پاسداران انقلاب کو برطانوی قومی سلامتی خطرہ قرار دینا ناقص سیاسی بصیرت: ایران

ایران کی وزارتِ خارجہ نے منگل کو برطانیہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو قومی سلامتی کے قانون کے تحت خطرہ قرار دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلاجواز، غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے پیر کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور اس سے منسلک ایک گروہ کو برطانیہ کے ’نئے ریاستی خطرات سے متعلق قوانین‘ کے تحت باضابطہ ریاستی خطرہ نامزد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تنظیموں کی معاونت، حمایت یا ان کے لیے کام کرنے والے افراد کو 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے وانا (ویسٹ ایشیا نیوز ایجنسی) کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی سرکاری مسلح افواج کا باقاعدہ حصہ ہیں اور ایرانی فوج کے ساتھ مل کر ملک کی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع کرتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کسی خودمختار ریاست کے سرکاری ادارے کو سلامتی کے خطرے کا درجہ دینا اشتعال انگیز، توہین آمیز اور اقوامِ متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مغربی ایشیا اس وقت امریکہ کی کارروائیوں اور اسرائیلی فوجی آپریشنز کے باعث شدید بحران سے دوچار ہے اور ایسے وقت میں برطانیہ کا یہ فیصلہ ناقص سیاسی بصیرت کا مظہر ہے۔

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور نوآبادیاتی پالیسیوں کی طویل تاریخ رکھنے والے برطانیہ کو دوسروں پر الزامات لگانے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ حالیہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران برطانیہ حملہ آور فریق کا معاون رہا، جس کا اشارہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے بیانات سے بھی ملتا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے پاسداران کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ‘ نامی گروہ نے برطانیہ میں ایسے سات حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ اس گروہ کے پسِ پشت ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ارکان موجود تھے نیز پاسدارانِ انقلاب ماضی میں بھی برطانیہ کے اندر، خصوصاً یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسی گروہوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کا استعمال کرتی رہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’برطانیہ کا فیصلہ بے بنیاد سلامتی خدشات پر مبنی ہے، جبکہ خود برطانیہ دہشت گرد اور پرتشدد گروہوں کو پناہ اور سہولت فراہم کرتا ہے۔‘

ایران نے خبردار کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے اور برطانوی فیصلے کے جواب میں متقابل اقدامات کا حق استعمال کرے گا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی، قانونی اور سفارتی نتائج کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر عائد ہو گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *