پاکستانی کشمیر: کالعدم جے اے اے سی کے 4 رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے منگل کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے چار روپوش رہنماؤں کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

پولیس کے مطابق شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران اور امان کشمیری کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

تاہم ان کی عدم گرفتاری کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ ان افراد کی گرفتاری یا درست نشاندہی کرنے والے کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔ 

ایس ایس پی ریاض مغل نے گرفتاری کے لیے انعام کے نوٹیفکیشن کی تصدیق کی ہے۔

مطلوب افراد کون ہیں؟

دارالحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے شوکت نواز میر ایک تاجر ہیں اور بک ڈپو چلاتے ہیں۔ 

وہ مرکزی انجمن تاجران مظفرآباد آزاد کشمیر کے صدر ہیں۔

وہ 2022 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک ہوئے اور بعد ازاں مظفرآباد ڈویژن میں اس کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ 

ماضی میں مظفرآباد میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کی قیادت بھی وہ کرتے رہے ہیں۔

عمر نذیر کشمیری کا تعلق ضلع راولاکوٹ سے ہے اور وہ انجمن تاجران راولاکوٹ کے سینیئر نائب صدر ہیں۔ 

وہ جے اے اے سی کے تحت راولاکوٹ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کے ساتھ ساتھ ہائی پاور کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں بھی شریک رہے۔ 

پولیس کے مطابق عمر نذیر کشمیری تین روز قبل کھائی گلہ کے مقام پر ہونے والے ایک تصادم میں شدید زخمی ہوئے تھے اور اس وقت سے روپوش ہیں۔

ڈوڈیال میرپور سے تعلق رکھنے والے خواجہ مہران کا تعلق آزادی پسند سیاسی جماعت لبریشن فرنٹ سے بتایا جاتا ہے۔ 

انہوں نے جے اے اے سی کے احتجاجی دورانیے میں کہا تھا کہ وہ مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی تک جائیں گے۔ وہ بھی گذشتہ تین روز سے روپوش ہیں۔

سردار امان کشمیری ضلع پلندری سے تعلق رکھتے ہیں اور لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ 

جے اے اے سی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد وہ بھی منظر عام سے غائب ہیں۔

دوسری جانب محکمہ اطلاعات نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ حکومت نے شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے تقاریر، تحریری مواد، ویڈیوز اور آڈیوز کے ذریعے بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔

ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

گرفتاریاں

سرکاری ٹی وی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے۔

پی ٹی وی نے ایکس پر جاری اپنی پوسٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات سے مشکوک روابط اور حساس نوعیت کا مواد ملا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ تفتیش کے دوران ایک ملزم کی نشاندہی پر اسلحے کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا، جس میں سات خودکار ہتھیار، متعدد گرینیڈز اور دیگر عسکری ساز و سامان شامل ہے۔

حکام کے مطابق حساس تنصیبات کے نقشے، مبینہ حملوں کے منصوبے اور متعلقہ دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک مبینہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسی سے روابط کے شواہد بھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔

برآمد شدہ موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر مواد کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور اس مبینہ نیٹ ورک کی وسعت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دکانیں اور کاروبار بند

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال کے بعد آج خطے میں دکانیں اور کاروبار بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل رہی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اتوار کو راولاکوٹ میں تنظیم کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم سات افراد مارے گئے تھے۔

یہ پرتشدد صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص 12 قانون ساز نشستیں آئینی طور پر برقرار رہیں گی اور انہیں کسی آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

جے اے اے سی، جو 2003 میں قائم ہوئی، خطے کے عوام کے لیے زیادہ سیاسی حقوق اور مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔

دارالحکومت مظفرآباد اور دیگر شہروں کے رہائشیوں کے مطابق آج بیشتر بازار بند اور بس اڈے ویران رہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شٹر ڈاؤن ہڑتال میں شمولیت کے باعث تھا یا ممکنہ جھڑپوں کے خوف سے شہری گھروں تک محدود رہے۔

تنظیم نے حالیہ تشدد سے قبل راولاکوٹ سے مظفرآباد تک لانگ مارچ اور ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق میرپور میں ہزاروں افراد جمع ہوئے تاکہ راولاکوٹ جا کر مارچ میں شامل ہو سکیں۔

حکام نے مظاہرین کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ بڑے شہروں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

پولیس اور علاقائی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اتوار کی جھڑپوں کے دوران جے اے اے سی کے مسلح حامیوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جو حالیہ برسوں میں خطے کا سب سے مہلک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

گذشتہ سال بھی اسی نوعیت کے احتجاج کے دوران متعدد اہلکاروں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

علاقائی حکومت نے گذشتہ ہفتے جے اے اے سی کو امن و امان اور سکیورٹی خدشات کے باعث کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے درجنوں حامیوں کو حراست میں لیا تھا۔

خطے کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے پیر کو کہا کہ حکومت تنظیم کے نمائندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق بیشتر مطالبات پر پہلے ہی پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم مہاجر نشستوں کے خاتمے اور بعض سرکاری مراعات جیسے معاملات آئینی دائرہ کار کے باعث قانون ساز اسمبلی ہی میں طے ہو سکتے ہیں۔

یہ مہاجر نشستیں ان افراد کے لیے مختص ہیں جو دہائیوں قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور ان کا مقصد متاثرہ برادریوں کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم جے اے اے سی کے مطابق یہ نشستیں خطے سے باہر رہنے والے افراد کو غیر متناسب سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *