افغان کارڈ منسوخی کے لیے نادرا میں 26 ہزار سے زائد درخواستوں کی کہانی

محمد سلیم (فرضی نام) پاکستانی شہری ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے افغان پناہ گزین کارڈ بنوایا تھا، کیونکہ جس وقت یہ کارڈز بن رہے تھے، اس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے فی کارڈ 400 ڈالرز دیے جاتے تھے۔

کارڈ تو بن گیا اور وقت گزرتا گیا لیکن 2023 میں جب پاکستانی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کو پاکستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا اور اس مہم میں پہلے بغیر دستاویزات والے پناہ گزینوں کو وطن واپسی کا کہا گیا اور بعد میں نادرا کی جانب سے جاری کیے گئے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ اور افغان سیٹیزن کارڈ کو بھی منسوخ کر کے تمام افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کا کہا گیا۔

تب ہی سلیم کو خیال آگیا کہ ان سے بڑی غلطی سرزد ہوگئی ہے کیونکہ اب ان کی اہلیہ کو حکام کی جانب سے افغانستان جانے کا کہا جا رہا ہے جبکہ سلیم کے بچوں اور والدین کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں اور ان کا پورا خاندان پاکستان کا شہری ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ ایک سال سے ان کا پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ چل رہا تھا لیکن عدالت کی جانب سے وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کو کہا گیا اور مقدمہ لڑنے پر بھی ان کے لاکھوں روپے خرچ ہوگئے۔

انہوں نے بتایا: ’مجھے کارڈ بنواتے وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس سے اتنا بڑا مسئلہ بن جائے گا کیونکہ نادرا کی جانب سے ابھی ہمیں کہا جا رہا ہے کہ نادرا سسٹم میں آپ کی اہلیہ افغان شہری ہیں اور انہیں افغانستان جا کر پہلے افغان شہریت چھوڑنی پڑے گی اور اس کے بعد پاکستانی شہریت دینے کا فیصلہ ہوگا۔ ‘

اسی طرز کا ایک مقدمہ 2025 میں ایک دوسرے درخواست گزار نے عدالت میں جمع کروایا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کا قبیلہ ضلع کرم کی سرحد کے قریب گاؤں میں واقع ہے اور گرمیوں میں کچھ مہینے وہ افغانستان کے صوبہ لوگر میں رہتے ہیں اور سردیوں میں واپس اپنے علاقے آجاتے ہیں۔

درخواست میں موقف تھا کہ ان کے خاندان میں بعض افراد نے مالی فائدے کے لیے افغان سٹیزن کارڈ بنایا ہوا تھا، جسے اب وہ منسوخ کروانا چاہتے ہیں لیکن نادرا کی جانب سے افغان کارڈ کینسل نہیں کیا جا رہا جبکہ ہمارے آباؤاجداد پاکستانی ہیں اور ہم یہیں پر پیدا ہوئے ہیں۔

نادرا کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں محمد سلیم اور دیگر کی طرح ایسی 26 ہزار سے زائد درخواستوں کا انکشاف کیا گیا، جس میں مختلف نوعیت کے مقدمات موجود ہیں اور زیادہ تر میں پاکستانی شہریوں نے افغان پناہ گزین کارڈ حاصل کر رکھے ہیں اور اب ان کی منسوخی چاہتے ہیں۔

نادرا میں کس نوعیت کی درخواستیں جمع ہوئیں؟

سیف اللہ محب کاکاخیل پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ہیں اور ایسے سینکڑوں مقدمات کی پیروی کر چکے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بعض پاکستانی شہریوں نے تو مالی معاونت کے لیے افغان کارڈ بنائے تھے، جنہیں اب مسائل درپیش ہیں جبکہ اس کے علاوہ بھی مختلف نوعیت کے کیسز موجود ہیں۔

محب اللہ کے مطابق: ’بعض افراد کے والد یا والدہ افغان شہری ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے مالی معاونت کے لیے افغان پناہ گزین کارڈ بنا رکھا تھا اور اب اس کی منسوخی چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’بعض نے بیرون ممالک پناہ لینے کے لیے افغان پناہ گزین کارڈ بنائے، جن کا مقصد دوسرے ملکوں میں پناہ لینا تھا اور وہ بھی اب ان کی منسوخی چاہتے ہیں۔ ‘

محب کاکاخیل نے بتایا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت سے اس لیے رجوع کیا گیا تھا کہ یا تو انہیں نادرا کے طریقہ کار کا پتہ نہیں تھا اور یا وہاں جا کر ان کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی سلسلے میں اب پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کیا ہے؟

پشاور ہائی کورٹ نے گذشتہ روز 127 درخواست گزاروں کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی درخواستیں منسوخ کر کے انہیں نادرا سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

عدالتی حکم نامہ، جو 21 صفحات پر مشتمل ہے اور جسٹس وقار احمد نے تحریر کیا ہے، میں تمام درخواست گزاروں کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے لیے نادرا سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ نادرا درخواست گزاروں کی جانب سے درخواست دینے کے بعد چار ماہ میں ان کے کیسز کا فیصلہ کرے جبکہ فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں نے متعلقہ فورم (نادرا) سے رجوع کیے بغیر ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی ہیں۔

فیصلے کے مطابق: ’متعلقہ فورم موجود ہونے کی وجہ سے ان کی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔‘

درخواست گزاروں کے مطابق وہ پیدائشی پاکستانی ہیں اور غلطی سے نادرا نے ان کے نام پر پی او آر اور اے سی سی کارڈ جاری کیے ہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق نادرا میں انہوں نے درخواستیں دی ہیں لیکن نادرا نے انہیں سروسز دینے سے انکار کیا ہے۔

نادرا کے ڈائریکٹر آپریشنز نے عدالت میں پیش ہوکر درخواست گزاروں کے موقف کی تردید کی، جن کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کو 26 ہزار ایسی درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق: ’نادرا نے 17 ہزار 884 کیسز کو مسترد کیا ہے کیونکہ یہ درخواست گزار خود کو پاکستانی شہری ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ دو ہزار 200 درخواست گزاروں کو تصدیق کے بعد پاکستانی شہری کے طور پر کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔ ‘

نادرا کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں لکھا گیا کہ چھ ہزار 637 درخواست گزار تصدیق کے عمل کے لیے حاضر نہیں ہوئے، ان کے کیسز اب بھی زیرالتوا ہیں۔

عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی سیکشن 19 کے مطابق کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار نادرا چیئرمین کو تفویض کیا گیا ہے اور ایسے تمام کیسز کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار موجود ہے اور ایک جامع پالیسی بھی وضع کی گئی ہے۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار نادرا سے رجوع کریں اور نادرا ان کے کیسز کا چار ماہ میں فیصلہ کرے جبکہ رجسٹریشن سینٹرز پر آنے والے تمام درخواست گزاروں کو کسی رکاوٹ کے بغیر سننے اور ان کو باقاعدہ ٹوکن جاری کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اسی طرح فیصلے میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ نادرا درخواست گزاروں کو مطلوبہ دستاویزات جمع کروانے کے لیے تحریری طور پر رسید جاری کرے اور اگر درخواست گزاروں کی دستاویزات مکمل ہوں تو سپیشل ویریفکیشن بورڈ بھیجا جائے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’چار ماہ میں نادرا درخواست گزاروں کی درخواست پر فیصلہ نہیں کرتا اور تاخیر ہو تو عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کرنے کی درخواست دائر کریں۔ ‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *