ایران کے صدر مسعود پزشکیان منگل کو کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کی کامیابی طے شدہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد پر منحصر ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں اتوار کو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پاکستان اور قطر کی طرف سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ بات چیت میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔
مسعود پزشکیان نے منگل کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’مذاکرات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ طے شدہ ذمہ داریوں کے لیے مکمل عزم کا مظاہرہ کیا جائے اور ان پر درست اور مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے۔‘
انہوں نے کہا: ’اس سمت میں پیش رفت کا اندازہ قبول کی گئی ذمہ داریوں کی عملی پابندی کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔ متفقہ متن سے ہٹ کر دیے گئے بیانات مذاکرات کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت نہیں ہوتے۔‘
مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو کہا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی اعلیٰ حکام کے ساتھ ان کی طویل ملاقاتوں نے ایک ’اچھی بنیاد‘ فراہم کی ہے، جس پر ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
دونوں ممالک فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی حکام نے متعدد محاذوں پر پیش رفت کا دعویٰ کیا، جن میں اہم بحری راستے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ’نظام‘ قائم کرنا اور جنوبی لبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنا شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس عمل کی تعریف کی اور کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ’تیل کی فراوانی‘ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر ٹرمپ نے اوول آفس سے کہا کہ ’جب تک وہ (ایران) ہمارا احترام کرتے ہیں۔۔۔ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز بند کر دی تھی جو اب کھول دی گئی ہے۔
ایرانی وفد کے سربراہ اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ایران کے زیر انتظام لیکن بین الاقوامی قوانین کے مطابق چلایا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ’امید ہے ہم اس راستے کو دوبارہ فعال کریں گے اور خطے اور عالمی معیشت میں خوشحالی واپس لائیں گے۔‘
