امریکی فوج کے آبنائے ہرمز میں ایرانی صلاحیت مزید کم کرنے کے لیے تازہ حملے: سینٹ کام

امریکی فوج نے جمعرات کو بتایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے ایران پر مزید حملے شروع کر دیے ہیں۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ تازہ حملے کمانڈر اِن چیف کی ہدایات پر کیے جا رہے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مرتبہ پھر سے صورت حال کشیدہ دکھائی دے رہی ہے جب گذشتہ دو روز میں دونوں ہی ممالک نے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ان حملوں کے بعد بدھ کو انقرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے اور وہ مزید ایرانی قیادت سے بات کرنا ’وقت کا ضیاع‘ سمجھتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب جمعرات کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔‘

سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ’امریکہ، بین الاقوامی اہم آبی گزرگاہ میں آزادانہ طور پر سفر کرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز ایرانی جارحیت پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران پر حملوں کی نئی لہر کے اعلان کے بعد جنوبی ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ارنا کے مطابق جزیرہ کیش کے اوپر جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں، جبکہ بندر عباس، کنارک اور چابہار کے ساحلی شہروں میں دھماکے ہوئے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *