جاپان نے ریکارڈ سطح تک پہنچنے والی دھوکہ دہی کی لہر کے خلاف اپنی لڑائی میں ایک غیرمتوقع معاون کو میدان میں اتارا ہے اور وہ ہے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی پولیس چیف۔
’اے آئی کو‘ کے نام سے معروف اس اے آئی ورچوئل کردار کو اوساکا پریفیکچرل پولیس نے ایسے فراڈ کے خلاف آگاہی مہم کے تحت متعارف کرایا ہے جو اب صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر عمر کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
’اے آئی کو‘ یوٹیوب پر ایک نوجوان خاتون کے چہرے اور آواز کے ساتھ نظر آتی ہے اور عوام کو خبردار کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص ویڈیو کال پر خود کو پولیس افسر ظاہر کرے تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ انہیں دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کو پہلی بار عوامی سطح پر ایسے وقت میں سامنے لایا گیا جب جاپان گذشتہ سال دو ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فراڈ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان فراڈز میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی، رومانس فراڈ اور پولیس افسران، مشہور شخصیات اور دیگر قابل اعتماد افراد کا روپ دھار کر لوگوں کو لوٹنے کے واقعات شامل ہیں۔
’اے آئی کو‘ کا نام مصنوعی ذہانت کے مخفف اے آئی اور جاپانی خواتین کے ناموں میں عام طور پر استعمال ہونے والے لاحقے ’کو‘ کو ملا کر رکھا گیا ہے۔
اس نے مئی کے آخر میں اوساکا پریفیکچرل پولیس کے یوٹیوب چینل پر پہلی بار نمودار ہو کر حقیقی فراڈ کالز پر مبنی ویڈیوز کے ذریعے بتایا کہ دھوکے باز کس طرح اپنے شکار کو ذہنی طور پر قابو میں کرتے ہیں اور کن انتباہی علامات کو پہچاننا ضروری ہے۔
’چیف اے آئی کو کی جرائم سے بچاؤ کی کلاس‘ کے عنوان سے ایک ویڈیو میں وہ واضح الفاظ میں کہتی ہے ’کوئی بھی پولیس افسر آن لائن اپنا شناختی کارڈ یا گرفتاری کا وارنٹ نہیں دکھاتا۔‘
پولیس کو امید ہے کہ یہ ورچوئل افسر نوجوانوں پر زیادہ مؤثر ثابت ہوگی کیونکہ وہ روایتی عوامی آگاہی مہمات میں کم دلچسپی لیتے ہیں لیکن سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے فراڈ کا تیزی سے شکار بن رہے ہیں۔
یہ حکمت عملی جاپان میں فراڈ کے بدلتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
پولیس کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال اوساکا میں فراڈ کا شکار ہونے والوں میں تقریباً نصف افراد کی عمر 64 سال یا اس سے کم تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آن لائن فراڈ اب صرف بزرگوں کا مسئلہ نہیں رہا۔
یہ رپورٹ خبر رساں ادارے کیوڈو نے شائع کی۔ حکام کے مطابق متاثرین کو ایسے مجرموں نے دھوکہ دیا جنہوں نے خود کو پولیس افسر، مشہور سرمایہ کاری مشیر، یا حتیٰ کہ رومانوی ساتھی ظاہر کیا۔
اے آئی کو کے پیچھے توشی نوری ہیرانو ہیں جو کاگاوا یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی سینٹر میں وزٹنگ پروفیسر ہیں اور اس سے قبل اوساکا پولیس کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہیرانو نے کیوڈو کو بتایا کہ انہیں امید ہے یہ منصوبہ ’ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے جرائم سے بچاؤ کے بارے میں عوامی شعور کو مزید فروغ دے گا۔‘
جاپانی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان فراڈز میں ملوث کئی منظم جرائم پیشہ گروہ جنوبی مشرقی ایشیا کے سرزمین پر قائم مراکز، خاص طور پر میانمار اور کمبوڈیا کے سرحدی علاقوں سے کام کرتے ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر فراڈ نیٹ ورکس پروان چڑھ چکے ہیں۔
اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششوں کے تحت جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی کے حکام نے حال ہی میں اپنے کمبوڈیائی ہم منصبوں سے ملاقات کی تاکہ سرحد پار سرگرم فراڈ گروہوں کے خلاف تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے اور جاپانی شہریوں سے متعلق جاری تحقیقات پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران جنوبی مشرقی ایشیا میں مبینہ طور پر فراڈ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 30 سے زائد جاپانی شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
اے آئی کو کا آغاز ایسے وقت میں بھی ہوا ہے جب جاپان حکومت کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کی وسیع تر مہم چلا رہا ہے۔
جاپان کی ڈیجیٹل ایجنسی گینائی (Gennai) نامی ایک محفوظ جنریٹو اے آئی پلیٹ فارم متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جسے 39 سرکاری اداروں کے تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار سرکاری ملازمین دستاویزات کی تیاری، قانونی تحقیق، تراجم اور پارلیمانی جوابات تیار کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ یہ رپورٹ جاپان ٹائمز نے شائع کی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نظام سرکاری امور کے انتظامی بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گا جبکہ اسے ایک بند نیٹ ورک پر چلایا جائے گا تاکہ حساس معلومات کے افشا ہونے کے خطرات کو کم سے کم رکھا جا سکے کیونکہ جاپان سرکاری شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز رفتاری سے فروغ دینا چاہتا ہے۔
