دو صوبوں میں افغان طالبان کے حملے جھوٹ اور پروپینگڈہ ہیں: پاکستان

پاکستان نے جمعے کو افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار دو صوبوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ اور پروپیگنڈا‘ قرار دیا ہے۔

افغان وزارت دفاع نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔

افغان وزارت نے مزید کہا کہ یہ مراکز افغان سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

مصبرین کے مطابق ان کا اشارہ شاید داعش خراسان یا آئی ایس کے کی جانب تھا۔

ماضی میں افغان حکام پاکستان پر شدت پسند تنظیم داعش کی مدد کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد افغانستان پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کا الزام عائد کرتا ہے، جسے کابل مسترد کرتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان الزامات کے تبادلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات گذشتہ نو ماہ سے شدید کشیدہ ہیں اور مشترکہ سرحد اور تجارت بھی بند ہے۔

افغان وزارت دفاع کے دعوے کے ردعمل میں پاکستانی وزارت اطلاعات نے ایکس پر فیکٹ چیک پوسٹ میں کہا کہ ’افغان طالبان حکومت اپنے مختلف پروپیگنڈا ذرائع اور سرکاری بیانات کے ذریعے دعویٰ کر رہی ہے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ڈرونز کے ذریعے کچھ مبینہ آئی ایس کے پی کیمپوں کو نشانہ بنایا۔‘

وزارت اطلاعات کے مطابق: ’یہ دعوے ہمیشہ کی طرح غلط ہیں۔ دہشت گرد کیمپ، جن میں داعش اور دو درجن سے زائد دیگر دہشت گرد تنظیمیں شامل ہیں، افغان طالبان حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کے اندر چلائے جاتے ہیں اور ان کی سرپرستی کی جاتی ہے۔

مزید کہا گیا کہ ’ہمسایہ ممالک اور خطے میں جاری دہشت گردی کی حمایت کو چھپانے کے لیے، جن میں داعش، فتنۃ الہندوستان، فتۃ الخوارج اور دیگر شامل ہیں، طالبان حکومت کو ایسے جعلی اور بدنیتی پر مبنی بیانات جاری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

تاہم پاکستان نے تسلیم کیا کہ طالبان حکومت کا ایک ڈرون ضلع خیبر میں شنکو کے قریب پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا جسے فوری طور پر پاکستان ایئر فورس کے الرٹ ایئر ڈیفنس سسٹم نے شناخت کر کے غیر فعال کر دیا۔ حکام نے اس کی تصویر بھی جاری کی ہے۔

ضلع خیبر کے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ ڈرون باڑہ تحصیل کے بر قمبر خیل کے ایک دور دراز علاقے میں گرا، جس سے کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جس جگہ پر ڈرون گرا، وہ آبادی سے دور ایک کھلا میدان ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *