قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر پاکستان کا اظہار افسوس

قطر کے اعلیٰ ترین حکومتی ادارے امیری دیوان نے اتوار کو بتایا کہ سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

امیر کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اللہ کے فیصلے اور تقدیر پر پختہ ایمان کے ساتھ، امیر کا دفتر قوم کے عظیم نقصان، شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر سوگوار ہے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار نے شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسحاق ڈار نے اپنے تعزیتی بیان پر کہا کہ ’خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ انہوں اپنے دور حکومت میں قطر کی جدید خطوط پر ترقی اور پاکستان کے ساتھ دوستی کے رشتے مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘

شیخ حمد جون 2013 میں امیر کی حیثیت سے 18 سالہ دور اقتدار کے بعد عہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ وہ قطر کے ان غیر معمولی عزائم کے معمار تھے جن کی بدولت ملک کم عرصے میں دنیا بھر کے لوگوں اور سرگرمیوں کا اہم مرکز بن گیا۔

عرب نیوز کے مطابق شیخ حمد نے برطانیہ کی فوجی اکیڈمی سینڈہرسٹ سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں قطر کی مسلح افواج کے کمانڈر اور وزیر دفاع بنے۔ 1970 کی دہائی کے آخری برسوں میں انھیں ولی عہد مقرر کیا گیا اور آہستہ آہستہ ان کی ذمہ داریوں میں توسیع ہوتی گئی، جن میں قطر کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر سے متعلق منصوبہ بندی بھی شامل تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیخ حمد نے عرب ذرائع ابلاغ کی طاقت ور آواز ’الجزیرہ‘ قائم کیا اور ملک کو بیرونی دنیا کے لیے کھولنے میں مدد دی۔

انہوں نے قطر ایئرویز کو بڑی بین الاقوامی فضائی کمپنی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوشش کی تاکہ وہ ہمسایہ ملک کی فضائی کمپنی ایمریٹس کا مقابلہ کر سکے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم ملک کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی انہی کے نام سے منسوب ہے، جس کی تعمیر پر کم از کم ڈیڑھ ہزار کروڑ ڈالر لاگت آئی۔

شیخ حمد قطر کو سفارتی ثالث کے طور پر وسیع کردار دلانے کا تصور رکھتے تھے۔ برسوں کے دوران قطر نے سوڈان کے مغربی خطے دارفور کے تنازع، لبنان کے مختلف دھڑوں کے باہمی اختلافات اور فلسطینی تنظیموں حماس اور فتح کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے ثالثی کی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *