جاپانی خاتون نے ساتھ رہنے والی خاتون کے ہونٹ کیوں سیئے؟

ایک جاپانی خاتون کو اپنے ساتھ رہنے والی دوسری خاتون کے مبینہ طور پر ہونٹ سی دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ متاثرہ خاتون کو ایسے زخم آئے کہ وہ کچھ کھانے یا بولنے کے قابل نہ رہیں۔

49 سالہ جزوقتی کارکن ماسائے ساکورائی کو اپنی 42 سالہ روم میٹ پر مبینہ حملے کے الزام میں پیر کو ٹوکیو کے شمال مشرق میں واقع علاقے ایباراکی کے شہر کوگا سے گرفتار کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ماسائے ساکورائی نے 29 جون کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے سوئی اور دھاگے سے خاتون کے ہونٹ آپس میں سی دیے۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ماسائے ساکورائی نے الزامات تسلیم کر لیے ہیں، تاہم پولیس نے اعلان کیا کہ وہ اس حملے کے محرکات اور حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ وہ ان دونوں خواتین کے درمیان تعلق کی بھی تفتیش کر رہے ہیں۔ 

اخبار جاپان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خاتون اگلے دن دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے اس وقت گھر سے بھاگ نکلیں، جب ماسائے ساکورائی باہر گئی ہوئی تھیں۔ چہرے پر سفید ماسک لگائے وہ بھاگ کر ایک قریبی دکان پر گئیں اور عملے کے ایک رکن کو ایک پرچی تھمائی جس پر لکھا تھا کہ ’براہ کرم میری مدد کریں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خاتون زخموں کی وجہ سے بولنے کے قابل نہیں تھیں۔ دکان کے ملازم نے پولیس کو اطلاع کر دی۔

بعد میں خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ ماسائے ساکورائی کے ڈر کی وجہ سے جلدی فرار نہیں ہو سکی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ساکورائی سے ڈر لگتا ہے اس لیے میں فوراً بھاگ نہیں سکی۔‘

کیوڈو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، دونوں خواتین تقریباً اپریل 2025 سے  ماسائے ساکورائی کے گھر میں ایک ساتھ رہ رہی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ اس مکان میں دیگر لوگ بھی رہ رہے تھے اور وہ تفتیش کے سلسلے میں ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

ہولیس اہلکار اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ واقعے کے دوران ان میں سے کچھ دوسرے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔

دی سٹریٹس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ماسائے ساکورائی کے جاننے والوں نے مقامی نشریاتی ادارے ٹی وی آساہی کو بتایا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ دینے والے لوگوں کو اپنے پاس ٹھہراتی رہی ہیں اور انہوں نے کچھ لوگوں کو کام تلاش کرنے میں بھی مدد کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اوقات میں اس گھر میں کئی لوگ رہے ہوں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *