امریکی فوج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد منگل کو ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’امریکی افواج نے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف ایرانی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، جہاز شکن میزائل صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب کے 60 سے زائد چھوٹے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔‘
سینٹ کام نے مزید کہا کہ یہ ’طاقتور‘ حملے اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے اور حملہ کرنے کی بھاری قیمت عائد کرنا‘ ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے آبنائے ہرمز کے اطراف متعدد دھماکوں کی اطلاع دی، جن میں جزیرہ قشم پر چھ، شہر سیریک میں سات اور اہم بندرگاہی شہر بندر عباس میں مزید دھماکے شامل ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ پر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
وزارت نے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری بیان میں کہا: ’ایران معاہدے کی امریکی خلاف ورزی کے نتائج کے بارے میں سنجیدہ انتباہ جاری کر رہا ہے اور اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔‘
یہ حملے اس پیش رفت کے کچھ ہی دیر بعد کیے گئے جب واشنگٹن نے ایرانی تیل سے متعلق پابندیوں میں دی گئی عارضی چھوٹ ختم کر دی، جس سے تنازعے کے حتمی تصفیے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کرنے والے تہران پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں جاری کیا گیا وہ لائسنس منسوخ کر دیا، جس کے تحت ایران کو 21 اگست تک خام تیل اور متعلقہ مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل کی اجازت دی گئی تھی۔
ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا: ’آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات امریکہ کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ قبول تھے اور ان کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ’مکمل طور پر کارکردگی سے مشروط‘ ہے اور تہران کو فوائد اسی صورت میں حاصل ہوں گے جب وہ ’اچھے طرزِ عمل‘ کا مظاہرہ کرے گا۔
تاہم عہدیدار نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار اب بھی ’نیک نیتی کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
برطانوی بحری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ رات کے دوران ایک آئل ٹینکر کو ’نامعلوم میزائل‘ نے نشانہ بنایا جس سے اس میں آگ لگ گئی، اس کے بعد مزید دو جہاز حملوں کی زد میں آئے، جن میں سے کم از کم ایک کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
تینوں جہازوں کو عمان کے قریب نشانہ بنایا گیا، جہاں عمان نے اپنی ساحلی پٹی کے ساتھ ایک عارضی بحری راہداری تجویز کی تھی۔ ایران نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے کیونکہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنا چاہتا ہے۔
قطر نے کہا کہ متاثرہ جہازوں میں سے ایک اس کا مائع قدرتی گیس بردار جہاز الرقیات تھا۔ ساتھ ہی اس نے حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے بین الاقوامی بحری آمدورفت پر اس حملے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
بعد ازاں دوحہ نے ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا، وضاحت طلب کی اور تہران پر زور دیا کہ وہ ’علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات فوری طور پر بند کرے۔‘
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر لکھا: ’ہم اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات یا اثرات کا مکمل قانونی ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہیں۔‘
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے قطر کے الزامات پر ’افسوس‘ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
آبنائے ہرمز کا تنازع
ان حملوں نے، جن سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کی نسبتاً خاموشی ختم ہوگئی، بحری آمدورفت کی آزادی کے بارے میں خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ اس سے قبل امریکہ کے ساتھ نازک جنگ بندی کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی ختم کر دی تھی۔
حالیہ کشیدگی سے تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا کیونکہ نئے حملوں سے عالمی توانائی کی رسد کے بارے میں خدشات دوبارہ بڑھ گئے اور امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی پائیداری پر سوالات اٹھنے لگے۔
گذشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بحری آمدورفت بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی تھی، تاہم ایران کا اصرار ہے کہ جنگ سے پہلے کے انتظامات کی طرف واپسی نہیں ہوگی، جن کے تحت جہاز آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزر سکتے تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اور عمان، جو آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں، دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات کے تعین کے لیے مذاکرات کریں گے۔
قطر نے اس سے قبل ایران کی بمباری کے دوران ثالثی سے انکار کر دیا تھا، جب تہران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر اپنی نوعیت کی غیر معمولی فضائی بمباری کی تھی۔
تاہم اس کے بعد دوحہ نے زیادہ فعال کردار اختیار کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی۔
