لبنان کی ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے: صدر جوزف عون

لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکراتی فریم ورک کے حوالے سے جمعرات کو کہا ہے کہ یہ عمل غداری نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر لڑی جانے والی ایک جنگ ہے، اور ’لبنان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑے گا۔‘

لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق صدر جوزف عون نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا: ’اسرائیل سے مذاکرات غداری نہیں بلکہ غیر ضروری خونریزی کے بغیر ایک سفارتی جنگ ہیں۔ ہم لبنان کی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان، شام اور غزہ میں قائم اپنے نام نہاد ’سیکیورٹی زونز‘ میں ’مزید اطلاع تک‘ موجود رہے گی۔

گذشتہ ہفتے لبنان اور اسرائیل نے امریکہ کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس معاہدے کے تحت جنوبی لبنان میں مرحلہ وار لبنانی فوج اپنی عملداری قائم کرے گی، جبکہ حزب اللہ ہتھیار چھوڑے گی اور اسرائیلی فوج علاقے سے واپس جائے گی۔ تاہم اس عمل کے لیے کسی حتمی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔

معاہدے کی تفصیلات ایک سیکیورٹی ضمیمے میں طے کی جائیں گی، جسے تاحال عوام کے سامنے جاری نہیں کیا گیا۔

اسرائیل نے لبنان پر حالیہ حملوں کا سلسلہ دو مارچ کو شروع کیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں شروع کیں، جن میں لبنانی حکام کے مطابق چار ہزار 200 سے زائد افراد جان سے گئے۔

رواں ہفتے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی، جسے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد پہلا مہلک حملہ قرار دیا گیا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے بھی اس موقع پر زور دیا تھا کہ لبنان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *