سیالکوٹ کی تنگ گلیوں اور نسبتاً مصروف سڑکوں سے گزر کر جیسے ہی فیکٹری کے اندر داخل ہوئے تو منظر یکسر بدل گیا۔
باہر سے یہ ایک عام صنعتی عمارت دکھائی دیتی ہے، جسے دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے اندر ایسی فٹ بالز تیار ہوتی ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے مقابلوں تک پہنچتی ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بنتی ہیں۔
اس وسیع و عریض فیکٹری کے مختلف حصوں میں تقریباً دو ہزار کاریگر اور ملازمین مصروف عمل تھے۔
کہیں فٹ بال کے پینلز کی کٹنگ ہو رہی تھی، کہیں ہاتھ سے سلائی، کہیں معیار کی جانچ اور کہیں پیکنگ کا عمل جاری تھا۔
تقریباً دس مختلف شعبوں میں بٹی اس فیکٹری کے ہر حصے میں ایک ہی مقصد نظر آ رہا تھا، ایسی فٹ بال تیار کرنا جو دنیا کے بڑے سٹیڈیمز میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے قدموں میں ہو گی۔
شاید یہی سیالکوٹ کا سب سے دلچسپ تضاد ہے۔ باہر سے ایک عام سی صنعتی عمارت، مگر اس کے اندر ہزاروں ہاتھ مل کر پاکستان کا نام عالمی فٹ بال کے نقشے پر زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
برطانوی دور میں فٹ بال سازی کی بنیاد
اس فیکٹری کی کہانی دراصل سیالکوٹ کی فٹ بال صنعت کی کہانی ہے، جو تقسیمِ ہند کے بعد تقریباً نئے سرے سے کھڑی ہوئی اور آج دنیا کی سب سے بڑی سپورٹس برانڈز کی سپلائی چین کا حصہ ہے۔
اگرچہ پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم آج تک فیفا ورلڈ کپ کے فائنلز کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی، لیکن عالمی فٹ بال میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔
ملک کا صنعتی شہر سیالکوٹ دنیا میں ہاتھ سے سلی ہوئی فٹ بالز کی تیاری کا ایک بڑا مرکز ہے۔
سپورٹس گڈز کی صنعت کو باقاعدہ وسعت سردار بہادر سنگھ اور سردار گنڈا سنگھ اوبرائے نے دی۔ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق انہوں نے برصغیر کے شمالی علاقوں میں تعینات برطانوی فوجیوں کے لیے کھیلوں کا سامان تیار کرنے کی ایک فیکٹری قائم کی۔
ابتدا میں اس فیکٹری میں لکڑی سے بننے والے کھیلوں کے سامان جیسے کرکٹ بیٹس، ہاکی سٹکس اور پولو سٹکس تیار کی جاتی تھیں۔ بعد ازاں 1918 میں یہاں فٹ بال کی تیاری بھی شروع ہوئی، جو پہلے مقامی برطانوی فوجیوں اور پھر سنگاپور میں تعینات برطانوی افواج کو برآمد کی جانے لگی۔
ابتدا میں مقامی کاریگر برطانوی فوجیوں کی خراب فٹ بالوں کی مرمت کرتے تھے، لیکن جلد ہی انہوں نے خود فٹ بال تیار کرنا شروع کر دی، جس سے سیالکوٹ میں ایک نئی صنعت نے جنم لیا۔
تقسیم کے بعد صنعت نے نئی زندگی کیسے پائی؟
تاہم 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد اس صنعت کو شدید دھچکا پہنچا۔ اس وقت زیادہ تر فیکٹریاں ہندو اور سکھ تاجروں کے پاس تھیں، جبکہ مسلمان زیادہ تر مینیجرز یا کاریگروں کے طور پر کام کرتے تھے۔
تقسیم کے بعد ان صنعت کاروں کی ہجرت سے ایک خلا پیدا ہوا، جسے مقامی نوجوان کاروباری افراد نے پُر کیا۔
آج سیالکوٹ کھیلوں کا سامان تیار کرنے والے دنیا کے معتبر ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے اور عالمی سپورٹس گڈز مارکیٹ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں تیار ہونے والی مصنوعات براہِ راست یا بالواسطہ دنیا کے تقریباً ہر ملک تک پہنچتی ہیں۔
حکومتِ پنجاب کے مطابق سیالکوٹ دنیا میں ہاتھ سے سلی ہوئی انفلیٹیبل (ہوا بھری جانے والی) فٹ بالز کی تقریباً 70 فیصد طلب پوری کرتا ہے۔ یہاں ہر سال تقریباً 4 کروڑ فٹ بالز تیار کی جاتی ہیں، جن کی مالیت 21 کروڑ امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے مطابق فیفا ورلڈ کپ کے دوران، جب طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے، تو سیالکوٹ میں سالانہ فٹ بالز کی پیداوار 6 کروڑ سے تجاوز کر جاتی ہے۔
اس صنعت سے 60 ہزار سے زائد کاریگر اور مزدور وابستہ ہیں، جو ان فٹ بالز کی تیاری میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
سیالکوٹ کی معروف کمپنی انور خواجہ انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خرم انور خواجہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے والد انور خواجہ نے 1951 میں کمپنی کی بنیاد رکھی اور دیگر صنعت کاروں کے ساتھ مل کر نہ صرف مصنوعات کے معیار کو بہتر بنایا بلکہ دنیا بھر میں پاکستانی فٹ بال کی مارکیٹنگ بھی کی۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’ہم صرف فٹ بال نہیں بنا رہے تھے بلکہ دنیا کے بہترین برانڈز کا معیار سمجھ رہے تھے۔ میرے والد مختلف ممالک کا سفر کرتے، عالمی برانڈز کا مشاہدہ کرتے اور کوشش کرتے کہ وہی ٹیکنالوجی سیالکوٹ میں متعارف کرائی جائے۔‘
خرم خواجہ کے مطابق اس سفر کا ایک اہم موڑ 1957 میں آیا، جب ان کے والد ڈنمارک گئے اور سیلیکٹ سپورٹس کے بانی ایگل نیلسن سے ملاقات کی۔
اگرچہ اس وقت وہ اپنی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، لیکن تقریباً دو دہائیوں بعد 1975 میں انہوں نے سیالکوٹ کی مہارت کو تسلیم کرتے ہوئے جدید فٹ بال سازی کی ٹیکنالوجی یہاں منتقل کی۔
ان کے بقول: ’یہ وہ لمحہ تھا جس نے سیالکوٹ کو عالمی فٹ بال انڈسٹری میں ایک نئی شناخت دی۔‘
اس کے چند برس بعد 1982 کے فیفا ورلڈ کپ میں ایڈیڈاس کا مشہور ٹینگو میچ بال سیالکوٹ میں تیار کیا گیا۔ خرم خواجہ کہتے ہیں کہ یہی وہ موقع تھا جب دنیا نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ ورلڈ کپ کے معیار کی فٹ بال سیالکوٹ میں بن سکتی ہے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ گذشتہ 10 فیفا ورلڈ کپ میں سے نو میں استعمال ہونے والی میچ بالز سیالکوٹ میں تیار کی گئی ہیں، اگرچہ ہر بار ایک ہی کمپنی انہیں نہیں بناتی۔
وقت کے ساتھ سیالکوٹ عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ بن گیا اور یہاں تیار ہونے والی فٹ بالز یا ان کے اجزا متعدد بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے لیے استعمال ہوئے۔
ان میں 2002 کا فیورنووا، 2014 کا برازوکا، 2018 کا ٹیل سٹار، 2022 کا الرحلہ اور 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے تیار کی گئی ٹریونڈا میچ بال شامل ہیں۔
ایڈیڈاس، نائیکی، پوما، سلیکٹ اور ریباک سمیت کئی معروف عالمی سپورٹس برانڈز بھی سیالکوٹ میں فٹ بالز تیار کروا چکے ہیں۔
خرم خواجہ کے مطابق: ’آج سیالکوٹ خود ایک برانڈ بن چکا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی بڑا سپورٹس برانڈ اگر اعلیٰ معیار کی فٹ بال بنوانا چاہتا ہے تو اس کی پہلی منزل سیالکوٹ ہوتی ہے۔‘
ٹیکنالوجی میں تبدیلی نے بھی اس صنعت کو متاثر کیا ہے۔ 2006 میں متعارف کرائی گئی ٹیم گائسٹ بال میں ہاٹ گلو بانڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جس کے بعد بعض مارکیٹوں میں ہاتھ سے سلائی پر انحصار کم ہونا شروع ہوا۔
اگرچہ مشین سے تیار کی گئی فٹ بالز زیادہ تیزی سے بنائی جا سکتی ہیں، تاہم کئی کھلاڑیوں اور مینوفیکچررز کے مطابق ان کی پرواز اور رویہ ہاتھ سے سلی ہوئی گیندوں کے مقابلے میں کم متوازن ہوتا ہے۔
اس تبدیلی کے باوجود سیالکوٹ آج بھی اعلیٰ معیار کی ہاتھ سے سلی ہوئی فٹ بالز کے شعبے میں دنیا کے نمایاں ایکسپورٹرز میں شامل ہے، اگرچہ دیگر ممالک میں پیداوار بڑھنے سے اس کا مجموعی عالمی حصہ کسی حد تک متاثر ہوا ہے۔
انور خواجہ کے مطابق سیالکوٹ نے صرف ہاتھ سے سلائی تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ وقت کے ساتھ مشین سے سلی ہوئی، تھرمو بانڈڈ اور لیمینیٹڈ فٹ بالز سمیت جدید ٹیکنالوجیز بھی اپنا لیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے 2012 میں مائیکرو چِپ سے لیس سمارٹ فٹ بال بھی تیار کی، جو بال کی رفتار، سمت، فاصلے اور گول لائن کراس کرنے سمیت مختلف تکنیکی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ بعد ازاں اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی فیفا ورلڈ کپ میں بھی استعمال کی گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق سیالکوٹ کی برتری صرف فٹ بال تک محدود نہیں رہی۔
’آج دنیا کی کئی قومی ٹیمیں نہ صرف سیالکوٹ میں بنی فٹ بالز استعمال کر رہی ہیں بلکہ ان کے یونیفارمز بھی یہیں تیار کیے جا رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس صنعت سے تقریباً 60 ہزار افراد کا روزگار وابستہ ہے، جبکہ اس نے سپورٹس ویئر، ٹیکسٹائل اور دیگر متعلقہ شعبوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم ان کے مطابق ایک بڑا چیلنج ہنرمند کاریگروں کی کم ہوتی تعداد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل ہاتھ سے سلائی کے پیشے میں کم آ رہی ہے، جس کے باعث مستقبل میں مشین سے تیار ہونے والی فٹ بالز کا حصہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
گفتگو کے اختتام پر خرم خواجہ نے خواہش ظاہر کی کہ جس طرح سیالکوٹ کی بنی ہوئی فٹ بالز دنیا کے بڑے میدانوں میں استعمال ہوتی ہیں، اسی طرح ایک دن پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرے۔
انہوں نے کہا: ’ہمیں اپنی فٹ بال انڈسٹری پر فخر ہے، لیکن میری خواہش ہے کہ ایک دن ہمیں اپنی قومی فٹ بال ٹیم پر بھی اسی طرح فخر ہو۔‘
