نو مہینے جہنم میں گزارے ہیں۔ اوپر سے مارٹر گولے برستے تھے جبکہ ہم ٹرک کے نیچے راتیں گزارتے تھے۔ ایک ماہ گزارنے کے بعد پیسے ختم ہو گئے تو گاڑی سے کبھی ٹائر اور کبھی بیٹری بیچ کر اسی سے کھانا خریدتے تھے۔‘
یہ کہانی ہے پاکستانی ٹرک ڈرائیور نور احمد کی، جو پاکستان سے کارگو ٹرک لے کر افغانستان گئے تھے اور گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ صورت حال اور سرحدوں کی بندش کے باعث افغانستان میں پھنس گئے تھے، تاہم اب واپس آ گئے ہیں۔
نور احمد گذشتہ روز طورخم بارڈر کراس کر کے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں اور اس وقت ان کی گاڑی طورخم ٹرمینل پر کلیئرنس کے لیے کھڑی ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سال اکتوبر میں وہ کنٹینر میں چائے کی پتی لاد کر جلال آباد کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر کنٹینر خالی کیا۔
نور احمد کو اندازہ نہیں تھا کہ جھڑپیں اس قدر شدت اختیار کر جائیں گی کہ بارڈر بند ہو جائے گا اور انہیں پورے نو مہینے سڑک پر ٹرک کے نیچے گزارنا پڑیں گے۔
انہوں نے بتایا: ’ٹرک خالی کرنے کے بعد جب میں واپس طورخم کی جانب روانہ ہوا تو وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی تھیں اور بارڈر بند کر دیا گیا تھا۔ تب سے ہم نے نو مہینے عذاب میں گزارے۔‘
نور احمد کی گاڑی افغانستان کی جانب طورخم میں کھڑی تھی۔ ان کے مطابق قریب نہ کوئی حجرہ تھا اور نہ ہی ہوٹل، جہاں رہائش کا بندوبست کیا جا سکتا، اسی لیے وہ ٹرک کے نیچے سوتے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ تھے، اس لیے رات کے وقت اوپر سے مارٹر گولے برستے تھے اور وہ ٹرک کے نیچے بیٹھے ہوتے تھے۔ ایک واقعے میں ان کی گاڑی کو مارٹر گولا بھی لگا۔
نور احمد نے بتایا: ’مارٹر گولا لگنے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اگر میں پانچ سال محنت مزدوری بھی کروں تو اس کا نقصان پورا نہیں کر سکتا۔‘
سامان بیچ کر کھانے پینے کا بندوبست
نور احمد سے جب پوچھا گیا کہ نو مہینے وہاں رہتے ہوئے کھانے پینے کا کیا بندوبست تھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس موجود نقدی ایک ماہ بعد ختم ہو گئی، جس کے بعد کھانے پینے کے پیسے بھی نہیں بچتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کھانے کا بندوبست کرنے کے لیے وہ گاڑی کا سامان ایک ایک کر کے افغانستان میں بیچتے رہے اور اسی رقم سے کھانا خریدتے تھے۔ اس دوران انہوں نے گاڑی کے اضافی ٹائر، بیٹری اور دیگر سامان بھی فروخت کر دیا۔
نور احمد کے مطابق: ’ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حمام میں نہانے کے پیسے بھی ختم ہو گئے تھے، جبکہ دوسری جانب پاکستان میں موجود خاندان کے پاس بھی کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ زندگی میں کبھی ایسا وقت نہیں آیا جیسا یہ نو مہینے کرب میں گزرے ہیں۔‘
افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرک
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث تمام تجارتی گزرگاہیں تقریباً نو مہینوں سے بند ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان سے سامان لے کر جانے والے ٹرک وہاں پھنس گئے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان پھنسے ہوئے ٹرکوں اور ڈرائیوروں کو واپس لانے کے لیے دو ہفتے قبل کمشنر پشاور ریاض محسود کی سربراہی میں ٹرانسپورٹ یونین اور پشاور میں افغان قونصل جنرل کے درمیان ایک اجلاس ہوا تھا۔
اس اجلاس میں پاکستانی گاڑیوں کو واپس لانے پر اتفاق کیا گیا تھا، اور کمشنر پشاور کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق تقریباً 1600 ٹرک افغانستان میں پھنسے ہوئے تھے۔
ان ٹرکوں کی واپسی کے لیے 11 جون سے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم اس میں تاخیر ہوئی، لیکن اب ان کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
ضلع خیبر کی ٹرانسپورٹ یونین کے صدر رحمان زیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بہت کوششوں کے بعد گذشتہ تین سے چار دنوں سے ٹرکوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے اور روزانہ چند ٹرک واپس آ رہے ہیں۔
کمشنر پشاور کے دفتر کے اعلامیے کے مطابق ٹرکوں کی واپسی کے لیے طریقہ کار یہ طے کیا گیا ہے کہ صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک ٹرک واپس آئیں گے، جبکہ دوپہر کے بعد پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی ہوگی۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین اب بھی تمام تجارتی گزرگاہیں آمد و رفت کے لیے بند ہیں، جس سے دونوں جانب تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے مطابق پاکستان کو نو ماہ میں 278 ارب روپے سے زائد جبکہ افغانستان کو 140 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کچھ ہفتے قبل چین کی ثالثی میں امن مذاکرات ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد سرحدی جھڑپیں تو رک گئی ہیں، لیکن سرحدیں تاحال بند ہیں۔
