امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے ساتھ لفظوں کی لڑائی بڑھ رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ فرانس میں اس ہفتے ہونے والے گروپ آف سیون سربراہی اجلاس کے دوران اطالوی رہنما (میلونی) نے ان سے تصویر بنوانے کی ’منت‘ کی، جس کے جواب میں میلونی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اس دعوے کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دے دیا۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی اور اب ٹرمپ نے ایک بار پھر میلونی کو ایک ٹی وی انٹرویو اور ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں مزید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے جمعے کو اپنی پوسٹ میں لکھا ’اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے فرانس میں ہونے والے جی-7 اجلاس کے دوران بار بار میرے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی۔
’اٹلی میں ان کی مقبولیت کی سطح کے باعث ان کی کارکردگی اچھی نہیں جا رہی، ممکنہ طور پر اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکنے کی بات آئی تو انہوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔
’حالانکہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو واقعی اٹلی سے محبت کرتا ہے اور اس کا تحفظ کرتا ہے (اور اس معاملے میں نیٹو نے بھی یہی کیا!)۔
انہوں نے مزید لکھا ’انہوں نے ہمیں اٹلی کی فضائی پٹیوں یا رن ویز استعمال کرنے کی اجازت تک نہیں دی جو ایک بڑا لاجسٹک مسئلہ تھا اور یہ سب اس حقیقت کے باوجود کہ امریکہ اٹلی اور دیگر نام نہاد نیٹو اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔
’اب جبکہ امریکہ نے ایران کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے، وہ دوبارہ دوستی کرنا چاہتی ہیں تاکہ اپنی ’مقبولیت کے اعداد و شمار‘ بہتر بنا سکیں۔ نہیں شکریہ!!!‘
یہی نہیں، این بی سی نیوز کے گیب گوٹیریز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ’وہ میری بہت بڑی مداح تھیں، لیکن میں نہیں چاہتا کہ وہ میری مداح ہوں کیونکہ وہ وہاں موجود نہیں تھیں — نیٹو گروپ کے ساتھ بھی نہیں — اس معاملے میں جو آبنائے سے متعلق تھا۔‘
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ میلونی ان کے ساتھ تصویر بنوانا ’بہت زیادہ چاہتی تھیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’میں تصویر نہ بنواتا لیکن مجھے ان پر ترس آ گیا تھا۔‘
اطالوی نیوز چینل لا7 ٹی وی کے مطابق اس بیان نے میلونی کو شدید ناراض کر دیا، جنہوں نے جمعے کی صبح ایک مختصر سوشل میڈیا ویڈیو میں صدر پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے ویڈیو کے ساتھ یہ عبارت لکھی ’نہ میں اور نہ ہی اٹلی کبھی منت سماجت کرتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میلونی نے کہا ’ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔ میں حقیقتاً حیران ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ریاست ہائے متحدہ کے صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں، ویسے بھی یہ پہلی بار نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ یہ مایوس کن بات ہے کہ وہ مغرب اور امریکہ کے دشمنوں کے ساتھ وہی عزم نہیں دکھاتے بلکہ ان کے رہنماؤں کے ساتھ کہیں زیادہ نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں۔‘
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی ٹرمپ کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ وہ ان کے تبصروں کے باعث امریکہ کا اپنا آئندہ دورہ منسوخ کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایکس پر لکھا ’صدر ٹرمپ کے وزیراعظم جارجیا میلونی کے خلاف سنگین اور توہین آمیز الفاظ پورے اٹلی کی توہین ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے 21 اور 22 جون کو طے شدہ اپنا دورۂ امریکہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
ٹرمپ اور میلونی کے تعلقات میں اس سال اس وقت کشیدگی آئی جب میلونی نے پوپ لیو پر ٹرمپ کی تنقید کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔
اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے اطالوی اخبار کوریئرے ڈیلا سیرا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جواب دیتے ہوئے کہا ’میں سمجھتا تھا کہ ان میں ہمت ہے، لیکن میں غلط تھا۔‘
