ایران کی ایک عدالت نے معروف گلوکارہ پرستو احمدی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے سات دیگر فنکاروں کو یوٹیوب پر ایک موسیقی کی پرفارمنس براہِ راست نشر کرنے پر 74، 74 کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔
یہ بات ان کی ویڈیوگرافر اور مقامی ذرائع ابلاغ نے بتائی۔ کنسرٹ میں پرستو نے ایک خالی ہال کے سامنے پرسوز اور غمگین نغمے پیش کیے۔
پرفارمنس ایک مدھم روشنی والے سٹیج پر ہوئی جسے صرف ایک بڑے فارسی قالین سے سجایا گیا تھا۔ یہ سٹیج ایک روایتی کاروان سرائے کے احاطے میں قائم کیا گیا تھا۔
پرستو کے ساتھ ایک پیانسٹ، ڈرمر، گٹارسٹ اور بیس گٹار بجانے والا موسیقار موجود تھا۔
تمام موسیقار سیاہ لباس میں ملبوس تھے جبکہ پرستو نے لمبا بغیر آستینوں والا گاؤن پہن رکھا تھا اور گہری سرخ لپ سٹک لگائی ہوئی تھی۔
ایران میں خواتین کو عوامی مقامات پر گانے کی اجازت نہیں۔
پرستو نے دسمبر 2024 میں یہ کنسرٹ اپنے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا تھا، جہاں اسے 30 لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے۔ دیگر چینلز پر بھی اس ویڈیو کو ہزاروں مرتبہ دیکھا گیا۔
ویڈیوگرافر طاہرہ منزوی نے جمعرات کو انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا ’ہم سب کو دو سال کے لیے فنکارانہ سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے، دو سال تک ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے اور ہم سب کو 74 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے۔‘
کنسرٹ کے انعقاد کے چند روز بعد دسمبر 2024 میں پرستو، طاہرہ، موسیقاروں اور پروڈکشن سے وابستہ دیگر افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
اس وقت مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ ’میزان آن لائن‘ کے مطابق ان کے خلاف ’قانونی اور مذہبی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے موسیقی پیش کرنے‘ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
میزان اور دیگر سرکاری ویب سائٹس نے تازہ سزا کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ایرانی خبر رساں پلیٹ فارم ’امتداد‘ نے بھی جمعرات کو یہ خبر شائع کی۔
امتداد کے ٹیلیگرام چینل کے مطابق ’پرستو احمدی اور دیگر شریک افراد کو 74 کوڑوں، دو سال تک ملک سے باہر جانے پر پابندی اور دو سال تک فنکارانہ سرگرمیوں پر پابندی کی سزا سنائی گئی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رپورٹ کے مطابق ’یہ فیصلہ صوبہ قم کی فوجداری عدالت نے سنایا۔ ان پر انٹرنیٹ پر فحش اور غیر اخلاقی مواد تیار اور شائع کرکے عوامی اخلاقیات کو مجروح کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔‘
ستمبر 2022 میں مہسا امینی کی دوران حراست موت کے بعد ایران میں بڑی تعداد میں خواتین بغیر حجاب کے عوامی مقامات پر نظر آنے لگی ہیں۔
مہسا کو مبینہ طور پر لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ایران بھر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جو بعد ازاں ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئے۔
پرستو کے گائے ہوئے گانوں کے بولوں میں ان نوجوان ایرانیوں کا بھی ذکر تھا جنہیں حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
