لاہور: امریکی نژاد خاتون اور تین بچوں کی موت کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج

لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن کے ایک گھر سے جمعے کو امریکی نژاد خاتون اور ان کے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہونے کے واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ فیملی یکم جولائی کو پاکستان آئی تھی اور کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھی۔ واقعے کے وقت گھر کے سربراہ باہر گئے ہوئے تھے۔

پولیس چوکی ہالوکی کے انچارج سب انسپکٹر ضیغم عباس کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’16 سالہ ریحان، 11 سالہ عریشہ اور 9 سالہ ارسل حسب معمول جمعے کو اپنی والدہ علینہ ڈوگر کے ساتھ گھر پر موجود تھے جبکہ ان بچوں کے والد ناصر ڈوگر باہر ضروری استعمال کی اشیا خریدنے گئے ہوئے تھے۔‘

ایف آئی آر کے مطابق: ’پولیس کو اطلاع ملی کہ تین بچوں کی لاشیں ملی ہیں، لہذا پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ناصر ڈوگر بھی آگئے۔ اندر جاکر دیکھا تو تینوں بچے دم توڑ چکے تھے مگر ان کی والدہ بے ہوش تھیں، جو ہسپتال جانے کے بعد دم توڑ گئیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) ماڈل ٹاؤن اسد علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون اور ان کے بچوں کی موت زہریلی چیز کھانے سے ہوئی کیونکہ انہوں نے الٹیاں بھی کی ہوئی تھیں، لیکن ہم نے نمونے فرانزک کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔‘

اسد علی کے مطابق: ’ابھی تک یہی معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے بچوں کو زہر کھلا کر خود بھی زہر کھایا ہے، تاہم حتمی وجہ رپورٹ آنے پر معلوم ہوگی۔ یہ پوری فیملی امریکی شہری تھی۔ خاتون کی دو بہنیں کینیڈا میں رہتی ہیں۔‘

پولیس حکام کے مطابق ناصر ڈوگر نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ ان کی 27 جولائی کو امریکہ واپسی کی ٹکٹ بک ہے اور وہ اکیلے امریکہ جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بیوی ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔

پولیس کے مطابق انہوں نے کسی پر شک وشبہ کا اظہار نہیں کیا۔

یہ فیملی 90 کی دہائی سے امریکہ میں مقیم ہے اور دونوں میاں بیوی وہاں ملازمت کرتے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *