بلوچستان میں پولیس کے مطابق کے سیاحتی مقام زیارت کے کچھ مانگی کے علاقے میں پیر کی شب مسلح افراد کے حملے میں نو پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی ہے جبکہ متعدد دیگر اہلکار زخمی اور اغوا ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
زیارت پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپنڈنڈٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ رات کچھ مانگی فیز تھری کے علاقے میں ڈپٹی کمشنر زیارت اور عملہ گشت پر تھے کہ مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔
پولیس اہلکار کے مطابق اطلاع ملنے پر پولیس اور انسداد دہشت گردی فورس کی مزید نفری علاقے میں بھیج دی گئی۔
ان کے مطابق رات بھر مسلح افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں نو پولیس اہلکار جان سے گئے جن کی لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے میں متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ اغوا کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
واقعے کے بعد زیارت میں علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ بند کر دی اور دھرنا دے دیا ہے، جس کے باعث شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ’مغوی اہلکاروں‘ کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
یہ بلوچستان میں گذشتہ چند روز میں پیش آنے والا دوسرا ایسا واقعہ ہے جس میں مسلح افراد نے حملہ کیا۔
دو روز قبل کوئٹہ اور زیارت کے درمیانی علاقے کلی ببری میں بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے مقامی افراد پر حملہ کیا تھا، جس میں چار افراد کی موت ہو گئی تھے۔
