حکام اور عینی شاہدین نے پیر کو بتایا ہے کہ بنکاک کے ایک بار میں شدید آگ لگنے سے کم از کم 27 افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔
تھائی لینڈ میں تقریبا دو دہائیوں کے دوران یہ اپنی نوعیت کا سب سے جان لیوا واقعہ ہے۔
تصدیق شدہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اتوار کی شام تھائی لینڈ کے دارالحکومت کے مضافات میں واقع بار کے داخلی راستے سے شعلے بلند ہوئے تو لوگ چیختے ہوئے باہر بھاگ نکلے۔ کئی افراد کے کپڑے جل چکے تھے یا ان میں آگ لگی ہوئی تھی۔
ایک صحافی نے پیر کی صبح سویرے رونگ بیئر نا لات فراؤ بار اور ریستوران کے باہر زمین پر موجود لاشیں دیکھیں۔ چند گھنٹے بعد فرانزک پولیس نے تباہ شدہ مقام کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا۔
بنکاک کے گورنر چاڈچارٹ ستی پنٹ نے جائے وقوع پر صحافیوں کو بتایا، ’آگ بہت تیزی سے پھیلی اور چھت تک پہنچ گئی۔ غالبا دھواں اموات کی بنیادی وجہ بنا۔‘
انہوں نے کہا کہ 27 افراد جان سے گئے اور 63 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 22 کی حالت تشویش ناک ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ 2009 میں نئے سال کی تقریبات کے دوران بنکاک کے سانتیکا کلب میں لگنے والی آگ کے بعد تھائی لینڈ میں آگ کا سب سے جان لیوا واقعہ تھا۔ سانتیکا کلب میں آگ سے 67 افراد جان سے گئے اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
گورنر نے بتایا کہ کئی متاثرین ایک ہنگامی دروازے کے قریب ملے، جس کے بارے میں حکام کا خیال ہے کہ شاید وہ بند تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور سورن جائی ہارن نے بتایا کہ انہوں نے بار کے دروازے سے آگ کو سڑک کی طرف لپکتے دیکھا اور وہاں سے بھاگنے والے تقریبا پانچ افراد کی مدد کی، جن کی جلد جل گئی تھی اور اس پر چھالے پڑ رہے تھے۔
45 سالہ سورن جائی ہارن نے بتایا کہ ’میں بہت رنجیدہ ہوں۔ میں نے بہت سے لوگوں کو جان سے جاتے دیکھا اور مجھے ان لوگوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں جن کی میں نے مدد کی تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کپڑوں کی مدد سے ان لوگوں کے جسموں پر لگی آگ بجھائی، جب کہ ایک اور ڈرائیور ایک زخمی خاتون کو خطرے سے دور لے گیا۔
حکام نے پیر کو بتایا کہ اب تک 10 متاثرین کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان میں نو تھائی اور ایک لاؤس کا شہری ہے۔
