فیفا نے خاموشی سے ورلڈ کپ سٹیڈیمز کے لوگوز مٹا دیے

ہر سٹیڈیم کے گرد اس ورلڈ کپ میں ایک مخصوص حفاظتی حد قائم کی گئی ہے، اور جیسے ہی آپ اس سے گزرتے ہیں، قواعد و ضوابط لاگو ہو جاتے ہیں۔ فیفا کی دنیا میں خوش آمدید۔

بڑے بینرز ممنوع ہیں۔ کسی بھی قسم کی سیاسی تصاویر یا علامات کی اجازت نہیں۔ توہین آمیز نشانات، تجارتی مواد، ہوا بھرے کھلونے، 12 سینٹی میٹر سے لمبے موسیقی کے آلات، دوربینیں، کاغذ کی بڑی مقدار (جس کی وضاحت مبہم رکھی گئی ہے)، فریسبی اور یقیناً دھماکہ خیز آلات لے جانے کی اجازت نہیں۔

سٹیڈیم کے اندر منتظمین نے فیفا کی ’کلین سائٹ پالیسی‘ پر عمل درآمد کے لیے غیر سرکاری برانڈنگ کے ہر نشان کو مٹانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ یہ ایک ایسی حد تک صاف ستھرا اور جراثیم سے پاک ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے جو فیفا کی مجموعی سوچ اور طرزِ عمل کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔

ورلڈ کپ کے میزبان سٹیڈیمز کے ساتھ فیفا کے معاہدوں میں واضح طور پر درج ہے کہ فیفا کی تحریری منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی اشتہاری، تشہیری، تجارتی، مارکیٹنگ، لائسنسنگ یا برانڈ شناخت سٹیڈیم کے اندر، اطراف میں یا اوپر فضائی حدود میں کہیں بھی موجود نہیں ہونی چاہیے، خواہ وہ نشستوں، سکور بورڈز، باڑوں، عملے کی وردیوں، ایکریڈیشن پاسز یا کسی اور مقام پر ہو۔

نیوجرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم سے لے کر لاس اینجلس کے سوفائی سٹیڈیم تک، تمام ورلڈ کپ مقامات کو برانڈنگ سے پاک کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے نام بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں اور اب انہیں جغرافیائی بنیادوں پر شناخت کیا جا رہا ہے۔

لنکن فنانشل فیلڈ کا نام بدل کر ’فلاڈیلفیا سٹیڈیم‘ رکھ دیا گیا ہے، اور یہ تبدیلی گوگل میپس پر بھی نظر آتی ہے۔ ’لنکن فنانشل فیلڈ‘ کے ہر نشان کو بڑی احتیاط سے ٹیپ یا پردوں کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

اے ٹی اینڈ ٹی سٹیڈیم کو ’ڈلاس سٹیڈیم‘ کا نام دیا گیا ہے، حالانکہ وہ آرلنگٹن میں واقع ہے۔ اسی طرح سانتا کلارا کے لیوائز سٹیڈیم کو ایک غیر واضح اور طویل نام ’سان فرانسسکو بے ایریا سٹیڈیم‘ دیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ حیران کن مثال میکسیکو کے مشہور ازتیکا سٹیڈیم کی ہے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کے عظیم ترین میدانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پیلے کی برازیل اور ڈیاگو میراڈونا کی ارجنٹائن نے عالمی کپ جیتا تھا۔ لیکن فیفا کے قواعد کے مطابق اس کا نام بھی بدل کر صرف ’میکسیکو سٹی سٹیڈیم‘ رکھ دیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بوسٹن میں 65,878 نشستوں والے سٹیڈیم کی ہر نشست پر موجود ’جلیٹ‘ کا چھوٹا سا لوگو بھی ٹیپ سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ سان فرانسسکو میں تو مصالحہ جات اور چٹنیوں کے برانڈ نام تک چھپا دیے گئے ہیں، گویا وہ کوئی خفیہ سرکاری راز ہوں۔

برانڈز کے خلاف یہ مہم کھلاڑیوں تک بھی پھیل چکی ہے۔ جرمنی کے جمال موسیالا کو ہیوسٹن میں اپنے پہلے میچ سے قبل ہیڈفون پہنے دیکھا گیا، لیکن ان ہیڈفونز بنانے والی کمپنی کا نام ڈھانپ دیا گیا تھا۔

