انڈیا کی حکومت نے نیشنل میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے پرچوں کو لیک ہونے کے خطرے کے پیش نظر ان پرچوں کو مرتب کرنے والے ماہرین کو ایک غیر معمولی اقدام کے تحت لاک ڈاؤن میں بھیج دیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق قومی اہلیت و انٹری ٹیسٹ (National Eligibility Entrance Test) یا ’نیٹ‘ کے پرچے کی تیاری، اس کی جانچ پڑتال (ماڈریشن) اور ترجمے میں شامل تمام افراد کو بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے اور موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک آلات استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
حکومت خصوصاً وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو گذشتہ ماہ انٹری ٹیسٹ منسوخ کیے جانے کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ ٹیسٹ مبینہ طور پر پرچہ لیک ہونے کے باعث منسوخ کیا گیا تھا، جس سے ڈاکٹر بننے کے خواہش مند 23 لاکھ امیدوار متاثر ہوئے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹیسٹ کی منسوخی کے بعد مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تنازعے کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال اور ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کئی نوعمر افراد نے خودکشی کر لی۔ 20 مئی کو ریاست مدھیہ پردیش میں ڈاکٹر بننے کی خواہش مند 18 سالہ لڑکی نے مبینہ طور پر نیٹ ٹیسٹ کی منسوخی کے بعد اپنے گھر میں خودکشی کر لی تھی۔
دھرمیندر پردھان نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ نریندر مودی حکومت 21 جون کو ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے، جن میں امتحانی مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے فضائیہ کے طیاروں کا استعمال بھی شامل ہے تاکہ پرچہ لیک ہونے کے واقعات سے بچا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق سوالیہ پرچہ تیار کرنے والے افراد کو ایک ’انتہائی محفوظ مرکز‘ میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ ماہرین 21 جون تک لاک ڈاؤن میں رہیں گے۔ یہ وہ دن ہے جب دوبارہ ٹیسٹ دوپہر 2 بجے سے شام 5 بج کر 15 منٹ تک لیا جائے گا۔
موبائل فون، لیپ ٹاپ، سمارٹ واچز اور دیگر مواصلاتی آلات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ تک رسائی اور بیرونی رابطوں کو بھی سختی سے محدود کر دیا گیا ہے۔ مرکز میں داخلے اور وہاں سے باہر جانے کی تمام سرگرمیوں کی کڑی نگرانی اور ریکارڈنگ کی جا رہی ہے اور صرف مجاز افراد کو رسائی حاصل ہے۔
سرکاری حکام نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ سوالیہ پرچہ تیار کرنے والوں کو الگ تھلگ رکھنا امتحانی عمل کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے کثیر سطحی سکیورٹی نظام کی پہلی تہہ ہے۔
دوبارہ ٹیسٹ سے قبل سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ نئے سوالات فروخت کے لیے دستیاب ہیں، تاہم نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے ان دعوؤں کو جعلی اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔
حکام نے اخبار کو بتایا کہ وہ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، میسجنگ ایپس اور آن لائن فورمز کی 24 گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں تاکہ جعلی سوالیہ پرچوں، غلط معلومات پھیلانے والی مہمات اور مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔‘
