مراکش کے کوچ محمد وہبی نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں فرانس کے ہاتھوں شکست کے بعد زیادہ مضبوط انداز میں واپس آئے گی اور 2030 ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے اپنی ترقی کا سلسلہ جاری رکھے گی، جس کی مشترکہ میزبانی مراکش، سپین اور پرتگال کریں گے۔
مراکش کی ٹیم 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے تاریخ رقم کر چکی تھی اور اس بار بھی کم از کم اسی کارکردگی کو دہرانے کی امید رکھتی تھی، تاہم ایک بار پھر فرانس نے اس کے عالمی کپ کے سفر کا خاتمہ کر دیا۔
بوسٹن کے قریب جلیٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میں فرانس نے مراکش کو 2-0 سے شکست دی۔
یہ وہی سکور لائن تھی جو چار سال قبل دونوں ٹیموں کے درمیان سیمی فائنل میں سامنے آئی تھی۔ فرانس کی جانب سے دوسرے ہاف میں کیلین امباپے اور عثمان ڈیمبیلے نے گول کیے۔
میچ کے بعد محمد وہبی نے کہا کہ ’فرانس ایک غیر معمولی ٹیم ہے۔ ہم ایسے ملک کے خلاف کھیل رہے تھے جو گذشتہ دو ورلڈ کپ فائنلز میں پہنچ چکا ہے اور شاید اس وقت اس کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ہم مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہمارا مقصد مزید سخت محنت کرنا ہے تاکہ آئندہ اس سے بھی بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔‘
وہبی نے میچ سے قبل کہا تھا کہ وہ کوارٹر فائنل تک رسائی کو کامیابی نہیں سمجھتے۔
شکست کے بعد انہوں نے کہا کہ ’جیتنے کے لیے ہم نے ہر ممکن کوشش کی۔ ہمارا ہدف اس سے بھی آگے جانا اور ورلڈ کپ جیتنا ہے، اس لیے شکست پر مایوسی ضرور ہے، لیکن ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا۔‘
محمد وہبی کو مارچ میں مراکش کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے ولید ریگراگی کی جگہ سنبھالی تھی، جنہوں نے افریقن کپ آف نیشنز کے فائنل تک ٹیم کی کوچنگ کی تھی۔
مراکش کو اس ٹورنامنٹ میں فیورٹ سمجھا جا رہا تھا، لیکن وہ سینیگال کے خلاف اضافی وقت میں 1-0 سے شکست کھا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعد میں سینیگال سے ٹائٹل واپس لے لیا گیا اور مراکش کو فاتح قرار دیا گیا، تاہم اس معاملے پر سینیگال کی اپیل ابھی بھی کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹ میں زیر سماعت ہے۔
اگلا افریقن کپ آف نیشنز آئندہ سال کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ میں ہوگا اور یہی مراکش کا اگلا بڑا ہدف ہے۔ کوالیفائنگ مرحلہ ستمبر میں شروع ہوگا۔
وہبی کا کہنا تھا کہ اس وقت اولین ترجیح افریقن کپ آف نیشنز ہے۔ ’اگر ہم وہاں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترقی جاری رکھنا ہوگی، کوالیفائی کرنا ہوگا اور پھر ٹائٹل جیتنے کی کوشش کرنی ہوگی۔‘
ان کے مطابق مراکش کے پاس باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی بڑی تعداد اور ایک مضبوط فٹبال فیڈریشن موجود ہے، جس کی بدولت ٹیم مسلسل بہتری کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
فرانس کے خلاف مراکش کی ٹیم میں کئی باصلاحیت نوجوان کھلاڑی شامل تھے، جن میں فرانس میں پیدا ہونے والے نوجوان مڈفیلڈر ایوب بوعادی بھی شامل ہیں، تاہم مضبوط فرانسیسی ٹیم ان کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔
وہبی نے کہا کہ ’ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ فرانس بہت اچھی ٹیم ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی گول کر سکتے تھے، لیکن ہم زیادہ دیر تک مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس نوجوان اور باصلاحیت ٹیم ہے اور ہم مزید بہتر بننا چاہتے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ ہماری ترقی میں مدد دے گا۔
’ان کھلاڑیوں نے گذشتہ سال غیر معمولی مصروفیت دیکھی ہے، جس میں افریقن کپ آف نیشنز بھی شامل تھا، اس لیے یہ آسان نہیں تھا۔ اب ہمیں ستمبر میں واپس آ کر خود کو سنبھالنا ہے اور آگے بڑھتے رہنا ہے۔‘
