مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے دیگر تاجر رہنماؤں کے ہمراہ پیر کو ایک اہم پری بجٹ پریس کانفرنس میں ملکی معیشت کی صورتحال کو ’آئی سی یو‘ میں قرار دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک اس وقت قرضوں کے بوجھ، انتظامی بدانتظامی، کرپشن اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے آئندہ وفاقی بجٹ سے کسی قسم کے ریلیف کی امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔
کاشف چوہدری نے حکومت کے 15 ہزار ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو حکومت گذشتہ سال کا ہدف پورا نہیں کر سکی، وہ اب یہ ہدف کیسے حاصل کرے گی؟
ان کے مطابق، نئے ٹیکسوں کا نفاذ دم توڑتی معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔
انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی پیدائش سے موت تک ٹیکس ادا کر رہا ہے۔
’اس وقت تاجر برادری 27 مختلف اقسام کے ٹیکس، لائسنس فیسیں اور دیگر سرکاری مطالبات پورے کر رہی ہے۔‘
ایف بی آر کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاجروں کو محض ٹیکس کلیکشن ایجنٹ بنا دیا گیا ہے اور ’ہراسانی کا ایک نظام رائج ہے۔‘
پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) کے ذریعے چھاپوں اور معمولی غلطیوں پر دکانیں سیل کرنے کو انہوں نے ’معاشی دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ انکم ٹیکس کے 45 سے 60 فیصد کے سلیب کم کیے جائیں اور ٹیکس چھوٹ کی حد کو 15 لاکھ روپے تک بڑھایا جائے۔
پریس کانفرنس کے دوران صنعت و تجارت کی بحالی کے لیے تاجر رہنماؤں نے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
کاشف چوہدری نے بجلی کے بلوں میں موجود ٹیکسوں اور سلیب سسٹم، خاص طور پر 200 اور 201 یونٹ کے درمیان قیمت کے بڑے فرق کو عوام پر ظلم قرار دیا۔
انہوں نے آئی پی پیز کو دی جانے والی 2500 ارب روپے کی ’کیپسٹی پیمنٹس‘ کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز دی کہ مزید مہنگے معاہدوں کی بجائے ہائیڈرل، ونڈ اور نیوکلیئر جیسے سستے ذرائع پر توجہ دی جائے۔
پریس کانفرنس میں سودی نظام کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ، یعنی تقریباً 87 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے۔
تاجروں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو فوری طور پر چھ فیصد پر لایا جائے تاکہ حکومتی اخراجات میں 3500 ارب روپے کی کمی ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں صرف ایک فیصد اضافہ عوام پر 562 ارب روپے کا بوجھ ڈالتا ہے۔
حکومتی فضول خرچیوں پر تنقید کرتے ہوئے کاشف چوہدری نے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی سے متاثر ہیں اور دوسری طرف اشرافیہ شاہانہ پروٹوکول اور مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افسران ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کی تنخواہ اور مراعات لے رہے ہیں جو ملک کے لیے بوجھ ہیں۔
تاجروں نے مطالبہ کیا کہ وی آئی پی کلچر اور بیرونی دوروں پر پابندی لگائی جائے۔
مزید برآں، ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی تجویز دی گئی تاکہ وفاق کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے ترقیاتی بجٹ میں 50 فیصد کمی کی تجویز بھی دی کیونکہ ان کے بقول اس کا 70 فیصد حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے ایک پریس ریلیز میں مالیاتی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے انتہائی اہم اور دور رس مطالبات پیش کیے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چیمبر کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے حکومت کو اپنی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
کراچی چیمبر کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ بجٹ میں شامل تمام ایسے اقدامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے جو کاروبار اور صنعت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
چیمبر کے مطابق ’کاروبار مخالف اقدامات‘ نہ صرف سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں بلکہ موجودہ صنعتی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ پیدا کر دیتے ہیں۔
پریس ریلیز میں زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے زور دیا کہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے یا پیچیدہ ریگولیٹری اقدامات کی بجائے سہولت کاری پر توجہ دی جانی چاہیے۔
پریس ریلیز کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حکومت کو ماضی کی معاشی پالیسیوں کو دہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔
چیمبر کی قیادت کا ماننا ہے کہ ماضی میں بار بار کی جانے والی غلطیوں نے ملکی صنعت کو نقصان پہنچایا، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔
’کاروبار دوست اقدامات کو ترجیح دینا ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے معیشت کو پٹڑی پر لایا جا سکتا ہے۔‘
کراچی چیمبر کی کلیدی قیادت نے، بشمول زبیر موتی والا اور ریحان حنیف، حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ پالیسی سازی کے عمل میں سٹیک ہولڈرز، خاص طور پر تاجر برادری، کو شامل کرے۔
ان کے مطابق جب تک پالیسیاں زمینی حقائق اور کاروباری ضروریات کے مطابق نہیں ہوں گی، وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گی۔
ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ مالیاتی پالیسیوں کا مرکز ’پروڈکشن‘ اور ’ایکسپورٹ‘ ہونا چاہیے تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آ سکے۔
