علی خامنہ ای کی آخری رسومات، دکھ کی گھڑی میں ایران کے ساتھ ہیں: پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسے وقت پر ایران کے ساتھ کھڑا ہے جب وہ اپنے غم کے لمحے سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ’میں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور برادر عوام سے مرحوم سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں اپنی گہری تعزیت اور احترام کا اظہار کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا سپریم لیڈر کی ’دانش، قیادت اور ایران اور وسیع تر خطے پر گہرا اثر آنے والی نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے میرے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد موجود تھا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سینیئر پارلیمنٹیرینز جن میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق شامل تھے، اس کے علاوہ سینیئر وزرا اور سرکاری حکام بھی شامل تھے۔‘

ایران میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات سرکاری طور پر شروع ہو گئی ہیں۔

اس تقریب میں ہزاروں افراد شریک ہیں جس کا مقصد ایران کے دشمنوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں آئندہ تین دن کے دوران صرف تہران میں علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع ہے۔

علی خامنہ ای کی یاد میں چھ روزہ آخری رسومات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جنہوں نے 1989 سے لے کر رواں سال 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے دن 86 برس کی عمر میں اپنی موت تک ایران کے اعلیٰ ترین رہنما کے طور پر حکمرانی کی۔ 

ان تقریبات کا خاص طور پر خامنہ ای کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کی کسی بھی جھلک کے لیے باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، جنہیں اپنے والد کی موت کے ایک ہفتے بعد سپریم لیڈر نامزد کیا گیا تھا لیکن وہ تاحال منظر عام پر نہیں آئے۔ 

تہران کے وسیع مذہبی کمپلیکس گرینڈ مصلیٰ کے صحن میں ہزاروں سوگوار خامنہ ای کے تابوت کی آمد کے انتظار میں جمع ہیں، جنہوں نے انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ پرچم اٹھا رکھے ہیں۔

یونیورسٹی کے 37 سالہ پروفیسر رضا نے بتایا ’ہم (آخری رسومات میں) اس لیے آئے ہیں کیوں کہ ہم نے سپریم لیڈر سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آخر تک ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

’طویل عرصے تک یہ نعرے لگاتے رہے کہ ہم رہنما کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے لیکن یہ وہ تھے جنہوں نے ہمارے لیے خود کو قربان کر دیا۔‘

فوڈ پروسیسنگ پلانٹ میں کام کرنے والے 43 سالہ جواد اکبری کا کہنا تھا ’مجھے سپریم لیڈر کو کبھی قریب سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور مجھے اس کا افسوس ہے۔ آج میں انہیں الوداع کہنے آیا ہوں۔‘

اے ایف پی کے ایک اور صحافی نے سوگواروں کو کئی کلومیٹر پیدل چل کر پنڈال تک پہنچتے دیکھا۔

ایران کے سینکڑوں حامی جمعے کی شام سے ہی گرینڈ مصلیٰ کے باہر پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔

سمیہ حامدی نے کہا ’ہم اپنے رہنما کو الوداع کہنا چاہتے ہیں، اسی لیے اس طرح انتظار کرنا ہمارے لیے تکلیف دہ یا مشکل نہیں۔‘

1989 میں خامنہ ای کے پیشرو روح اللہ خمینی کی تدفین کے بعد سے ایران میں ہونے والے اس سب سے بڑے متوقع عوامی اجتماع کے لیے سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور فضائی حدود بند رہنے کا امکان ہے۔ 

’آخری الوداع‘

میت پیر تک عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا جس کے بعد تہران میں جلوس نکالا جائے گا۔

منگل کو اسے مذہبی مرکز قم منتقل کر دیا جائے گا جس کے بعد بدھ کو پڑوسی ملک عراق میں مقدس شہروں اور پھر جمعرات کو تدفین کے لیے شمال مشرقی ایران میں واقع خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد لے جایا جائے گا۔

جنگ میں بچ جانے والے حکام نے جمعے کو اپنے دکھ کا اظہار کیا اور متحدہ محاذ کا مظاہرہ کیا، جب کہ پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ سے بات چیت میں اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف واضح طور پر آبدیدہ تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خراج عقیدت پیش کرنے والے اعلیٰ ایرانی حکام میں احمد وحیدی بھی شامل تھے، جنہیں ان کے پیشرو کی ان ہی حملوں میں موت کے بعد طاقتور پاسداران انقلاب کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا جن میں خامنہ ای مارے گئے تھے۔

تاہم اس کے بعد سے وہ منظر عام پر نہیں آئے۔

حملوں میں جان سے جانے  والے دیگر رشتہ داروں کی بھی تدفین کی جائے گی، جن میں علی خامنہ ای کی شیر خوار پوتی بھی شامل ہیں۔

عالمی رہنماؤں کی شرکت

آخری رسومات میں کئی ملکوں کے سربراہان اور وفود بھی شریک ہو رہے ہیں۔ 

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستان، روس، چین، افغانستان، عراق، کردستان، انڈیا، ترکی آذربائیجان، آرمینیا، جارجیا، تاجکستان، قازقستان، ترکمانستان کے لیڈر اور وفود شامل ہوں گے۔

ملائیشیا، عمان، قطر، بیلاروس، کرغزستان، ازبکستان، مصر، گھانا، نکاراگوا، جمہوری جمہوریہ کانگو، سربیا اور کیوبا سے بھی متوقع ہیں۔

 

ایرانی میڈیا نے مزید بتایا کہ تیونس، لبنان، نمیبیا، سری لنکا، میانمار، گیمبیا اور تھائی لینڈ کے وفود کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

 

ایران نے کسی بھی یورپی ملک کو باضابطہ طور پر مدعو نہیں کیا کیونکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعئیل بقائی کے مطابق جن ممالک نے حملوں کے حوالے سے ’نامناسب موقف‘ اپنایا، انہیں دعوت نہیں دی گئی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *