام میں اپریل کے حملے، جس میں 26 سیاح مارے گئے تھے، کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ایک سال سے زائد عرصے سے برقرار ہے، جو گذشتہ سال مئی میں نافذ ہوئی تھی، تاہم کشیدگی اب بھی موجود ہے۔
دونوں ممالک کی فوجی قیادتیں ایک دوسرے کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کر چکی ہیں۔
پاکستان کی اس پابندی سے ایئر انڈیا سمیت وہ فضائی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں جو یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے طویل فاصلے کی پروازیں چلاتی ہیں، اور اس پابندی کے باعث مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔
