اٹلی کی سپریم کورٹ نے ارینج میرج یعنی طے شدہ شادی سے انکار پر 2021 میں قتل ہونے والی 18 سالہ پاکستانی نژاد ثمن عباس کیس میں والدین سمیت پانچ رشتہ داروں کی سزاؤں کو بدھ کو برقرار رکھا ہے۔
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ ایک ’تکلیف دہ عدالتی عمل‘ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ثمن عباس کو ان کے والدین اور بعض رشتہ داروں نے اس لیے قتل کیا کیونکہ انہوں نے ’جبری شادی‘ کی مخالفت کی اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے حق پر اصرار کیا۔
میلونی نے کہا کہ ’عدالت کا کوئی بھی فیصلہ ثمن کی زندگی واپس نہیں لا سکتا، لیکن یہ ضروری تھا کہ اس سفاک جرم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق حتمی سزا ملے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی میں ایسے افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں جو مبینہ ثقافتی یا مذہبی وجوہات کا سہارا لے کر کسی عورت کی آزادی، وقار اور حقِ زندگی سے انکار کریں۔ ان کے بقول یہ ایسے بنیادی اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
Con la sentenza definitiva per l’omicidio di Saman Abbas si chiude una dolorosa vicenda giudiziaria.
Saman, giovane di origine pakistana in Italia, è stata uccisa dai suoi genitori e da alcuni familiari dopo essersi opposta a un matrimonio forzato e aver rivendicato il diritto… pic.twitter.com/nFrH3QyoId
— Giorgia Meloni (@GiorgiaMeloni) July 15, 2026
ثمن عباس شادی کے لیے پاکستان جانے سے انکار کرنے کے بعد اپریل 2021 میں اٹلی کے شمالی قصبے نوویلارا سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ بعدازاں ان کی لاش نومبر 2022 میں ایک ویران فارم ہاؤس سے برآمد ہوئی، جو اُس کھیت کے قریب واقع تھا جہاں ان کے والد کام کرتے تھے۔ اطالوی استغاثہ کے مطابق ثمن کو یکم مئی 2021 کو اُن کے خاندان نے قتل کیا۔ چند دن بعد اُن کے والدین میلان سے پاکستان فرار ہو گئے تھے۔
ثمن کے والد کو بعد میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا اور اٹلی کے حوالے کیا گیا تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ ثمن کی والدہ کو عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی تھی، تاہم وہ تین سال تک مفرور رہنے کے بعد مئی 2024 میں گرفتار کر لی گئیں۔
جبکہ ثمن عباس کے قتل کے الزام میں ان کے چچا کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ثمن اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرنا چاہتی تھیں اور ان کے دوست کے مطابق ثمن اپنی زندگی کے حوالے سے کافی فکر مند تھیں۔
ثمن عباس کی گمشدگی کی تفتیش کرنے والے تحقیق کار اس وقت اس معاملے کو ممکنہ قتل کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوئے جب انہوں نے نو مئی کو ثمن کے 16 سالہ بھائی کو گرفتار کیا۔
اس وقت تک ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد اس مقدمے میں مطلوب نہیں تھا، جس کے بعد ان کے چچا ان کو اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے رہے اور ان کے ساتھ ان کے ایک 28 سالہ کزن اکرام اعجاز اور 33 سالہ نعمان الحق بھی موجود تھے جنہیں بعد میں سپین جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
تحقیق کاروں کے مطابق ثمن کے والدین نے ثمن کو اپنے چچا دانش حسنین کے حوالے کیا تھا، جو پرتشدد ماضی رکھتے ہیں۔
اٹلی کی عدالت نے دسمبر 2023 میں ثمن کے والدین، نازیہ شاہین اور شبّر عباس، کو اپنی بیٹی کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اب اٹلی کی سپریم کورٹ نے والدین کے علاوہ مقتولہ کے کزن اعجاز اکرام اور نعمان الحق کو بھی قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔
عدالت نے مقتولہ کے چچا دانش حسنین کی 22 سال قید کی سزا بھی برقرار رکھی۔
