اٹلی میں کیٹس ۔ شیلے ہوم کی کیفیات

جون کی شدید گرمی میں املتاس کے فانوس اپنے ہی حسن کی حدت سے کمھلا رہے تھے اور سورج سوا نیزے پہ آیا ہوا تھا۔ ہوا بند تھی اور اگر چلتی بھی تو منہ جھلسا کے گزرتی تھی۔

نہ سائے میں چین تھا، نہ برآمدے میں سکھ۔ کمرے میں اے سی کی خنکی میں بند ہونے کو ذرا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لو کے جھونکوں کے ساتھ املتاس اور موتیے کے باسی پھول برآمدے کی سیڑھی پہ اڑتے پھر رہے تھے۔ نیند کا جھونکا سا آیا اور دو برس پیچھے کے ایک ایسے ہی دن کی یاد ذہن میں لو کے جھکڑ کی طرح پتے اڑاتی گرد پھینکتی گھوم گئی۔

دو ہزار چوبیس کا سال تھا اور اس برس یورپ میں گرمی ایسی پڑی تھی کہ کئی سو سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔ میری قسمت کہ آگے نہ پیچھے، عین ان دنوں میں اٹلی پہنچی۔

میریٹ اور روم میں اتنا ہی فاصلہ تھا جتنا تمنا اور تکمیلِ تمنا میں ہوتا ہے۔ اوبر والا ایک طرفہ کرایہ 45 یورو لیتا تھا۔ اس لیے روم جا کے واپس آنے کو دل نہیں چاہتا تھا اور ہوٹل آکے روم جانے کی خواہش نہیں رہتی تھی۔

ایک ایسے ہی دن جب روم جا کے واپس آنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا سپینش سٹیرز (Spanish Steps) کا رخ کیا۔ کہیں پڑھا تھا کہ یہاں کیٹس ۔ شیلے ہوم ہے۔ وہ کمرہ، وہ کھڑکی، وہ میز، وہ کرسی جسے شاعر نے مرنے سے پہلے چھوا تھا اور وہ دیواریں جہاں اس بدنصیب نے فینی کو یاد کرتے ہوئے جان دی تھی۔

اوبر والے نے ایک چوک پہ اتارا، سامنے اشارا کیا کہ وہ رہی سپینش سٹیرز، میں اس سے آگے گاڑی نہیں لے جاؤں گا۔ کیٹس یا تمہارا مطلوب جو بھی ہے اسے خود ہی ڈھونڈ لو۔ کرایہ ایپ میں کٹ چکا ہے، ٹپ دینا چاہو تو مہربانی ورنہ ( کھسماں نوں کھا)

دائیں ہاتھ ایک ادھیڑ عمر کشمیری ابلے ہوئے چیسٹ نٹ بیچ رہا تھا۔ اس سے پوچھا کیٹس ہاؤس کہاں ہے۔ اس نے کہا باجی میں نے تو کبھی نہیں دیکھا دس سال سے یہیں ہوں۔

سامنے ہی کیٹس ہاؤس تھا۔ اس مرد ناداں کو ’ایجوکیٹ‘ کرنے کی بجائے سڑک پار کی اور سفید رنگ کی اس عمارت میں گھس گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اندر خنکی تھی اور کتابوں کی مہک، جواں مرگی کی حسرت اور دھیمی آنچ کا عشق جو کیٹس اور شیلے کا خاصہ تھا۔ عشق اور موت، دو ایسے phenomenon ہیں جو ختم نہیں ہوتے۔ کسی شخص کی موت فنا نہیں، توانائی کا شکل تبدیل کر جانا ہے۔ اسی طرح عشق کی نہ ابتدا ہوتی ہے نہ انتہا۔ وہ بھی توانائی کی ایک شکل ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔

کیٹس اور شیلے کے اس مکان میں یہ دونوں کیفیات موجود تھیں۔ عشق اور موت دیواروں میں سرایت کر چکے تھے۔ میں جب کیٹس کے کمرے میں پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ ایک کونے میں ایک کرسی تھی، سامنے کھڑکی جو کھلی ہوئی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو سامنے سپینش سٹیرز تھیں۔ دائیں ہاتھ کیٹس کا بستر تھا اور اسی کے سرہانے اس کا ’ڈیتھ ماسک‘ رکھا تھا۔

کیٹس کے ہاتھ کی لکھی نظمیں، اوڈز اور خط۔ ایک دیوار پہ کیٹس کے مجوزہ مقبرے کا سکیچ تھا۔ میں کیٹس کے بستر کے سرہانے پہنچی اور جھک کے ڈیتھ ماسک کو دیکھا۔

’A thing of beauty is a joy forever‘ کہنے والے ہونٹوں کا چربہ، بند آنکھیں، وہ آنکھیں جنہوں نے فینی براؤن کے خواب دیکھیں ہوں گے۔ وہ پیشانی جس پہ ode to autumn لکھتے ہوئے شکن پڑی ہوگی۔

موت ساکت تھی، وقت دیواروں میں مقید تھا اور محبت ایک سست برقی رو کی طرح موجود تھی۔ دروازے پہ کھڑے شخص نے کسی اجنبی لہجے میں کہا کہ وہ میری تصویر کھینچ سکتا ہے۔

میں نے فون اسے پکڑایا۔ تصویریں لی گئیں۔ پھر اس نے کہا کہ یہ فرنیچر اصل نہیں۔ اصل فرنیچر تو جلا دیا گیا تھا۔ دق کا مرض ہی ایسا موذی تھا۔

اس نے شوکیس میں موجود ایک سکیچ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’Grcian urn‘۔ میں کھڑی کیٹس کے خط پڑھا کی، وہ مجھے دیکھا کیا۔ کھلی کھڑکی سے روم کی گرم ہوا اندر آرہی تھی اور سیڑھیوں پہ اجنبی درختوں کے پتے لو کے جھونکوں کے ساتھ اڑ رہے تھے۔

وقت اپنے اسی دائرے میں رکا ہوا تھا، جہاں کیٹس نے فینی براؤن کو پہلی بار دیکھا تھا۔ وقت کے اس دائرے سے کیٹس کیا کبھی نکل سکے گا؟ مرنے کے بعد بھی۔

نیچے آئی تو سوچا اس اجنبی کا شکریہ ادا کر دوں جس نے تصویریں کھینچیں۔ واپس گئی، سارے کمروں میں ڈھونڈا، ٹیرس پہ دیکھا، شیلے کے کمرے میں جھانکا، کوئی بھی نہیں تھا، کہیں بھی۔

واپس آتے ہوئے جب ویٹی کن کی فصیل کے پاس سے گزر رہی تھی تو اچانک خیال آیا کہ اس شخص کی شکل بالکل کیٹس کے ڈیتھ ماسک جیسی تھی اور کیمرہ پکڑاتے ہوئے اس کی انگلیاں برف کی طرح سرد تھیں۔

برآمدے میں اونگھتے اونگھتے اس دوپہر کا خیال آیا اور اس کے ساتھ ہی ایسی خوفناک آندھی آئی کہ رہے نام سائیں کا۔ کون کیٹس کہاں کا کیٹس؟ الگنی پہ پڑے کپڑے، شہ نشین پہ سوکھتے اچار اور امچور، سولر کی پلیٹیں اور جانے کس کس شے کی فکر میں دوڑتے دوڑتے بارش نے آلیا اور اٹلی کی وہ گرم دوپہر اپنے اسرار کے ساتھ ایک بار پھر کہیں محو ہو گئی۔

پیاری لڑکی!

میری محبت نے مجھے خود غرض بنا دیا ہے۔ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تم سے دوبارہ ملنے کے سوا مجھے ہر چیز بھول جاتی ہے۔ میری زندگی گویا وہیں آ کر رک جاتی ہے، اس سے آگے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ تم نے مجھے جذب کر لیا ہے۔

اس وقت مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں تحلیل ہوتا جا رہا ہوں۔ اگر مجھے جلد تم سے ملنے کی امید نہ ہوتی تو میں ناقابلِ بیان غم میں مبتلا ہوتا۔ مجھے تم سے دور جانے کا بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔

میری پیاری فینی، کیا تمہارا دل کبھی نہیں بدلے گا؟ میری محبت، کیا واقعی ایسا ہی رہے گا؟

ہمیشہ تمہارا

جان کیٹس

یہ رومانوی شاعر جان کیٹس کی اپنی منگیتر فینی کو 13 اکتوبر 1819 کو لکھے گئے ایک مشہور خط کے اقتباس کا ترجمہ ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *