امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دنیا کی مصروف سمندری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز تقریباً چار ماہ بعد دوبارہ کھلنے جا رہی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے کھلتے ہی سب کچھ معمول پر آ جائے گا؟
آبنائے ہرمز وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے اسے بند کیے جانے سے قبل 120 سے 140 جہاز روز اس راستے سے گزرتے تھے۔
یعنی یہ کوئی عام راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ایک بڑی لائف لائن ہے۔ بندش کے دوران صورتحال یہ رہی کہ تقریباً 500 جہاز اور 20 ہزار ملاح وہاں پھنس گئے۔
اب جیسے ہی راستہ کھلے گا، سب جہاز ایک ساتھ نہیں نکل سکیں گے۔ کچھ فوراً چلیں گے لیکن کچھ کو پہلے تکنیکی چیک، انجن کی جانچ اور صفائی کرنی ہو گی کیونکہ اتنے دن کھڑے رہنے سے جہازوں کے نیچے سمندری کائی جم جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق شپنگ کمپنیاں اس بار بہت احتیاط سے کام لیں گی۔ بعض جگہوں پر جہازوں کے لیے سکیورٹی یا نیول ایسکورٹ بھی رکھی جا سکتی ہے۔
اے ایکس ایس میرین کے ماہر ہوگو روس کے مطابق سب سے پہلے وہ کمپنیاں حرکت کریں گی جو اپنے جہاز خود چلاتی ہیں اور سٹاک مارکیٹ میں درج نہیں کیونکہ وہ فیصلے جلدی کر سکتی ہیں۔
تجزیہ کار ٹِ سمتھ کہتے ہیں کہ بحری ٹریفک کی بحالی کا عمل کافی سست رہے گا۔
گلوبل رسک مینیجمنٹ کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ٹینکرز ممکنہ طور پر سب سے پہلے اس راستے پر واپس آ سکتے ہیں۔
لیکن ایک بڑا مسئلہ ابھی بھی باقی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے مرکزی حصے کو بارودی سرنگوں کا خطرناک علاقہ قرار دیا ہے۔
اس لیے اس وقت جہاز صرف ساحلی محفوظ راستوں سے گزریں گے، جو تنگ ہے اور وہاں سے تیزی سے گزرنا ممکن نہیں۔
اسی لیے فرانس، برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک بارودی سرنگیں صاف کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
حالات کب تک معمول پر آئیں گے؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا صرف پہلا قدم ہو گا۔ اس کے بعد جہازوں کے عملے کی تبدیلی، متاثرہ سپلائی چین کو بحال کرنا اور تیل کے ذخائر کو پھر سے بھرنا جیسے کئی کام باقی ہوں گے۔
تجزیاتی ادارے آرگس میڈیا کے مطابق راستہ کھلنے کے بعد بھی کچھ آئل ٹینکرز کو یورپ پہنچنے میں ایک ماہ سے زیادہ لگ سکتا ہے۔
ادارے کا اندازہ ہے کہ خام تیل کی برآمدات کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں چار سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
سمندری ٹریکنگ گروپ اے ایکس ایس میرین کے ماہر ہوگو روس کا کہنا ہے کہ ’سب کچھ ایک دم معمول پر نہیں آئے گا۔‘
ان کے مطابق اس دوران کئی خریدار امریکہ اور نائجیریا جیسے ممالک سے تیل خریدنے لگے ہیں جبکہ نئے بحری راستے اور تجارتی معاہدے بھی بن چکے ہیں، اس لیے پرانے نظام کی بحالی میں وقت لگے گا۔
