کشمیری رہنما محبوبہ مفتی کا دورہ ایران اہم کیوں؟

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری ہیں اور عالمی میڈیا ہر پہلو کو بڑے غور سے دیکھا رہا ہے۔

دیگر پہلوؤں کے علاو ایک اہم پیش رفت مختلف ممالک سے مدعو کی گئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان میں شرکت سے ملنے والے علامتی پیغامات کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، جو اتوار 5 جولائی 2026 کو ایران سے واپس پہنچی ہیں، کشمیر کی پہلی سنی رہنما بن گئی ہیں جنہوں نے اتنے اعلیٰ سطحی ایرانی سرکاری اور مذہبی پروگرام میں شرکت کی۔

ان کے اس دورے کو ایران کی جانب سے ایک اہم سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق ایران نے علیحدگی پسند کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق اور عبد اللہ کو تو مدعو نہیں کیا البتہ محبوبہ مفتی وہاں موجود تھیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران محبوبہ مفتی نے کشمیر کے کئی دیگر سیاست دانوں سے قدرے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

انہوں نے ایران اور اس کے عوام کے لیے عوامی عطیات کی اپیل بھی کی جبکہ متعدد مواقع پر ایران کی قیادت کی ثابت قدمی اور بہادری کی تعریف کی اور اسرائیل کو ’شر‘ قرار دیا۔

اس جنگ کے آغاز سے قبل فروری میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر بھی محبوبہ مفتی نے تنقید کی تھی اور بظاہر ایران، فلسطین اور لبنان جیسے مسلم مسائل پر محبوبہ مفتی کے واضح مؤقف نے حالیہ برسوں میں ایران کے نزدیک اسرائیل، فلسطین جنگ کے بعد ان کی اہمیت بڑھائی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران سے واپسی پر محبوبہ مفتی نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’تہران سے روانگی کے وقت میرے خیالات اس کے بہادر رہنماؤں اور اس کے ثابت قدم عوام کے ساتھ ہیں، جو اس وقت گہرے صدمے اور غم سے گزر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ایرانی حکومت کی بے حد شکر گزار ہوں جس نے ہماری انتہائی گرمجوشی اور خلوص کے ساتھ میزبانی کی۔ یہاں آنا میرے لیے ایک اعزاز کی بات رہی۔‘

ایران نے علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے طالبان اور ان کے افغان مخالفین، دونوں کو دعوت دی۔ شرکا میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سربراہ احمد مسعود بھی شامل تھے۔

جبکہ طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی جنازے میں شرکت کے لیے تہران میں تھے۔

ایک ہی وقت میں افغانستان میں برسراقتدار طالبان قیادت اور حزب اختلاف کے اہم رہنما کی ایران میں موجودگی توجہ کا مرکز بنی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *