پاکستان 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کر رہا ہے: اسحاق ڈار

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو کہا ہے کہ اسلام آباد نے 30 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں 8 ایرانی ماہی گیر شامل ہیں جنہیں برطانوی جہاز  ایم ایم اے ویئلر نے سمندر میں اس وقت ریسکیو کیا، جب ان کی کشتی ریت میں پھنس گئی، جبکہ باقی 22 ایرانی لنیور/ ڈوینا نامی جہاز سے وابستہ ہیں، جسے حال ہی میں امریکی حکام نے تحویل میں لیا تھا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔ ’دونوں گروہوں کی آئندہ چند دنوں میں کراچی کے راستے واپسی متوقع ہے۔ ہم ایرانی، امریکی اور برطانوی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ ہمارے ایرانی بھائیوں کی محفوظ منتقلی اور جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان انسانی ہمدردی کے تحت تعاون کے عزم پر قائم ہے اور اپنے ایرانی بھائیوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔‘

سمندری حدود میں مختلف ممالک کے جہازوں اور عملے سے متعلق واقعات اکثر بین الاقوامی تعاون کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔

ایسے معاملات میں ریسکیو آپریشنز، قانونی کارروائی اور قونصلر رابطہ کاری اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے میں انسانی ہمدردی اور علاقائی تعاون کی بنیاد پر کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل 15 مئی کو اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان نے امریکی کارروائیوں کے دوران سمندر سے تحویل میں لیے گئے 11 پاکستانیوں کے علاوہ ایران کے 20 شہریوں کو سنگاپور کے تعاون سے وطن واپس بھجوایا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ بیان یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ایرانی شہریوں کو کب تحویل میں لیا گیا تھا، تاہم 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد جب تہران نے جوابی کارروائیوں کے سلسلے میں آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تو امریکہ نے ایران کے کئی جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔

4  مارچ کو ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو ٹارپیڈو سے نشانہ بنا کر غرق کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں سری لنکن حکام کے مطابق کم از کم 87 افراد مارے گئے جب کہ درجنوں لاپتہ ہو گئے تھے۔

بعدازاں پانچ مارچ کو سری لنکن حکام نے کہا تھا کہ حملے کا نشانہ بننے والے ایک اور ایرانی بحری جہاز سے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

سری لنکن حکام نے 17 اپریل کو بتایا تھا کہ ایرانی بحریہ کے 238 ارکان کو واپس ایران بھیج دیا گیا ہے۔ ان میں 32 ایسے ایرانی سیلرز بھی شامل تھے، جو اس ایرانی بحری جہاز کے عملے میں شامل تھے، جسے امریکہ نے بحر ہند میں حملہ کر کے ڈبو دیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *