پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مفاہمت پر اتفاق کے بعد دنیا پاکستان کا ایک ذمہ دار ثالث اور ’پیس میکر‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امن کے لیے پاکستان کی تعمیری کوششوں کو بین الاقوامی برداری سراہا رہی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے 47 سال بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا۔
پاکستان اور قطر کی طرف سے پیر، 22 جون کو جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمے کے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ سال پہلے تک پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا ملک قرار دیا جاتا تھا، لیکن آج حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں اور آج پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں ’امن کے فروغ، مذاکرات اور تنازعات کے حل میں ایک ذمہ دار ثالث اور پیس میکر ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔‘
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اب دنیا بھر میں ہونے والے اہم نوعیت کے فورمز میں شرکت کے لیے پاکستان کو اتنے دعوت نامے موصول ہوتے ہیں کہ ان میں سے حکومت کو کچھ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو مختلف ممالک اور عالمی شراکت داروں کی جانب سے مثبت انداز میں سراہا گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے ملنے والا یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی ذمہ دارانہ کوششوں کے باعث اعتماد حاصل کر رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق، پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی اعلیٰ سطحی رابطوں اور بعد ازاں مذاکرات کے انعقاد میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت جنگ بندی کے فریم ورک پر اتفاق کیا گیا اور ایک جامع امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں آئندہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ طے کیا گیا، جبکہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بھی مختلف طریقہ کار وضع کیے گئے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سوئٹزرلینڈ سربراہی اجلاس اس حقیقت کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ بین الاقوامی تنازعات کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اور حالیہ سفارتی کامیابیوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے، جس سے مستقبل میں علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی و اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
