بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے عمرقید کی سزا کے خلاف بدھ کو بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں بی وائے سی کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔
قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے بھی ہڑتال کی حمایت کی، جس کے دوران کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دکانیں بند رہیں۔
ماہ رنگ بلوچ کو پیر کو کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گوادر میں 2024 میں احتجاج کے دوران مظاہرین کو اشتعال دلا کر سکیورٹی فورسز پر حملے اور پتھراؤ کر کے ایف سی سپاہی شبیر بلوچ کو شدید زخمی کرنے اور بعد میں موت کے کیس میں جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماہ رنگ بلوچ کے ساتھی صبغت اللہ شاہ جی کو 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالتی فیصلے کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی۔
بدھ کو کوئٹہ، مستونگ، تربت، نوشکی، گوادر، خضدار، خاران، قلات اور پنجگور سمیت صوبے کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔
کوئٹہ میں سریاب روڈ پر دکانیں بند رہیں۔ مجموعی طور پر ہڑتال پر امن رہی، تاہم انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف، پختونخوا میپ، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشل پارٹی، بلوچستان بار کونسل اور انسانی حقوق کمیشن نے ماہ رنگ بلوچ کی عمر قید کی سزا کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
سویڈن کی معروف ایکٹوسٹ اور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے انسٹا گرام پر جاری پیغام میں ماہ رنگ بلوچ کی سزا کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کامطالعہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ماہ رنگ کو انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے پر سزا دی گئی۔ گوادر میں پر امن احتجاج کرنے پر اس طرح کی ایف آئی آر درج کرنا اور سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
گریٹا کے مطابق: ’اسلام آباد میں احتجاج کے دوران ایمان مزاری نے ماہ رنگ کے لیے بحیثیت وکیل خدمات انجام دیں، انہیں بھی اسی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ ہم ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری کے ساتھ ہیں۔‘
رواں برس جنوری میں اسلام آباد کی ایک سیشن کورٹ نے وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر اور وکیل ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک مقدمے میں متعدد الزامات پر مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد سے وہ جیل میں قید ہیں۔
ایمان مزاری لاپتہ افراد کے کیسز کی پیروی کے لیے سرگرم اور ان کے حق میں آواز اٹھاتی رہی تھیں۔
