میں یہ کہہ کر آغاز کرنا چاہتی ہوں کہ مجھے سمجھ ہے کہ اتنی شدید ہیٹ ویو کے دوران جب اضافی ڈگری حدت دماغ کے سیل کو پگھلا دیتی ہے۔
کسی کے لیے ایک مکمل جملہ بنانا بھی مشکل ہوتا ہے، لباس کا اچھا انتخاب تو دور کی بات ہے۔
گذشتہ چند دنوں میں جب کبھی میں خود کو پنکھے سے الگ کرنے میں کامیاب ہوئی، وہ بھی صرف انتہائی ضروری کاموں کے لیے تھا مثلا ٹوائلٹ پیپر خریدنے، ڈارک چاکلیٹ لینے یا خود کو یہ یاد دلانے کے لیے کہ پالتو بلی کے علاوہ کسی انسان سے بات کیسے کی جاتی ہے تو میرے مختلف قسم کے لباس کچھ ایسے لگ رہے تھے جیسے ایک ننھے بچے اور ایک ادھیڑ عمر انگریزی ٹیچر، جو ویک اینڈ پر جادو ٹونا سیکھتی ہو، کا عجیب سا امتزاج ہوں۔
میرا مطلب ہے ڈھیلی ڈھالی پاجامہ شارٹس اور سفید بنیانیں، جو بار بار دھلنے سے پیلی پڑ چکی ہیں۔
تیز گلابی لائکرا شارٹس، جن کے ساتھ ایک اور کبھی سفید مگر اب پیلا پڑ چکا کراپ ٹاپ اور 1992 کے یورپی ٹور کی ایک بہت بڑی ڈیف لیپرڈ ٹی شرٹ، جس کے ساتھ نہ جانے کیوں چیتے کے پرنٹ والی لیگنگز پہن لی گئی تھیں۔
عام زندگی میں فیشن میرے ذہن پر حاوی رہتا ہے مگر اس موسم میں میرے دماغ میں اس کے لیے گنجائش ہی نہیں بچتی۔
یہ معاملہ اب اس سوال کا نہیں رہتا کہ ’کیا چیز کس کے ساتھ اچھی لگے گی؟‘ بلکہ زیادہ یہ بن جاتا ہے کہ ’جو چیز سب سے جلدی مل جائے اور جس میں ابلا ہوا محسوس نہ ہو، وہی پہن لو۔‘
یہ بقا کی حکمت عملی ہے اور اس کی بھی مختلف سطحیں ہیں۔
خواتین کے پاس کم از کم یہ سہولت تو ہوتی ہے کہ وہ ایک ڈھیلا ڈھالا لباس پہن لیں، جو کچھ کچھ بہت پتلی چادر اوڑھنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
مرد بھی یقیناً ایسا کر سکتے ہیں اور شاید اچھے بھی لگیں، مگر زیادہ تر ایسا نہیں کرتے۔
ان گرم اور بے رحم سڑکوں پر جو کچھ میں نے دیکھا، اس کے مطابق عام مردانہ ہیٹ ویو یونیفارم میں بہت زیادہ ڈھیلی یا بہت لمبی شارٹس، مزاحیہ قسم کی بکِٹ ہیٹس، چیری رنگ کے ویفرر رے بینز اور شاید سب سے برا، بہت زیادہ کھلے گلے والی بنیانیں اور ٹی شرٹس شامل ہیں۔
یا پھر، آپ جانتے ہی ہیں، بغیر شرٹ کے۔ آخر گرمی مردوں کو ایسے نوعمر لڑکوں میں کیوں بدل دیتی ہے جو ایسے لگتے ہیں جیسے سارا دن بغیر کھڑکی والے کمرے میں گیمنگ چیئر سے چپکے رہتے ہوں؟
سچ کہوں تو مجھے ان بے چاروں سے ہمدردی ہے۔ سرد موسم کے لیے مردانہ لباس کی کچھ قابل اعتماد چیزیں موجود ہیں، جیسے ڈبل بریسٹڈ بلیزر، کالر والی کاٹن شرٹس، اور اچھی طرح سلی ہوئی اونی پتلون۔
مگر گرمیوں کے لیے ان کے واقعی اچھے متبادل موجود نہیں۔
