امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز پر تازہ حملے کے جواب میں ہفتے کو ایران میں متعدد اہداف پر نئے حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسدران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ’سینٹ کام فورسز نے آج تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایران کی مسلسل جارحیت کے براہ راست جواب میں حملے کیے ہیں۔‘
سینٹ کام نے مزید کہا کہ ایران نے اس سے قبل ہفتے کو پانامہ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’کیکو‘ پر حملہ کیا تھا، جس میں 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل لدا ہوا تھا۔
امریکی فوجی کمانڈ نے بعد میں ایکس پر فضا سے ریکارڈ کی گئی 35 سیکنڈ کی ایک دھندلی ویڈیو پوسٹ کی، جس میں مختلف مقامات پر دھماکے دکھائے گئے ہیں۔
ایکس پر کی گئی پوسٹ کے متن میں کہا گیا کہ ’امریکی بحریہ اور فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ایم ٹی کیکو پر ایران کے ڈرون حملے کے جواب میں آج رات آبنائے ہرمز اور اس کے قریب متعدد مقامات پر 10 ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے۔‘
امریکی فوج نے کہا کہ تازہ ترین جوابی کارروائی میں ’نگرانی کے بنیادی ڈھانچے، مواصلاتی نظام، فضائی دفاع کے مقامات، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے علاقوں سیرک اور قشم میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
امریکہ نے جمعے کو بھی حملے کیے تھے جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک اور جہاز ’ایور لولی‘ پر ایرانی حملے کا جواب تھے۔
جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے: پاسداران انقلاب
ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار کو کہا ہے کہ اس نے ایرانی سرزمین پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین پر حملے کیے ہیں اور خبردار کیا کہ کسی بھی مزید جارحیت کا ’منہ توڑ جواب‘ دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ’کویت میں علی السالم بیس اور بحرین کے پورٹ سلمان میں ففتھ فلیٹ نیول بیس پر آٹھ اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔‘
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ ’دشمن کی کسی بھی جارحیت، خواہ اس کا کوئی بھی بہانہ ہو، یہاں تک کہ غیر اہم اہداف کے خلاف بھی، کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘
ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ اگر امریکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے پر ’مجبور‘ ہوا تو ایران کا ’وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’امریکی طیاروں نے جنگ بندی معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرنے پر ابھی ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات، اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔‘
ٹرمپ نے لکھا: ’ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب ہم مزید معقول رویہ برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے اور عسکری طور پر اس کام کو مکمل کرنے پر مجبور ہوں گے جسے ہم نے بہت کامیابی سے شروع کیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان تازہ جھڑپوں نے تنازے کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات پر پھر سے شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد شروع ہوا۔ بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے۔
