سپین کے سٹار فٹ بالر لامین یامال کی خواہش ہے کہ کیلیئن ایم باپے کی طرح ان کی نوعمری میں ہی ان کی ٹیم ورلڈ کپ جیت لے لیکن اس سے پہلے منگل کو سیمی فائنل میں سپین کو فرانس اور اس کے سپر سٹار کپتان ایم باپے کو شکست دینی ہوگی۔
جب ایم باپے نے 2018 کے ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن میچ میں کروشیا کے خلاف فرانس کو فتح دلانے والا گول کیا تو ان کی عمر صرف 19 سال اور 207 دن تھی۔ یوں وہ 1958 میں 17 سالہ پیلے کے بعد ورلڈ کپ فائنل میں گول کرنے والے صرف دوسرے نوعمر کھلاڑی بن گئے۔
ایم باپے کا ورلڈ کپ سے گہرا لگاؤ اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب کہ یامال پہلی بار اس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔
تاہم وہ بڑے ٹورنامنٹ میں پہلے ہی اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کر چکے ہیں۔ یورو 2024 کے سیمی فائنل میں ایم باپے کی فرانسیسی ٹیم کے خلاف یامال کے شاندار گول کی بدولت سپین نے 1-2 سے فتح حاصل کی تھی۔
لامین یامال نے یہ گول17 سال کا ہونے سے چار دن پہلے کیا تھا۔ فائنل سے ایک دن پہلے ان کی سالگرہ تھی۔ سپین نے انگلینڈ کو شکست دی اور یامال کو ٹورنامنٹ کا بہترین نوجوان کھلاڑی قرار دیا گیا۔
اس بار ان کی 19ویں سالگرہ آرلنگٹن میں کھیلے جانے والے سیمی فائنل سے ایک دن پہلے ہے۔
کم عمر کھلاڑی، جن کے بہترین سال ابھی آنے والے ہیں، لیکن وہ واضح طور پر اس ورلڈ کپ میں اپنی گہری چھاپ چھوڑنے کے لیے بے تاب ہیں۔
شاید وہ کچھ زیادہ ہی بے تاب ہیں کیوں کہ ہیمسٹرنگ انجری کے باعث وہ بارسلونا کے ساتھ سیزن کے آخری میچوں میں نہیں کھیل سکے تھے اور ایک وقت میں ان کی ورلڈ کپ میں شرکت بھی مشکوک ہوگئی تھی۔
یامال نے مئی کے آخر میں تسلیم کیا کہ ’مجھے ڈر تھا کہ کہیں انجری سنگین نہ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر یہ سنگین نہ بھی ہوئی تو دوبارہ چوٹ لگ سکتی ہے اور میں ورلڈ کپ سے باہر ہوسکتا ہوں۔‘
بے چینی؟
سپین کے پہلے میچ میں کیپ وردے کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر رہنے والے مقابلے میں یامال متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں اترے۔ سعودی عرب کے خلاف وہ شروع سے کھیلے اور گول بھی کیا، لیکن 0-4 کی فتح میں پہلے ہاف کے بعد ان کی جگہ دوسرے کھلاڑی کو میدان میں اتار دیا گیا۔
اس کے بعد وہ ہر میچ میں شروع سے کھیلے ہیں، لیکن اپنے واحد گول میں اضافہ نہیں کر سکے۔ شاید یہی بات انہیں بے چین کر رہی ہے۔
سپین کے کپتان رودری نے اتوار کو کہا کہ ’میرے خیال میں لامین کو اپنی اس بے چینی پر قابو پانے کی ضرورت ہے جو کبھی کبھار اس لیے پیدا ہوتی ہے کیوں کہ وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم کھلاڑی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب وہ دو سال پہلے یورپی چیمپئن شپ میں اتنی سمجھ داری اور پختگی دکھا چکے ہیں تو اب ان کی کارکردگی پر اتنی حیرت نہیں ہوتی۔‘
