اعلیٰ درجے کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز کے بارے میں فائیو آئیز انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ چند ماہ کے اندر کاروباروں اور حکومتوں کو تباہ کن نقصان پہنچانے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔
آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل اس انٹیلی جنس اتحاد نے کہا ہے کہ پرانے اور غیر معاونت یافتہ سافٹ ویئر پر چلنے والے اہم نظام، نئے اے آئی ماڈلز کے باعث شدید خطرے میں ہیں کیونکہ یہ ماڈلز برے عناصر کے لیے سائبر حملے کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیں گے۔
پیر کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں فائیو آئیز ایجنسیوں نے کہا کہ رہنماؤں کو اس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ’فوری طور پر اقدامات‘ کرنے چاہییں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں کہا گیا: ’فرنٹیئر اے آئی ماڈلز موجودہ صنعتی توقعات سے آگے نکل سکتے ہیں، جو حملہ آور اور دفاعی دونوں قسم کی سائبر صلاحیتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیں گے۔ اس کی ٹائم لائن سال نہیں بلکہ مہینے ہے۔‘
مزید کہا گیا کہ ’ (اس سلسلے میں) پورے ادارے اور پورے معاشرے کی سطح پر ردعمل درکار ہے۔ سائبر خطرے کو اب صرف تکنیکی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک بنیادی کاروباری خطرہ اور قیادت کی ذمہ داری ہے۔‘
انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حکومتوں اور تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے سائبر سکیورٹی آپریشنز میں اے آئی ٹولز کو شامل کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو ایسا نہیں کریں گے وہ تباہ کن نتائج کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ ہیکرز اور دیگر بدنیت عناصر کے لیے نئے اور زیادہ آسان طریقوں کے ذریعے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
بیان میں کسی مخصوص اے آئی ماڈلز کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم کمپنی انتھروپک کے جدید ترین نظاموں نے حال ہی میں سائبر سکیورٹی ماہرین کی تشویش کو جنم دیا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں، امریکی حکومت کی پابندیوں کے بعد اے آئی کمپنی کو اپنے ’فیبل 5‘ اور ’مائتھوس 5‘ ماڈلز تک تمام صارفین کی رسائی روکنی پڑی۔
سائبر سکیورٹی کمپنی اِلومی نیٹ کے پبلک سیکٹر چیف ٹیکنالوجی آفیسر گیری بیارلیٹ نے دی انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں کہا: ’مصنوعی ذہانت سائبر حملوں کی رفتار، وسعت اور پیچیدگی کو غیر معمولی طور پر بڑھا دے گی، جس سے حملہ آوروں کی رکاوٹیں کم ہو جائیں گی اور انہیں وہ صلاحیتیں مل جائیں گی جو پہلے صرف انتہائی ماہر افراد کے پاس تھیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’مجھے تشویش یہ ہے کہ بہت سی تنظیمیں اب بھی سمجھتی ہیں کہ وہ صرف سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹ سکتی ہیں۔ ہم اے آئی سے پہلے بھی رفتار برقرار نہیں رکھ سکے تھے اور اب تو بالکل بھی نہیں رکھ سکیں گے۔‘
بقول گیری بیارلیٹ: ’حملہ آور ہمیشہ برتری میں رہے ہیں کیونکہ وہ دفاع کرنے والوں کی طرح پابندیوں کے تحت کام نہیں کرتے، اور یہ بات اے آئی کے دور میں اور بھی زیادہ سچ ہے۔ اب وقت ہے کہ تنظیمیں خلاف ورزی کو ایک امکان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر دیکھنا شروع کریں۔‘
