چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جمعے کو ایک کار جتنے حجم کا طیارہ شہر کی بلند ترین عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے بعد پولیس نے عمارت کے اطراف کی سڑکیں بند کر دیں، تاہم حکام نے واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کیں۔
عینی شاہدین نے روئٹرز کو بتایا کہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور، جسے چائنا زُن بھی کہا جاتا ہے، سے ایک چھوٹا طیارہ ٹکرایا۔
108 منزلہ یہ عمارت بیجنگ کے مرکزی کاروباری علاقے میں واقع ہے اور سرکاری ادارے سی آئی ٹی آئی سی گروپ کا صدر دفتر ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی اور کئی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں۔ عمارت کی ایک بالائی منزل کے دو شیشے ٹوٹ گئے۔
Aircraft Strikes Beijing’s CITIC Tower, Investigation Underway
A single-engine Sunward SA-60L Aurora aircraft, registered as B-12PP and flown by a solo pilot, reportedly struck CITIC Tower in Beijing today, with the impact occurring around the mid-levels of the building near the… pic.twitter.com/FgzxvkBJmZ
— aircraftmaintenancengineer (@airmainengineer) June 26, 2026
بیجنگ کی شہری حکومت نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور دفتر کے اوقات ختم ہونے کے باعث بھیجی گئی روئٹرز کی درخواست کا بھی جواب نہیں دیا۔
ایک کورئیر نے، جو جائے وقوعہ پر موجود لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا، بتایا کہ شام تقریباً چھ بجے اسے زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کے بعد وہ فوری طور پر عمارت کی جانب پہنچا۔
اس نے کہا، ’آواز اتنی زور دار تھی کہ آتش بازی سے بھی زیادہ محسوس ہوئی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس شخص کے مطابق اس نے عمارت میں پھنسا ہوا طیارہ اپنی ویڈیو میں ریکارڈ کیا تھا، مگر بعد میں پولیس کے خوف سے ویڈیو حذف کر دی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس لوگوں کو تصاویر لینے سے روک رہی تھی اور جنہوں نے تصاویر یا ویڈیوز بنائی تھیں، انہیں حذف کرنے کے لیے بھی کہا جا رہا تھا۔ متعدد پولیس گاڑیاں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی علاقے میں موجود تھیں۔
ایک اور کورئیر نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ تصاویر دیکھنے کے بعد موقع پر پہنچا، جن میں عمارت کے قریب سڑک پر ایک چھوٹے طیارے کا ملبہ دکھایا گیا تھا۔
چینی سوشل میڈیا پر واقعے سے متعلق پوسٹس بھی تیزی سے حذف کر دی گئیں۔ شیاو ہونگ شو ایپ پر عمارت کے نام سے تلاش کرنے پر صرف جمعرات کی پرانی پوسٹس ہی نظر آ رہی تھیں۔
قریبی عمارت میں کام کرنے والی 39 سالہ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے شام تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر اپنی کھڑکی سے دیکھا کہ عمارت کے ساتھ والی سڑک پر ایک ’بڑے آبجیٹکٹ‘ پر نیلا ترپال ڈالا گیا تھا، جس کا حجم ایک چھوٹی گاڑی کے برابر تھا۔
ان کے مطابق، ’میں رات کا کھانا کھانے نیچے جا رہی تھی کہ کسی نے بتایا اگلی عمارت سے ایک طیارہ ٹکرا گیا ہے۔ ہم نے کھڑکی سے دیکھا تو پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینسیں اور نیلا ترپال نظر آیا۔‘
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حادثہ تھا یا جان بوجھ کر کیا گیا اقدام، تاہم بیجنگ کے مرکزی علاقے میں فضائی حدود پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث وہاں کسی طیارے کی موجودگی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔
موقع پر موجود ایک شخص نے روئٹرز کو بتایا کہ اس نے بھی دھماکے کی آواز سنی اور کہا، ’اس علاقے میں کسی طیارے کا آ جانا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔‘
بعد ازاں ایک پولیس افسر نے روئٹرز کے صحافیوں کو وہاں سے جانے کا حکم دیا۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے مختصراً جواب دیا، ’ہم سب جانتے ہیں کیوں۔‘
