اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے منگل کو کہا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا۔
یہ رپورٹ ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی بیت المقدس اور اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن‘ کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں سات اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کی کارروائی آغاز سے لے کر بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں جان سے جانے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے شامل ہیں جبکہ سات اکتوبر 2023 سے سات اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 20 ہزار 179 بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ بچوں کے قتل کا یہ تناسب ماضی کے تنازعات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
2008-2009 اور 2014 کے غزہ تنازعات میں بچوں کی اموات مجموعی تعداد کا تقریباً 24 فیصد تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے گنجان آباد علاقوں میں بھاری اور وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچوں کی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمیشن کے مطابق یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملے دانستہ تھے۔
کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر نے کہا: ’شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔‘
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا، جو اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز غزہ میں فلسطینی نسل کو مکمل یا جزوی طور پر ختم کرنے کے ارادے سے کارروائیاں کر رہے تھے۔
دوسری جانب جنیوا میں اسرائیلی مشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو ’ہتک آمیز‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تنازعات کے دوران بھی بچوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور اس الزام کو سختی سے رد کرتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔
