امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے سکیورٹی خدشات سے متعلق سوالات کے باوجود قطر کی جانب سے تحفے میں ملنے والے طیارے کے بجائے دوبارہ پرانے ایئر فورس ون میں سفر کیوں کیا۔
ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ’پرانے دنوں کی یاد تازہ کرنے‘ کے لیے پرانے طیارے میں واپس جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر مالیت کا قطری طیارہ امریکی فوجیوں کے زیر استعمال ایک فضائی اڈے کے دورے پر ہے۔
بعد ازاں، ترکی کے شہر انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز جاتے ہوئے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا سکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے طیارہ تبدیل کیا؟ اس پر ٹرمپ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں۔
جب ایک صحافی نے پوچھا کہ پھر مسافروں کو طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کیوں دی گئی تھی؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ شاید آپ ایک خطرناک پرواز پر ہیں،‘ جسے ایران سے ممکنہ خطرات کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔
ایران کی جانب سے ایئر فورس ون کو کسی قابلِ اعتبار خطرے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا: ’مجھے تو ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔ ان کی فہرست میں سب سے اوپر میرا نام ہے، آپ سے بھی پہلے۔ لیکن اگر میں گیا تو آپ بھی جائیں گے۔ شاید کسی دن آپ اپنا پیشہ بدلنا چاہیں۔‘
اگرچہ ٹرمپ نے قطری طیارے کی حفاظت پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم نیویارک ٹائمز نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے ساتھ دوبارہ کشیدگی کے باعث سیکرٹ سروس کے مشورے پر احتیاطاً پرانا طیارہ استعمال کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دی انڈپینڈنٹ نے اس حوالے سے ردِعمل کے لیے وائٹ ہاؤس اور سیکرٹ سروس سے رابطہ کر رکھا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تصاویر کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ نئے طیارے میں کم از کم بعض ایسے میزائل شناختی اور دفاعی نظام موجود نہیں، جو پرانے ایئر فورس ون میں نصب ہیں۔
یہ تبدیلی ایران میں امریکی جوابی حملوں کے ایک نئے مرحلے کے بعد سامنے آئی۔ ایران، ترکی کا ہمسایہ ملک ہے اور ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے دوران ہونے والی نازک جنگ بندی اب ’ختم‘ ہو چکی ہے۔
انقرہ میں پریس کانفرنس کے دوران بھی ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی ’قتل کی فہرست‘ میں پہلے نمبر پر ہیں۔
انہوں نے کہا: ’مجھے اس کی زیادہ پروا نہیں کیونکہ میں اپنا کام کر رہا ہوں، لیکن میں ان کی فہرست میں سب سے اوپر ہوں۔‘
وائٹ ہاؤس کے مواصلاتی ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے دی انڈپینڈنٹ کو بیان میں کہا کہ نیا طیارہ ’جدید ترین‘ ہے اور اس میں اعلیٰ سطح کے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ صدر اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے بہت سے دشمن صدر کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، اسی لیے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن حکمت عملی، بشمول توجہ ہٹانے اور گمراہ کن اقدامات، اختیار کیے جاتے ہیں۔
نیٹو اجلاس میں بھی ٹرمپ نے متعدد بار کہا کہ ان کے خیال میں ایران انہیں قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
2020 میں ٹرمپ نے بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک فضائی حملے کا حکم دیا تھا، جس میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی جان سے چلے گئے تھے۔ قاسم سلیمانی گذشتہ دو دہائیوں کے دوران مغرب اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے متعدد مبینہ قاتلانہ حملوں میں بچ نکلے تھے۔
یہ حملہ کئی ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا تھا اور اس کے بعد پورے خطے میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس وقت ایران کے وزیر خارجہ نے اسے بین الاقوامی دہشت گردی قرار دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق 2024 تک امریکی انٹیلی جنس حکام کے پاس ایسے شواہد موجود تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ تہران اُس وقت کے صدارتی امیدوار ٹرمپ کو قتل کرنے کے طریقے تلاش کر رہا تھا۔
بعد ازاں امریکی وفاقی استغاثہ نے کم از کم دو افراد پر امریکہ کے سرکاری عہدیداروں، جن میں ٹرمپ بھی شامل تھے، کے قتل کی سازش کے الزامات عائد کیے۔
گذشتہ سال ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر کسی ریاست کی جانب سے انہیں قتل کیا گیا تو ایران ’صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔‘
فروری 2025 میں انہوں نے صحافیوں سے کہا: ’یہ ان کے لیے بہت برا قدم ہوگا۔ میرے لیے نہیں، لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ مکمل طور پر تباہ کر دیے جائیں گے۔ میں ہدایات چھوڑ چکا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو انہیں نیست و نابود کر دیا جائے گا، کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔‘
نیٹو اجلاس سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ چند ماہ کے دوران ایران پر امریکی حملوں میں ہونے والی اموات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ جاری رہی تو ممکن ہے وہ خود بھی ’ختم‘ ہو جائیں۔
انہوں نے کہا: ’ان کے رہنما تھے، وہ ختم ہو گئے، پھر ان کے پاس رہنماؤں کا ایک اور گروہ آیا، وہ بھی ختم ہو گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اب ان کے پاس رہنماؤں کا ایک اور گروہ ہے، شاید وہ بھی ختم ہو جائے، کون جانتا ہے اور آپ جانتے ہیں، ممکن ہے میں بھی ختم ہو جاؤں کیونکہ میں ان کا پہلا ہدف ہوں۔‘
ترکی سے روانگی کی تیاری کے دوران ٹرمپ تقریباً چار دہائیوں سے امریکی صدور کے زیرِ استعمال بوئنگ VC-25A طیارے میں سوار ہوئے۔
قطر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا بوئنگ 747 طیارہ، جس میں تقریباً 40 کروڑ ڈالر مالیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں، ٹرمپ کے مخصوص رنگوں گہرے نیلے رنگ کے ساتھ سرخ اور سنہری دھاریوں سے مزین ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نفیس قالین، لکڑی کی آرائش اور سیٹ بیلٹس پر صدارتی مہر سمیت دیگر خصوصیات بھی موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ طیارہ محفوظ، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور صدارتی فرائض کی تمام ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
طیارے میں کی گئی تبدیلیوں سے متعلق جاری بیان میں کہا گیا: ’ان تقاضوں کو اس انداز میں تیار کیا گیا کہ خوبصورتی کے بجائے صدارتی مشن کو ترجیح دی جائے، اسی لیے سابق سربراہِ مملکت کے طیارے کے اندرونی ڈیزائن میں بہت کم تبدیلی کی گئی۔ سکیورٹی، حفاظت یا مشن سے متعلق مواصلاتی نظام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا، تاہم مشترکہ ٹیم نے بعض کم استعمال ہونے والی مشن صلاحیتوں میں ردوبدل کیا، جو بوئنگ کو آئندہ 40 برس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فراہم کرنا تھیں۔‘
یہ طیارہ بظاہر صدر کے پرانے بوئنگ طیاروں کے بیڑے اور نئے صدارتی طیاروں کے درمیان ایک عارضی متبادل ہے، کیونکہ نئے طیاروں کے کم از کم ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام سے پہلے تیار ہونے کی توقع نہیں ہے۔
تاہم ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی وہ اس طیارے کو اپنے پاس رکھیں اور اسے اپنی مجوزہ صدارتی لائبریری کا حصہ بنائیں۔
صدر نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اس طیارے کو میامی میں ہوٹل نما بلند و بالا عمارت میں قائم کی جانے والی اپنی صدارتی لائبریری کی لابی تک پہنچانا ایک ’بڑا کارنامہ‘ ہوگا۔
یہ بھی اس صورت میں ممکن ہوگا جب اس منصوبے کو کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان کی مجوزہ تحقیقات کا سامنا کرنے کے باوجود برقرار رکھا جا سکے۔ ان ارکان کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اس طیارے کو قبول کرنے کے فیصلے نے اخلاقی، قانونی، سکیورٹی اور انسدادِ جاسوسی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس رپورٹ کی تیاری میں ریچل ڈوبکن نے بھی تعاون کیا۔