اور اگر آپ پسینہ نہ آنے والے پکے انسان نہیں ہیں، مثلا اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کی طرح تو اس گرمی میں یہ سمجھنا تقریبا ناممکن ہے کہ خود کو کس لباس میں ڈالا جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شاید یہ ان کم مواقع میں سے ایک ہے جب ہم خواتین کو فائدہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہم پھولدار کو آرڈ سیٹ، کھلا ڈھلا فراک، یا سلپ سکرٹ اور ڈھیلی بنیان آسانی سے پہن سکتی ہیں، اور کوئی بھنویں بھی نہیں چڑھاتا۔
شاید ہمارے لیے غلط لباس پہننا نسبتا مشکل ہے، اگرچہ میری اپنی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ لباس کے معاملے میں میری حس پر جو افراتفری بھری سستی چھا گئی ہے، اس کی بدولت میں یہ کام بھی کافی کامیابی سے کر رہی ہوں۔
جو لوگ واقعی اپنا سٹائل بہتر کرنا چاہتے ہیں، انہیں میں بتاتی ہوں کہ اس گرمی میں لباس کیسے پہننا چاہیے۔
شارٹس ٹھیک ہیں، مگر بہت چمک دار نیون رنگوں سے بچیں، جہاں ممکن ہو ونٹیج سپورٹس ویئر تک محدود رہیں، اور یاد رکھیں کہ سلی ہوئی، بہتر فٹنگ والی شارٹس زیادہ اچھی رہتی ہیں۔
جو لوگ سکیٹ بورڈنگ یا سرفنگ نہیں کرتے، انہیں میں یہ بھی مشورہ دوں گی کہ ڈینم اور بورڈ شارٹس سے دور رہیں۔ اوپر کے لیے چیزیں واقعی سادہ رکھی جا سکتی ہیں۔
اچھی فٹنگ والی سفید یا کالی ٹی شرٹ کمال کر سکتی ہے۔ کبھی کبھار پرنٹ والی ٹی شرٹس بھی چل سکتی ہیں، مگر پھر بھی ونٹیج سلوگنز، یورپی ریسٹورنٹس کا مرچنڈائز، اور کبھی کبھار پاپ کلچر کا حوالہ ذہن میں رکھیں۔
ٹوپیاں ٹھیک ہیں، بشرطیکہ وہ آپ کے سر پر صحیح بیٹھیں۔ بیس بال کیپ سب سے بہتر ہے۔ سلوگنز سے بچنا چاہیے، البتہ ’سکسیشن‘ کے ڈائیلاگز اس سے مستثنی ہیں۔
اور دھوپ کے چشموں میں آپ کو اصل میں صرف نفیس، مستطیل فریم والے چشمے پہننے چاہییں یا زیادہ سے زیادہ چوڑے فریم والے ایوی ایٹرز۔ اور خدا کے لیے سن کریم لگانا نہ بھولیں۔
میں نے جتنی مشکوک طور پر دھوپ سے جلی ہوئی بازوؤں والی آستینیں ادھر ادھر گھومتی دیکھی ہیں، وہ تشویش ناک ہیں۔
مجھے معلوم ہے، یہ مشکل ہے۔ میرے لیے بھی مشکل ہے۔ زیادہ تر اس لیے کہ یہ گرمی مجھے سست اور الجھا ہوا بنا دیتی ہے اور اس وقت تو واقعی مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں کئی ہفتوں سے ایک عجیب سی بے خودی کی کیفیت میں ہوں۔
مگر سٹائل کے معاملے میں ہمیں کچھ شائستگی اور بنیادی تہذیب بہرحال برقرار رکھنی چاہیے۔
اس لیے اپنی سب سے نفیس، پراعتماد اور سٹائلش پتلون پہنیں اور باہر نکلیں۔ بس براہ کرم یہ ضرور دیکھ لیں کہ وہ نیون رنگ کی نہ ہو۔