یامال کے فیصلہ کن کردار ادا نہ کرنے کے باعث سپین کے کھیل میں وہ تیز اور براہ راست حملے دکھائی نہیں دیے، جن کی وجہ سے یورو میں اسے روکنا بہت مشکل تھا۔
دوسری جانب فرانس نے حملے کی وہ کاٹ دوبارہ حاصل کر لی ہے جو یورو میں دکھائی نہیں دی تھی اور اس ورلڈ کپ میں اس کا حملہ سب سے زیادہ سنسنی خیز ہے۔
اب 27 سالہ ایم باپے فرانس کے سب سے اہم کھلاڑی ہیں اور وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں اپنا نام شامل کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
وہ اس ورلڈ کپ میں آٹھ گول کر چکے ہیں اور گولڈن بوٹ کی دوڑ میں لیونل میسی کے برابر ہیں۔ وہ ارجنٹینا کے اس کھلاڑی کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 21 گول کے ریکارڈ سے صرف ایک گول پیچھے ہیں۔
مسلسل تیسرا فائنل؟
2018 میں ٹرافی جیتنے اور 2022 کے فائنل میں تین گول کرنے والے ایم باپے کی نظریں اب مسلسل تیسرے فائنل پر ہیں۔
اس طرح وہ برازیل کے عظیم فل بیک کافو کا کارنامہ برابر کر سکتے ہیں، جنہوں نے 1994 سے 2002 تک مسلسل تین فائنل کھیلے تھے۔ پیلے اور ڈیاگو میراڈونا دونوں صرف دو، دو فائنل کھیل سکے تھے۔
ایم باپے کا ورلڈ کپ کے ساتھ غیر معمولی لگاؤ شاید یہ وضاحت کرتا ہے کہ وہ ریال میڈرڈ کے ساتھ سیزن کے دوسرے حصے کے کئی میچوں میں کیوں نہیں کھیل سکے۔ جب وہ انجریز سے صحت یاب ہو رہے تھے تو بعض شائقین نے کلب کے لیے ان کی وابستگی پر سوال اٹھائے تھے۔
انہوں نے فائنل کے میدان میٹ لائف سٹیڈیم میں آخری 32 ٹیموں کے مرحلے میں سویڈن کو شکست دینے کے بعد کہا، ’میں جانتا ہوں کہ لوگ اعداد و شمار کی بات کرتے ہیں۔ میں بھی ٹی وی دیکھتا ہوں۔ لیکن میری پوری توجہ ٹیم کی مدد کرنے اور 19 جولائی کو دوبارہ یہاں پہنچنے پر ہے۔‘
انہوں نے کوارٹر فائنل میں مراکش کو شکست دینے کے بعد مزید کہا، ’میں ورلڈ کپ جیت بھی چکا ہوں اور دوسرے نمبر پر بھی رہ چکا ہوں۔ اس ٹیم نے ان دونوں میں سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی، لیکن اس میں سب سے زیادہ صلاحیت ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یامال اور ایم باپے پہلے ہی اپنے ملکوں اور دنیا بھر میں مقبول شخصیات بن چکے ہیں۔ یہ دونوں نوجوان کثیرالثقافتی یورپ کے جدید چہرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ایم باپے زیادہ تجربہ کار ہیں، ورلڈ کپ جیت چکے ہیں اور عوامی سطح پر اعتماد کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں۔ انہی باتوں کی وجہ سے وہ امریکہ میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ کی نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔
شاندار یامال میدان سے باہر اب بھی ایم باپے کی سطح تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میدان میں ایم باپے کے خلاف ان کا ریکارڈ متاثر کن ہے۔
گذشتہ دو برس کے دوران ال کلاسیکو کی حریف ٹیموں کی جانب سے کھیلتے ہوئے دونوں کئی بار آمنے سامنے آئے ہیں۔ اب تک کلب اور ملک کی جانب سے یامال کے خلاف 10 میچوں میں ایم باپے کو آٹھ بار شکست ہوئی اور وہ صرف دو میچ ہی جیت سکے ہیں۔