یہ سب فیفا کے ’وینیو ڈریسنگ پروگرام‘ کا حصہ ہے، جس کے لیے اس نے دی لک کمپنی اور واسرمین لائیو جیسی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ سٹیڈیمز کی پیشکش کو فیفا کے معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔

یہ ایک بہت بڑی تجارتی صنعت ہے۔ میٹ لائف جیسے برانڈز سٹیڈیم کے نام کے حقوق کے لیے سالانہ تقریباً 15 ملین پاؤنڈ تک ادا کرتے ہیں۔ لیکن اپنے سپانسرز کی اجارہ داری کے تحفظ کے بدلے فیفا 2026 کے ورلڈ کپ سے اندازاً 1.8 ارب ڈالر کی مارکیٹنگ آمدنی حاصل کرے گا۔

کچھ متاثرہ برانڈز نے اس صورت حال کو مارکیٹنگ کے موقع میں بدل دیا ہے۔ لیوائز نے سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی جس میں اس نے اپنے ہی لوگو کو چھپا دیا اور مذاقاً یہ دکھایا کہ سٹیڈیم کی بیرونی دیوار پر نصب بڑا لیوائز سائن سفید چادر کے نیچے بھی اپنی منفرد شکل کے باعث آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔

اٹلانٹا میں مرسڈیز بینز کے نام سے منسوب سٹیڈیم کی چھت پر موجود دیوہیکل مرسڈیز لوگو کو ہٹایا نہیں جا سکا، کیونکہ اسے محفوظ انداز میں اتارنا یا ڈھانپنا انتہائی مشکل تھا۔ اس کے آٹھ حصوں میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً 500 ٹن ہے۔

دوسری جانب سیئٹل کے لومن سٹیڈیم کے اوپر نصب 300 فٹ لمبے ’لومن‘ حروف کو مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا۔ تاہم کمپنی نے سوشل میڈیا پر مزاحیہ انداز میں ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں ملازمین سٹیڈیم کے گرد دوڑتے ہوئے نام چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس تمام برانڈنگ کے خاتمے کا اصل مقصد فیفا کے خصوصی سپانسرز کے لیے جگہ بنانا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فیفا کو ایک سرکاری ڈیری سپانسر یا ایک سرکاری آٹو موٹیو سروسز پارٹنر کی ضرورت کیوں ہے، لیکن چونکہ یہ کمپنیاں بھاری رقم ادا کرتی ہیں، اس لیے وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی حریف برانڈ ورلڈ کپ کی تجارتی کشش سے فائدہ اٹھائے۔

کوکا کولا کمپنی کی ملکیت میں موجود پاوریڈ ورلڈ کپ کا سرکاری سپورٹس ڈرنک ہے۔ کمپنی نے سٹیڈیمز میں پانی پینے کے وقفوں اور امریکی نشریاتی ادارے فوکس سپورٹس پر نشر ہونے والے انہی وقفوں کی سپانسرشپ حاصل کر رکھی ہے۔ اگرچہ یہ وقفے شائقین کی جانب سے اکثر ہوٹنگ کا نشانہ بنتے ہیں، لیکن اس تنازع نے پاوریڈ کی تشہیر میں مزید اضافہ کیا ہے۔

شاید فیفا کے شراکت داروں میں سب سے ذہین حکمتِ عملی آسٹریلوی ڈیوڈرنٹ برانڈ ریکسونا نے اختیار کی ہے، جسے برطانیہ میں ’شور‘ اور امریکہ و کینیڈا میں ’ڈگری‘ کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔

جب چوتھے آفیشل متبادل کھلاڑیوں یا اضافی وقت کا اعلان کرنے کے لیے الیکٹرانک بورڈ اٹھاتے ہیں تو اس پر ریکسونا کا نام نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی وردی کے بازوؤں کے نیچے بھی ریکسونا کا لوگو موجود ہوتا ہے۔ یوں جب بھی کوئی آفیشل بورڈ سر کے اوپر بلند کرتا ہے، ریکسونا کا اشتہار ایک ساتھ دو جگہوں پر دکھائی دیتا ہے۔

بظاہر کمپنی کو پورا یقین ہے کہ میچ آفیشلز کی ایڈیڈاس جرسیوں پر پسینے کے نشانات نمایاں نہیں ہوں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *