کراچی صدر کے علاقے میں واقع تاریخی، ثقافتی اور تجارتی شناخت کی علامت ایمپریس مارکیٹ کو تزئین و آرائش کے بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بحالی کے بعد 12 جون، 2026 کو عمارت کا افتتاح کیا۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مطابق برطانوی دور کی اس تاریخی عمارت کو اس کی اصل طرز تعمیر کے مطابق بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ شہر کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
19ویں صدی کی تاریخی عمارت
ایمپریس مارکیٹ 1889 میں مکمل ہوئی اور کراچی کی قدیم اور نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ عمارت ملکہ وکٹوریہ، ’ایمپریس آف انڈیا‘ کے نام سے منسوب ہے۔
عمارت کا ڈیزائن معروف ماہر تعمیرات جیمز اسٹریچن نے تیار کیا تھا جب کہ اس کا بلند و بالا کلاک ٹاور اور انڈو گوتھک طرز تعمیر آج بھی کراچی کے نوآبادیاتی دور کی اہم علامت سمجھے جاتے ہیں۔
نئی نسل کو شہر کی تاریخ سے روشناس کرانے کی کوشش
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق شہر کی پرانی مارکیٹوں کی بحالی کا مقصد شہریوں خصوصاً نئی نسل کو کراچی کی تاریخی شناخت سے روشناس کرانا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’بدقسمتی سے ماضی میں اس ورثے کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی، تاہم اب کوشش ہے کہ شہر کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی شناخت کو بھی محفوظ رکھا جائے۔‘
انہوں بتایا کہ ’بحالی منصوبے کے تحت مارکیٹ کے اندرونی حصوں کی مرمت، تاریخی ڈھانچے کے تحفظ، پیدل چلنے والوں کے لیے بہتر راستوں اور پارکنگ سہولتوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق منصوبے میں 250 گاڑیوں اور 500 موٹر سائیکلوں کی پارکنگ کی گنجائش بھی شامل کی گئی ہے مارکیٹ کا وہ حصہ جہاں گوشت فروخت کیا جاتا ہے، کی بہتری، درمیانی حصے سے تجاوزات کے خاتمہ اور تاریخی کلاک ٹاور کی بحالی جیسے اقدامات کے بعد ایمپریس مارکیٹ ایک بہتر شکل میں سامنے آئی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہری منصوبہ بندی اور تاریخی اہمیت
اربن پلانر محمد توحید کے مطابق ایمپریس مارکیٹ صرف ایک تجارتی مرکز نہیں بلکہ کراچی کے نوآبادیاتی دور کی ایک اہم تاریخی یادگار ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا: ’یہ عمارت اس بات کی مثال ہے کہ شہر کا ماضی اس کے حال اور مستقبل سے کس طرح جڑا ہوا ہے۔ ایسے ورثے کا تحفظ اس لیے ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تاریخ اور شناخت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔‘
ان کے مطابق تاریخی عمارتوں کی بحالی نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ یہ شہری منصوبہ بندی میں تسلسل اور شناخت کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
کراچی کی تجارتی شناخت کا مرکز
صدر کراچی کے علاقے میں واقع ایمپریس مارکیٹ ایک صدی سے زائد عرصے سے شہر کی تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہی ہے، جہاں پھل، سبزیاں، مصالحہ جات، کپڑا اور روزمرہ استعمال کی اشیا فروخت ہوتی رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تاریخی عمارت کی بحالی نہ صرف شہر کے ورثے کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ یہ کراچی کے تاریخی اور ثقافتی تشخص کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
