کیا واقعی جامعہ کے نام سے فرق پڑتا ہے؟

لنکڈاِن پر ایک صارف نے پچھلے دنوں لکھا کہ وہ کئی ماہ سے نوکری تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے درجنوں اداروں کو اپنی سی وی بھیجی لیکن کسی کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ایک دن انہوں نے ایک تجربہ کرنے کا سوچا۔ انہوں نے اپنی سی وی میں اپنی جامعہ کے نام کی جگہ ملک کی ایک نامور جامعہ کا نام لکھا اور پھر وہ سی وی ان  ہی اداروں کو ملازمت کی نئی درخواست کے ساتھ بھیجنا شروع کر دی۔

اگلے کچھ دنوں میں انہیں چار اداروں کی طرف سے انٹرویو کال موصول ہوئی۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ جامعہ کا نام انسان کا کرئیر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تو کیا واقعی اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ آپ نے کس جامعہ سے تعلیم حاصل کی ہے؟

بالکل فرق پڑتا ہے لیکن ایک حد تک۔ اس کے بعد انسان اپنی محنت، صلاحیتوں اور روابط کی بدولت آگے بڑھتا ہے۔

نامور جامعات کی ساکھ ان کے طالب علموں کو انڈسٹری میں داخل ہونے میں مدد دیتی ہے۔ ان طالب علموں کو ملازمت کے لیے زیادہ انٹرویو کالز موصول ہوتی ہیں اور ان کے نوکری حاصل کرنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

اگر کسی ادارے میں ان جامعات کے گریجویٹس پہلے سے کام کر رہے ہوں تو وہاں ان کے نئے گریجویٹس کے لیے نوکری حاصل کرنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

نوکری ملنے کی صورت میں ان گریجویٹس کی تنخواہ اور مراعات بھی کم رینکنگ والی جامعات سے فارغ التحصیل طالب علموں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں۔

تاہم، اس کامیابی کے پیچھے صرف جامعہ کا نام نہیں بلکہ اس کی پالیسیاں، وسائل، صنعت سے روابط اور برسوں کی محنت ہوتی ہے۔ یہ جامعات مسلسل اپنے وسائل بڑھانے، اپنے طالب علموں اور فیکلٹی کو جدید سہولتیں فراہم کرنے اور اپنے نصاب کو انڈسٹری کی ضروریات سے ہم آہنگ رکھنے پر کام کرتی رہتی ہیں۔ اس کا براہِ راست فائدہ ان کے طالب علموں کو ہی ہوتا ہے۔

یہ جامعات اپنی ملکی و بین الاقوامی ساکھ بہتر بنانے کے لیے تحقیق، جدت اور بین الاقوامی تعاون کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ یہ ایسی پالیسیاں بناتی ہیں جن کے تحت فیکلٹی اور طالب علم زیادہ سے زیادہ معیاری تحقیق کرتے ہیں، بین الاقوامی جرائد میں اپنی تحقیق شائع کرواتے ہیں اور عالمی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کا فائدہ ہوتا ہے بلکہ جامعہ کی رینکنگ اور ساکھ بھی بہتر ہوتی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے ساتھ ساتھ یہ جامعات اپنے فارغ التحصیل طالب علموں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرتی ہیں۔ ان کے یہ سابقہ طالب علم اپنے اداروں میں ان کے نئے طالب علموں کے لیے نئی انٹرنشپس، مینٹورنگ اور ملازمت کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان جامعات میں باقاعدہ کیریئر سروسز یا انڈسٹری لائژن دفاتر موجود ہوتے ہیں جن کے افسران مختلف کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرتے ہیں، کیریئر میلے منعقد کرتے ہیں اور طالب علموں کے لیے انٹرنشپس، ملازمتوں اور کیمپس ریکروٹمنٹ کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔

تاہم، اکیڈیمک ریسرچ کے مطابق جامعہ کے نام، ساکھ، اس قدر محنت اور روابط کا یہ فائدہ عموماً طالب علموں کے کیریئر کے ابتدائی مرحلے تک ہی محدود رہتا ہے لیکن اس کے بعد ان کی ترقی کا انحصار ان کی اپنی کارکردگی، مسلسل سیکھنے کی صلاحیت، پیشہ ورانہ رویے اور نتائج پر ہوتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ملازمین کے درمیان فرق ان کی یونیورسٹی کے نام سے نہیں بلکہ ان کی مہارت، تجربے اور کارکردگی سے پیدا ہوتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ محنت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ ایک طالب علم کتنی ہی اچھی جامعہ سے کیوں نہ پڑھا ہوا ہو، اگر وہ اپنی مہارتوں کو مسلسل بہتر نہیں بناتا، نئی چیزیں نہیں سیکھتا اور اپنے شعبے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہیں رکھتا تو وہ جلد اپنے ہم عصروں سے پیچھے رہ جائے گا۔

اس کے مقابلے میں اگر کسی نسبتاً کم رینکنگ والی جامعہ کا طالب علم جدید مہارتیں سیکھنے پر توجہ دیتا ہے، عملی تجربہ حاصل کرتا ہے، مضبوط پورٹ فولیو بناتا ہے اور اپنے کام کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تو اسے ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

یونیورسٹی ایک پلیٹ فارم ہے۔ یہ آپ کو آغاز کا موقع ضرور فراہم کرتی ہے لیکن آگے کا سفر آپ نے خود اپنی محنت کے بَل پر طے کرنا ہوتا ہے۔

اس لیے ان گرمیوں کی چھٹیوں کو محض آرام میں نہ گزاریں بلکہ انہیں اپنے اوپر سرمایہ کاری کا موقع بنائیں۔ نئی مہارتیں سیکھیں، تجربات کریں، اپنا پورٹ فولیو تیار کریں اور اپنا کام اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر شائع کریں۔ ہو سکتا ہے آپ کو ان کا فوراً نتیجہ حاصل نہ ہو لیکن آپ کی مسلسل محنت آپ کے کام کو ایک دن ضرور اجاگر کرے گی۔

پھر آپ کو بھی بہت سے مواقع ملیں گے لیکن آپ کو وہ مواقع اپنی جامعہ کے نام کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ملیں گے۔

اور ہو سکتا ہے ایک وقت ایسا بھی آئے جب آپ کو اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی جامعہ کا نام استعمال کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑے اور دوسری طرف آپ کی جامعہ کا تعارف آپ کے نام کے بغیر پورا نہ ہو۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *