انڈیا: سڑک پر چلتے الیکٹرک رکشے کیوں بند ہونے لگے؟

انڈیا میں ایسی ویڈیوز وائرل ہو گئی ہیں جن میں لوگوں کو ایک چینی ایپ استعمال کرتے ہوئے سفر کے دوران دور سے ای رکشوں کی برقی توانائی منقطع کرتے دکھایا گیا ہے۔

اس صورت حال نے کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں میں ایک سکیورٹی خامی کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے باعث ڈرائیور ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں اور اپنی گاڑیاں دوبارہ چلانے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس ایپ کا نام BAT-BMS ہے، جسے چینی کمپنی شین ژین گرینرجی ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے۔

اس میں ’ڈسچارج سوئچ‘  نامی ایک فیچر شامل ہے، جو عام طور پر مکینک مرمت سے پہلے محفوظ طریقے سے توانائی منقطع کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 تاہم اب اس فیچر کا غلط استعمال کرتے ہوئے ای رکشوں کو سفر کے دوران بند کیا جا رہا ہے۔ اس عمل میں ملوث بعض افراد نے اپنی پوسٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ای رکشہ ڈرائیوروں سے ’بدلہ‘ لے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں اچانک بند ہونے کے بعد ڈرائیور انہیں ٹریفک کے درمیان دھکا دے رہے ہیں، جس سے کئی افراد کی روزی روٹی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

اس خطرناک رجحان کو ’تِرّی کنٹرول‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انڈیا کے بعض علاقوں میں ’تِرّی‘ ای رکشوں کے لیے استعمال ہونے والا عام لفظ ہے۔

گذشتہ چند دنوں میں یہ ویڈیوز انسٹاگرام، یوٹیوب، ریڈٹ اور ایکس پر تیزی سے پھیلی ہیں۔

ان میں سے کئی ویڈیوز، جو مبینہ طور پر خود مذاق کرنے والوں نے اپ لوڈ کی ہیں، دکھاتی ہیں کہ لوگ مصروف سڑکوں پر ای رکشوں کے قریب جاتے ہیں، ایپ کھولتے ہیں، بلوٹوتھ کے ذریعے گاڑی کی بیٹری سے منسلک ہوتے ہیں اور ڈسچارج سوئچ آن کر دیتے ہیں، جس سے موٹر کی توانائی منقطع ہو جاتی ہے اور گاڑی اچانک رک جاتی ہے۔

ایک وائرل پوسٹ پر تحریر ہے: بدلے کا وقت آ گیا ہے۔

بہت سے صارفین نے نشاندہی کی ہے کہ ٹریفک میں چلتی گاڑی کی بجلی منقطع کرنا ڈرائیور، مسافروں اور دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے حقیقی حفاظتی خطرہ ہے۔

یہ ایپ بلوٹوتھ کے ذریعے ای رکشے کی لیتھیم بیٹری میں نصب بیٹری مینجمنٹ سسٹم سے منسلک ہوتی ہے۔

 انڈیا میں متعدد کم قیمت ای رکشوں میں چینی ساختہ بیٹری مینجمنٹ یونٹس استعمال ہوتے ہیں جو مکمل طور پر غیر محفوظ ہوتے ہیں، کیونکہ ان پر نہ کوئی پاس ورڈ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی تصدیقی نظام۔

اس کا مطلب ہے کہ 10 سے 15 میٹر کے فاصلے پر موجود کوئی بھی شخص ان سے اسی طرح جڑ سکتا ہے جیسے کسی غیر محفوظ وائی فائی نیٹ ورک سے جڑا جاتا ہے۔

ویڈیوز میں بعض متاثرہ ڈرائیوروں کو اپنی گاڑیاں دوبارہ چلانے کے لیے راہگیروں کو 100 سے 200 انڈین روپے ادا کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔

تمام ڈرائیوروں کے پاس سمارٹ فون نہیں ہوتے یا وہ بلوٹوتھ سیٹنگز دوبارہ ترتیب دینے کی تکنیکی معلومات نہیں رکھتے، جبکہ کئی بی ایم ایس یونٹس مکمل طور پر چینی زبان میں ترتیب دیے گئے ہوتے ہیں۔

تاہم ویڈیوز اس خامی کے پھیلاؤ کو حقیقت سے زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔

یہ طریقہ صرف ان رکشوں پر کام کرتا ہے جن میں بلوٹوتھ سے منسلک لیتھیم بیٹری پیک اور ہم آہنگ، غیر محفوظ بیٹری مینجمنٹ سسٹم موجود ہو۔

لیڈ ایسڈ بیٹریوں پر چلنے والے ای رکشے، جو اب بھی انڈیا میں عام ہیں، اس مسئلے سے متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح وہ گاڑیاں بھی محفوظ ہیں جن میں ملکیتی سافٹ ویئر یا پاس ورڈ سے محفوظ نظام استعمال ہوتا ہے۔

متعدد افراد جنہوں نے ان حرکات کی نقل کرنے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ یہ مختصر ویڈیوز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل عمل ہے، کیونکہ اس کے لیے صارف کا قریب ہونا، ساکن ہونا اور قریب ہی کوئی غیر محفوظ و ہم آہنگ بیٹری موجود ہونا ضروری ہے۔

BAT-BMS ایک بیٹری مینجمنٹ ٹول ہے جو صارفین کو بلوٹوتھ سے چلنے والی لیتھیم بیٹریوں کی وائرلیس نگرانی کی سہولت دیتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بیٹری کی چارج سطح، وولٹیج، کرنٹ، درجہ حرارت اور ہر سیل کی حالت جیسی معلومات دکھاتا ہے۔ ایپ حقیقی وقت میں انتباہات اور کنٹرول فراہم کر کے بیٹریوں کو حد سے زیادہ چارج ہونے، زیادہ ڈسچارج ہونے اور زیادہ گرم ہونے سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔

تاہم یہ واقعات ایک پیچیدہ سائبر حملے کے بجائے سکیورٹی ڈیزائن میں موجود ایک خامی کو نمایاں کرتے ہیں۔

ٹیکنالوجی مواد تخلیق کرنے والے ابھیشیک بھاٹناگر، جنہوں نے ایکس پر ہندی میں اس مسئلے کی وضاحت پوسٹ کی، نے کہا کہ اس خامی کو دور کرنے کی ذمہ داری ڈیلرز اور مینوفیکچررز پر عائد ہوتی ہے، جنہیں گاڑیاں فروخت کرنے سے پہلے بیٹری مینجمنٹ سسٹمز پر پاس ورڈ ترتیب دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری ادارے بھی پاس ورڈ تحفظ کو لازمی قرار دے سکتے ہیں۔

دہلی نے حال ہی میں ایک پالیسی کو حتمی شکل دی ہے جس کے تحت 2027 سے صرف الیکٹرک تھری وہیلرز کو نئے لائسنس پلیٹس جاری کیے جائیں گے، جس سے دارالحکومت میں ای رکشوں کی جانب منتقلی لازمی ہو جائے گی۔

انڈین سڑکوں پر موجود ای رکشوں کی اکثریت کم قیمت گاڑیوں پر مشتمل ہے جو کم لاگت کے پرزے استعمال کرتی ہیں، اور یہی وہ کیٹگری ہے جو وائرل ویڈیوز میں نمایاں ہونے والی اس خامی سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے۔

وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ممکنہ سائبر سکیورٹی اور عوامی تحفظ کے خطرات کے پیش نظر اس ایپ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ BAT-BMS کو ایپل کے ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم یہ اب بھی گوگل پلے پر دستیاب ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *