پاکستان میں گندے پانی کی جانچ سے بیماریوں کی نشاندہی کے نظام کا آغاز

پاکستان میں متعدی بیماریوں کی جلد تشخیص اور ممکنہ وباؤں کی پیشگی نشاندہی کے لیے ایک نئے قومی نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو گندے پانی (سیوریج) کے تجزیے کے ذریعے مختلف بیماریوں کی نگرانی کرے گا۔

اس اقدام کی قیادت قومی ادارۂ صحت (NIH) کر رہا ہے،جس میں آغا خان یونیورسٹی (AKU)، گیٹس فاؤنڈیشن اورایشیا پیتھوجن جینومکس انیشی ایٹو (Asia PGI) شراکت دارہیں۔ اس کے ذریعے پاکستان کی آبادی میں پائے جانے والے جراثیم کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے ایک مربوط قومی نظام قائم کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سیوریج میں موجود مواد کسی بھی آبادی میں پھیلنے والی بیماریوں کا ایک پوشیدہ ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔ روایتی طریقہ کار میں بیماری کی شناخت مریضوں کے ہسپتال پہنچنے کے بعد ہوتی ہے، لیکن ویسٹ واٹر نگرانی کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کا سراغ کئی دن یا حتیٰ کہ کئی ہفتے پہلے لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی پولیو وائرس کی نگرانی کے لیے سیوریج کے نمونوں کا استعمال کرتا رہا ہے، تاہم اب پہلی مرتبہ اس نظام کو وسعت دیتے ہوئے ایک قومی پلیٹ فارم بنایا گیا ہے، جو بیک وقت متعدد بیماریوں کی نگرانی کرے گا۔

اس مقصد کے لیے نیشنل ویسٹ واٹر ایپیڈیمیالوجی سرویلنس (WES) ڈیش بورڈ متعارف کرایا گیا ہے، جو ملک بھر کی لیبارٹریوں سے حاصل ہونے والے نتائج کو یکجا کر کے تقریباً حقیقی وقت (Near Real-Time) میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا نقشہ فراہم کرے گا۔

ماہرِ صحت ڈاکٹر آفرینش عامر نے بتایا کہ ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کے نظام کے لیے لاگت اور مالیاتی حکمتِ عملی (کاسٹنگ سٹریٹیجیز) اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اس سلسلے میں تین ورکشاپس منعقد کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کی شرکت سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ ملک میں بیماریوں کی نگرانی کے اس جدید طریقہ کار کو کس طرح مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی کس انداز میں مرتب کی جائے۔

ماہرین کے مطابق سیوریج کے پانی کی جانچ کے ذریعے مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے آثار کا بروقت سراغ لگایا جا سکتا ہے، جس سے صحتِ عامہ کے نظام کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے میں مدد ملتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اس شعبے میں طویل مدتی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ایک پائیدار نظام تشکیل دینے پر غور کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر آفرینش عامر نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے اشتراک سے تیار ہونے والی حکمتِ عملی مستقبل میں پاکستان میں بیماریوں کی نگرانی اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈیش بورڈ مستقبل میں کسی بھی وبا یا متعدی مرض کے خلاف ایک مستقل ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) کے طور پر کام کرے گا۔ اس نظام کی اہم خصوصیات میں حقیقی وقت میں نگرانی، رجحانات اور تجزیات، جغرافیائی معلومات اور ابتدائی خبردار کرنے والے انتباہات شامل ہیں۔

وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری سید مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کے لیے ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی (Wastewater Environmental Surveillance) کی حکمتِ عملی تیار کرتے وقت اس کے واضح اور عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں تاکہ پائلٹ منصوبوں کے بعد اگلے مراحل کی مؤثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔

اسلام آباد میں اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید مصطفی کمال نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران مختلف پائلٹ تجربات سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، تاہم اب یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ان نتائج کی بنیاد پر ملک میں اس نظام کو کس طرح نافذ کیا جائے اور اسے صحتِ عامہ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 2024 میں ایشیائی خطے میں کیے گئے نقشہ سازی (میپنگ) کے عمل سے کئی اہم اسباق حاصل ہوئے۔ ان تجربات سے معلوم ہوا کہ ویسٹ واٹر نگرانی کا ڈیٹا صحتِ عامہ پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خصوصاً جب مختلف ادارے مشترکہ سرمایہ کاری اور تعاون کے تحت کام کریں۔

وفاقی وزیر کے مطابق ویسٹ واٹر ڈیٹا کو حفاظتی ٹیکہ جات کی حکمتِ عملی مرتب کرنے کے لیے بھی مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اعداد و شمار صحت کے حکام کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کن علاقوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ ہے اور کہاں ویکسینیشن کی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں ویسٹ واٹر نگرانی کے نظام کو محض تحقیق تک محدود رکھنے کے بجائے اسے پالیسی سازی اور عملی اقدامات کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ بیماریوں کی بروقت نشاندہی، وسائل کے بہتر استعمال اور صحتِ عامہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

سید مصطفی کمال نے کہا کہ حکومت مختلف اداروں اور ماہرین کے تعاون سے ایسی قومی حکمتِ عملی ترتیب دینا چاہتی ہے جو نہ صرف سائنسی بنیادوں پر استوار ہو بلکہ اس کے نتائج عوام کی صحت بہتر بنانے میں بھی نمایاں کردار ادا کریں۔

گندے پانی کی ماحولیاتی نگرانی کے تحت مختلف علاقوں کے سیوریج سے حاصل کیے گئے نمونوں کا تجزیہ کرکے معلوم کیا جاتا ہے کہ وہاں بیماری پیدا کرنے والے کون سے جراثیم موجود ہیں،اکثر یہ معلومات مریضوں کے ہسپتال یا طبی مراکز پہنچنے سے بھی پہلے حاصل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ گندے پانی کا ایک ہی نمونہ پورے علاقے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں وہ افراد بھی شامل ہوتے ہیں جن میں انفیکشن توموجود ہو لیکن کوئی علامات ظاہرنہ ہوں،

اس لیے یہ نظام بیماریوں کے پھیلاؤ کی ابتدائی مرحلے میں بروقت نشاندہی کا مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے اور ہسپتالوں میں روایتی تشخیص کا نظام مزید مضبوط بناتا ہے۔ یہ نظام پاکستان کے دیرینہ پولیو انوائرنمنٹل سرویلنس نیٹ ورک کی بنیاد پراستوار کیا گیا ہے، جو دنیا کے وسیع ترین نیٹ ورکس میں سے ایک ہے، اسے 2020 میں گندے پانی میں کوویڈ 19 کا پتہ لگانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آغا خان یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عمران نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں ویسٹ واٹر سرویلنس (سیوریج کے پانی کے ذریعے بیماریوں کی نگرانی) کا نیا ماڈل روایتی نگرانی کے نظام سے مختلف ہے کیونکہ اس میں ایک یا چند بیماریوں کے بجائے درجنوں جراثیم اور بیماریوں کی بیک وقت نگرانی کی جا سکتی ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں پولیو، سارس کوو-2 (کورونا وائرس) اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس سے متعلق نگرانی کے نظام مخصوص بیماریوں یا محدود تعداد میں جراثیم کی نشاندہی پر مرکوز تھے، لیکن اب ایک وسیع تر ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عمران نثار کے مطابق اس جدید نظام کے تحت ایک ہی وقت میں تقریباً 94 سے 95 مختلف بیماری پھیلانے والے جراثیم اور پیتھوجینز کی نگرانی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان بیماریوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن میں ادویات سے قابلِ علاج بیماریاں، ویکسین کے ذریعے روکی جانے والی بیماریاں، حشرات کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں اور مستقبل میں عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے پیتھوجینز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے نمونوں کے حصول اور نگرانی کے مقامات کے انتخاب کے حوالے سے نسبتاً منفرد حکمتِ عملی اپنائی گئی، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں سیوریج کا نظام پیچیدہ اور متعدد سطحوں پر پھیلا ہوا ہے۔

ڈاکٹر عمران نثار نے بتایا کہ کراچی کے بعض علاقوں کے سیوریج نیٹ ورک کے واضح نقشے دستیاب تھے، تاہم کئی علاقوں میں سیوریج کے بہاؤ اور نیٹ ورک کی ساخت کا اندازہ لگا کر نگرانی کے مقامات کا تعین کرنا پڑا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے مختلف تکنیکی طریقے استعمال کیے گئے تاکہ شہر کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرنے والے مقامات سے نمونے حاصل کیے جا سکیں۔

قومی پروگرام کے تحت آغا خان یونیورسٹی کی متعدی امراض کی تحقیقاتی لیبارٹری نے کراچی کے تمام سات اضلاع میں ایک پائلٹ منصوبہ مکمل کیا، جس کے دوران گندے پانی کے نمونوں میں ایک ہی وقت میں متعدد بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی جانچ کی گئی۔ابتدائی نتائج میں کراچی کے گندے پانی میں موجود مختلف بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی نشاندہی ہوئی، جن  میں ہیضہ کا سبب بننے والا جرثومہ ویبریو کولیری (Vibrio cholerae) سب سے زیادہ پایا گیا۔ اس کے علاوہ اسہال کا سبب بننے والے ای کولی (E. coli)، شیگیلا (Shigella) اور نورو وائرس (Norovirus) جیسے دیگرجراثیم بھی دریافت ہوئے۔

گندے پانی کے نمونے میں موجود ہرجرثومے کے جینیاتی مواد کا تجزیہ کرنے والی(Genetic Sequencing) ٹیکنالوجی کے ذریعے 596 مختلف اقسام کی نشاندہی کی گئی۔اس پائلٹ منصوبے کے نتائج حال ہی میں ایشیا پیتھوجن جینومکس انیشی ایٹو (Asia PGI) کے ویسٹ واٹر انوائرنمنٹل سرویلنس (WES) ماہرین کے ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔

حکام نے واضح کیا کہ کہ گندے پانی میں کسی بیماری پیدا کرنے والے جرثومے کی موجودگی یہ نشاندہی کرتی ہے کہ وہ جرثومہ کمیونٹی میں گردش کر رہا ہے۔ یہ معلومات پانی کے معیار کو بہتر بنانے، ویکسینیشن اوردیگر احتیاطی اقدامات کی بروقت منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہیں، تاہم اسے بیماری کے باقاعدہ پھیلاؤ (آؤٹ بریک) کی باضابطہ تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔اس پائلٹ منصوبے کے نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور گندے پانی کے نمونوں کی جانچ کا عمل بدستور جاری ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *